پاکستان پیپلزپارٹی اور خواتین کی فلاح و بہبود کے اقدامات

پاکستان پیپلزپارٹی اور خواتین کی فلاح و بہبود کے اقدامات
پاکستان پیپلزپارٹی اور خواتین کی فلاح و بہبود کے اقدامات

  

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے شروع سے ہی خواتین کے سیاست میں حصہ لینے کے حق کی پُرزور حمایت کی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں بیگم نسیم جہاں کو رُکن بنایا گیا۔ چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے زیر ِ قیادت جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمہ کی اولین پاکستانی تحریک میں لاہور کی بیگم آباد احمد خاں اور مسز آئمہ حسن نے ہر اول دستے میں شامل ہوکربڑی دلیری اور بہادری سے سیاسی جدوجہد میںانتہائی نمایاں کردار ادا کیا.... 1971ءمیں زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد قائد عوام چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے خواتین کو اہم عہدوں پر فائز کرنے کی روایت کی بنیاد رکھی۔بیگم رعنا لیاقت علی کو سندھ کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ڈاکٹر اشرف عباسی کو قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر اور ڈاکٹر کنیز یوسف کو قائداعظم یونیورسٹی کی وائس چانسلر بنایا گیا۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے گئے۔ نرگس نعیم سندھو ( لائل پور، موجودہ فیصل آباد) ، نفیسہ فاروقی (جھنگ) سمیعہ عثمان (گجرات) کو سینیٹر اور بہاولپور سے تعلق رکھنے والی بلقیس حبیب اللہ کو پہلے پنجاب اسمبلی اور بعد ازاں قومی اسمبلی کا رکن منتخب کروایا گیا۔ چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ءکے دستور میں آرٹیکل 25 کے تحت خواتین کو معاشرے میں مساوی حیثیت اورتمام بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی۔ آرٹیکل 34 میں زندگی اور سماج کے ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور شرکت کی حمایت کی گئی۔ دستور کی ان دفعات نے پاکستانی خواتین کے روشن مستقبل کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی، جس پر ان کی ترقی، فلاح و بہبود اور مساوی حقوق کی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔ جب بھی پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے مثبت اقدامات کئے گئے اور سیاسی و معاشرتی سطح پر انہیں قومی دھارے میں لانے کے لئے کوششیں کی گئیں۔ اگر مَیں ان تمام اقدامات کا ذکر کروں تو یہ آرٹیکل بہت طویل ہو جائے گا۔ مَیں صرف انتہائی اہم باتوں کا تذکرہ کروں گا۔  1975ءمیں میکسیکو میں ہونے والی خواتین کی پہلی کانفرنس میں بیگم نصرت بھٹو نے پاکستان کی نمائندگی کی اورمستقبل میں پاکستانی خواتین کے کردار کے بارے میں ایک جامع لائحہ عمل پیش کیا۔ بیگم نصرت بھٹو نے 1970 ءکے عام انتخابات میں خواتین کے بھرپور کردار کو دیکھتے ہوئے پارٹی میں شعبہ¿ خواتین کی بنیاد رکھی، جس کی وہ اولین سربراہ تھیں۔ چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بیگم نصرت بھٹو پاکستان کے سیاسی مستقبل میں خواتین کا ایک اہم کردار دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے اس خواب کو اُن کی دلیر اور بہادربیٹی محترمہ بینظیر بھٹو نے شرمندہ ¿ تعبیر کیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر بحالی جمہوریت کے لئے جس بہادری سے سیاسی جدوجہد کی قیادت کی، وہ ہماری تاریخ کا لافانی باب ہے۔ حبیب جالب مرحوم نے بی بی شہید کے لئے اس طرح خراجِ تحسین پیش کیا تھا: ”ڈرتے ہیں بندوقوں والے، ایک نہتی لڑکی سے“۔1988 ءکے انتخابات کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو صرف 35 سال کی عمر میں عالم ِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں ۔ جنرل ضیاءالحق کے انسانیت دشمن اور خواتین مخالف دور کے بعد ایک خاتون کا وزیراعظم بننا ملک بھر کی خواتین کے لئے ہوا کے ایک تازہ جھونکے کے مترادف تھا۔ ان کے دور میں خواتین کو معاشرے کا کارآمد اور مفید حصہ بنانے کے لئے بے شمار اقدامات کئے گئے، جس میں فرسٹ ویمن بینک کا قیام، خواتین کے لئے الگ پولیس اسٹیشن، منسٹری آف ویمن ڈویلپمنٹ ، بیجنگ کانفرنس میں تاریخی کردار اور CEDAW پر دستخط شامل ہیں۔ چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ڈی ایم جی سروسز خواتین کے لئے کھولی تھیں۔ بی بی نے ہائی کورٹ میں پہلی بار خاتون جج کا تقرر کیا۔ ان اقدامات نے خواتین کے لئے پاکستان میں ایک نئی راہ کا تعین کیا اور انہیں برابر کے شہری ہونے کا یقین دلایا۔  مارچ 2008 ءمیں پاکستان ایک کٹھن دور سے گزر رہاتھا۔ پے در پے مارشل لائ، عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے ملک کمزور ہوچکا تھا۔ بی بی کی شہادت کے صدمے اور اتنے بڑے قومی نقصان سے نکلنا آسان نہیں تھا، جب مجھے وزیراعظم منتخب کیا گیا تو مَیں نے بی بی کے فلسفے کو سامنے رکھا۔ خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود میرا مشن بن گیا۔ سیاست میں خواتین کے کردار کو مو¿ثر بنانے کے لئے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھی میرا بھرپور ساتھ دیا۔ محترمہ فہمیدہ مرزا کو پہلی خاتون سپیکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ مَیں نے بحیثیت وزیراعظم قومی اسمبلی ویمن کو کس (WCP) بنانے کے عمل میں پورا ساتھ دیا۔ ویمن ”کوکس“ کا قیام اور خواتین کے مسائل کے حل کے لئے باہمی رضامندی سے فیصلے اور ان کی ترقی کے لئے مشاورت کی جاتی رہی۔ قومی اسمبلی میں ہی WCP کا دفتر قائم کیا گیا۔ مَیں نے ہمیشہ یہی کہاکہ خواتین میرا حلقہ ¿ انتخاب ہیں اور مَیں ان کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہوں۔2008ءکے انتخابات میں قومی اسمبلی میں 72 خواتین ممبران آئی تھیں، جنہیں مختلف کمیٹیوں میں نہ صرف شامل کیا گیا، بلکہ ان کو کئی کمیٹیوں کی سربراہی بھی دی گئی.... مثلاً قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے حقوق نسواں کی چیئرپرسن بشریٰ گوہر ، ڈیفنس کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ، لاءاینڈ جسٹس کمیٹی کی سربراہ بیگم نسیم اختر چودھری ، انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کمیٹی کی سربراہ بیگم بیلم حسنین، پبلک اکا¶نٹس کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن یاسمین رحمن اور سینیٹ میں انٹر پراونشل کوآرڈینیشن کمیٹی کی سربراہ فرح عاقل کو بنایا گیا۔ شیری رحمن، فرزانہ راجہ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، شگفتہ جمانی ، ثمینہ خالد گھرکی کو وفاق میں وزارتیں دی گئیں اور پہلی بار حنا ربانی کھر کو وزارت خارجہ کا اہم ترین محکمہ دیا گیا۔ شہناز وزیر علی خواتین، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں میری خصوصی معاون رہیں۔ نفیسہ شاہ کو نیشنل کمیشن آن ہیومین ڈیویلپمنٹ (NCHD) کی سربراہی دی گئی۔ سندھ اسمبلی میں سیدہ شہلا رضا کو ڈپٹی سپیکر بنایا گیا۔میری حکومت کا ایک اہم کارنامہ قومی کمیشن برائے حیثیت خواتین (NCSW) کو مکمل طور پر بااختیار بناناہے۔ یہ شہید بی بی کا وژن تھا، جسے مَیں نے پایہ¿ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ کمیشن 2000 ءمیں ایک آرڈیننس کے ذریعے بنایا گیا تھا اور منسٹر آف ویمن ڈیویلپمنٹ کے زیرِ نگرانی کام کر رہا تھا۔ خواتین کا مطالبہ تھا کہ اس کمیشن کو دُنیا کے دیگر ممالک کی طرح مکمل خود مختاری دی جائے۔ مَیں نے جو کمیشن تشکیل دیا تھا، اس کی چیئرپرسن انیس ہارون تھیں۔ مَیں نے اس کمیشن کو خودمختار ادارہ بنانے میں پورا تعاون کیا اور قومی اسمبلی سے قانون منظور کروایا۔ 18ویں ترمیم کے بعد منسٹری آف ویمن ڈیویلپمنٹ تحلیل کردی گئی اور اب قومی کمیشن ہی پالیسی اور قانون سازی میں خواتین کے حقوق کا محافظ وفاقی ادارہ ہے۔ خواتین کے مسائل حل کرنے کے لئے پہلی بار خاتون محتسب مسرت ہلالی ایڈووکیٹ کا تقرر کیا گیا۔  عورتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بہت سے قوانین میرے دورِ حکومت میں بنے اور یہ تمام قوانین متفقہ طور پر قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہوئے ہیں۔ خواتین کے لئے جو قانون منظور ہوئے ان میں....                Acid crimes, protection against harasment, women in distress, Anti women practices act اور خودمختار خواتین کمیشن کا قانون شامل ہے۔ گھریلو تشدد کے خاتمے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا، لیکن بد قسمتی سے یہ بل سینٹ میں کچھ ممبران کے اختلاف کا شکار ہو گیا۔ مَیں نے اس میں بھی دلچسپی لی اور یاسمین رحمن کی سربراہی میں ایک مصالحتی کمیٹی بنادی گئی، اس کمیٹی نے اپنا کام تقریباً مکمل کرلیا تھا، مگر اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے اس کی تکمیل نہ ہوسکی، اب ایک اور مسودہ زیر غور ہے اور میری خواہش ہے کہ موجودہ قومی اسمبلی سے گھریلو تشدد کے خاتمے کا بل بھی منظور ہوجائے۔ مَیں نے اپنی بیٹی فضاءبتول گیلانی کو عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے کے لئے متعین کیا تھا، وہ ان امور میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے دوران 12فروری کوعوام دوست اور جمہوریت پسند خواتین نے قانونِ شہادت کے خلاف لاہور میں مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر پُرامن خواتین کو بدترین پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2009 ءمیں قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں نے پہلی بار سرکاری سطح پر لاہور کی خواتین کی اس مزاحمتی تحریک کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا۔ مَیں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ میری وزارت عظمیٰ کے دوران ہر سال 8 مارچ بین الاقوامی یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا اور مَیں خود اس پروگرام میں شریک ہوتا۔ اس کے علاوہ خواتین کے حقوق سے آگاہی کے لئے اور ان کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والی تمام تقاریب میں شرکت کی حتیٰ المقدور کوشش کرتا۔زراعت ایک اہم شعبہ ہے، جس میں دیہی خواتین کی اکثریت شامل ہے۔ میرے دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں ہاری خواتین میں زمین تقسیم کی اور مالکانہ حقوق دیئے۔ یہ ایک بہت بڑا انقلابی قدم ہے۔ امید ہے کہ دوسرے صوبے بھی ایسے ہی اقدامات کریں گے۔ قومی کمیشن کی سفارش پر میری حکومت نے 15 اکتوبر کو دیہی خواتین کا دن قرار دیا۔ خواتین کی معاشی حالت بہتر بنانے، انہیں معاشی طور پراپنے پا¶ں پر کھڑا ہونے اور باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجراءکیا گیا، جس سے لاکھوں خواتین فیضیاب ہورہی ہیں۔ دُنیا کے کئی ممالک اس پروگرام کو بطور ”رول ماڈل“ اپنانے کے خواہاں ہیں۔ 

مَیں جانتا ہوں کہ اب بھی خواتین کے بے انتہا مسائل ایسے ہیں، جن کا حل سماجی اور معاشرتی روایات کے بدلنے ، تعلیم اور روشن خیالی کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ کارو کاری ، کم عمری کی شادی ، وٹہ سٹہ ، ونی جیسی رسمیں فرسودہ نظام کی باقیات ہیں۔ ہمیں یہ سب بدلنا ہوگا تاکہ خواتین کو پاکستان میں ان کا جائز مقام ملے اور ان کی سماجی اور معاشرتی حیثیت مستحکم ہو۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے بہتر ، باعزت اورباوقار مواقع ملنے کے علاوہ خواتین کی سیاست میں زیادہ سے زیادہ شمولیت ان کو بااختیار بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں جمہوریت پروان چڑھے گی اور جمہوریت مستحکم ہوگی خواتین کی سیاست میں زیادہ شمولیت ہوگی اور سیاسی اداروں میں خواتین کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔ یہی قائد عوام چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی بے نظیر بھٹو شہید کا وژن اور مشن تھا۔ مَیں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے جس حیثیت میں بھی کام کروں، اس مشن کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جدوجہد کرتا رہوں گا۔ ٭

مزید :

کالم -