ستار صاحب کی بیگم نے کچن میں کھانے پکانے کے جوہر دکھائے تو سبھی عش عش کر اُٹھے۔ میز پر لگائی گئی ڈشز ”ساگ“ تو جناب سب سے نمبر لے گیا 

 ستار صاحب کی بیگم نے کچن میں کھانے پکانے کے جوہر دکھائے تو سبھی عش عش کر ...
 ستار صاحب کی بیگم نے کچن میں کھانے پکانے کے جوہر دکھائے تو سبھی عش عش کر اُٹھے۔ میز پر لگائی گئی ڈشز ”ساگ“ تو جناب سب سے نمبر لے گیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:34
میرے ذہن میں ستار صاحب کا چہرہ مہرا دُھندلا چکا تھا۔ کافی سال پہلے وہ یہاں کینیڈا سے دلبرداشتہ ہو کر واپس پاکستان چلے گئے تھے اور وہاں ڈیفنس سوسائٹی کی مین مارکیٹ میں ایچ بلاک میں اُن کا ایک بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر "Rent A Car" کا دفتر تھا۔ وہاں مجھے بھی ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق تو ضرور ہوا تھا۔ لیکن ستار صاحب کا چہرہ مہرہ اچھی طرح ذہن نشین نہ کر پایا تھا صرف اتنا یاد تھا کہ ستار صاحب چھوٹے قد کے ایک کلین شیو نوجوان ہیں۔ وہاں جو گھر سے ستار صاحب نکلے تو جناب ایک ”صوفی مجسّم“ کھچڑی سی داڑھی سائز درمیانہ اور سر کے بالوں کی لمبائی بھی داڑھی سے مطابقت کھاتی، جسم بھی گوشت کے اللّے تللّوں سے مُبّرا۔ دھان پات سا۔ 
مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ زیادہ نشست تو نہ ہوسکی۔ فوراً مغرب کی نماز کے لیے مسجد کی طرف گاڑی میں چل دئیے۔ جامع مسجد "Scar Borough" سادگی میں ڈوبی ایک بڑا "Warehouse" خرید کر بنوائی گئی تھی۔ ساتھ واجبی سی پارکنگ بھی ہے۔ بڑا ہال جو جمعہ کی نماز کے لیے کافی ہوگا۔ وہاں 3 سطروں میں نمازیوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ دعا کے بعد سنتیں ادا کر کے واپس آگئے۔
گھر کا اندرونی منظر نامہ بھی اچھّا تھا۔ بات جو آگے بڑھی تو پھر پتہ چلا کہ یہ ستار صاحب تو وہ مہربان ہیں کہ جب میرا بیٹا طارق کامران یہاں کافی سال پہلے کینیڈا میں سفر کے دوران ایک حادثے سے دوچار ہوا اور اُس کی ساس راہ ملک عدم ہوئیں تو یہ ستار صاحب ہی تھے جنہوں نے اُن کو یہاں بلایا اور اُن کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری لی اور پھر طارق بیٹے کی فیملی کو بھی کچھ وقت کے لیے گھر میں جگہ دی اور خاطر مدارت کی۔
ستار صاحب کی بیگم ایک ہنس مُکھ خاتون تو ہیں ہی، انہوں نے کچن میں کھانے پکانے کے جوہر دکھائے تو سبھی عش عش کر اُٹھے۔ میز پر لگائی گئی ڈشز، مٹن قورمہ، چکن قورمہ، روسٹ، کباب، حلیم، سلاد، دو قسم کی چٹنیاں، پلاؤ اور ”ساگ“ تو جناب سب سے نمبر لے گیا اتنا لذیذ کہ بس کھاتے ہی کھاتے جاؤ اور کوک سپرائیٹ وغیرہ اور پھر میٹھے میں آئس کریم۔پھر چائے کا دَور چلا اور گزرے وقتوں کی یادیں تازہ ہوتی رہیں۔ 
ستار صاحب کی 2بیٹیاں تو شادی شدہ ہیں۔ ایک بیٹی جو گھر میں ہے وہ بطور ٹیچر جاب کر رہی ہے۔ اُن کے ہاتھ کے بنے دیواروں کے ساتھ آویزاں شاہ پارے بتا رہے تھے کہ وہ ایک سلجھی ہوئی آرٹسٹ ہیں۔ ستار صاحب کا لڑکا ماشاء اللہ جو بہن سے چھوٹا ہے کافی خوبصورت و توانا، سکول میں زیر تعلیم ہے۔
بیٹی کی ایک چارٹ کی صورت میں آویزاں خوبصورت تحریر دل کو بھائی آپ بھی لطف اُٹھائیں۔

نیک تمنّاؤں کے ساتھ ”صوفی ستار صاحب“ سے رخصت چاہی۔ گاڑی میں سوار ہو کر اُسی Highway 401 سے واپسی ڈال دی اور کوئی 11 بجے گھر پہنچے۔ اور جلد ہی اپنے اپنے بیڈز کی راہ لی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -