پاکستان میں ترک سرمایہ کاری اور پی ٹی بی اے کا کردار

پاکستان میں ترک سرمایہ کاری اور پی ٹی بی اے کا کردار
پاکستان میں ترک سرمایہ کاری اور پی ٹی بی اے کا کردار

  

پاک ترک بزنس مین ایسوسی ایشن(پی ٹی بی اے) پاکستان اور ترکی کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے جولائی 2010ءسے پاکستان میں کام کررہی ہے۔ یہ پاکستان کے کمپنی آرڈیننس 1984ءکی شق 32کے تحت قائم ہوئی ہے اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور بغیر کسی مالی منفعت کے کام کررہی ہے۔پاک ترک بزنس مین ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) اب تک ترکی سے 500سے زائد نمایاں اور بڑی کمپنیوں کے مالکان، ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹوز کو پاکستان مدعو کرچکی ہے اور تقریباً 500سے زائد پاکستانی نمایاں اور بڑی کمپنیوں کے مالکان، ڈائریکٹرز،چیف ایگزیکٹوز اور نمائندوں کو ترکی لے جا چکی ہے۔ ایسوسی ایشن کے توسط اور کوششوں سے اب تک پاکستان میں ایک ہزار ملین ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ایسوسی ایشن ترک اور پاکستانی تاجروں، سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور کاروباری شخصیتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، تجارت اور سرمایہ کاری کرنے، آپس میں ملنے جلنے اور کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور بلا معاوضہ ترکی اور اردو میں تراجم کی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں میں سیاحت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ایسوسی ایشن کی کاوشوں کی وجہ سے بہت سے باہمی معاہدے عمل میں آ چکے ہیں اور آپس میں کاروبار، لین دین، تجارت، سرمایہ کاری ،درآمدات و برآمدات عملی طور پر شروع ہے۔ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ دونوں دیرینہ دوست اور برادر ملکوں کے لوگوں کو کاروبار کے ذریعے ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ کافی حد تک اپنی اس کوشش میں کامیاب رہے ہیں۔ایسوسی ایشن کی دعوت پر ترکی سے اکثر و بیشتر تجارتی اور سرمایہ کاری وفود پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں اور یہاں پاکستان سے بھی وفود ترکی جاتے رہتے ہیں۔ترکی اور پاکستان کے درمیان فی الوقت ایک بلین ڈالرز کی باہمی تجارت، کاروبار اور لین دین ہورہا ہے۔اس میں 600ملین ڈالرز کی اشیاءپاکستان سے ترکی اور تقریباً 400ملین ڈالرز کی اشیاءترکی سے پاکستان آتی ہیں،یعنی تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے۔دونوں ممالک نے آپس کی اس تجارت کا حجم 2بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔پاک ترک بزنس مین ایسوسی ایشن اس حوالے سے اپنی خدمات اور کوششیں کررہی ہے کہ اس ہدف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ترکی آٹو موبائل ہر قسم کی مشینری، کیمیکل، سیاحت، تعلیم، پھل سبزیاں، پلاسٹک، سٹیل، پرزہ جات، غذائی اجناس و ضروریات، خوردنی تیل، تعمیرات، انجینئرنگ، بسیں، گاڑیاں،کاریں، قالین، گلاس، پائپ، گھریلو مصنوعات، توانائی جہاز رانی، ٹیکسٹائل کی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی وغیرہ کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کرسکتا ہے، جبکہ ترکی پاکستان سے ہر قسم کا خام مال، ٹیکسٹائل کی مصنوعات، آلات جراحی، کھیلوں کا سامان، زرعی اجناس، افرادی قوت، سبزیاں، گوشت اور گوشت کی مصنوعات، ڈیری اور دودھ کی مصنوعات،کوئلہ، جسپم،نمک،سنگ رو اور دیگر قیمتی پتھر وغیرہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ماضی میں ترک تاجروں کا مرکزِ نگاہ یورپ رہا ہے، لیکن پاک ترک بزنس مین ایسوسی ایشن کی وجہ سے اب ترک تاجر، سرمایہ کار اور صنعت کار پاکستان کا بھی رخ کررہے ہیں اور یہاں بھی تجارت اور سرمایہ کاری کررہے ہیں، جو ایک اچھا آغاز ہے۔ترک سرمایہ کاروں اور تاجروں کے آنے کی وجہ سے ہمیں بہت سے فوائد حاصل ہوں گے، مثلاً ہماری دیرینہ دوستی اور بھائی چارہ مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا۔غیر ملکی سرمایہ اور ڈالرز کی وجہ سے مقامی اور ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔روپے کی قدر میں بہتری آئے گی۔ہزاروں لوگوں کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔جدید مشینری، ٹیکنالوجی اور تجربہ یہاں آئے گا۔مقامی تاجروں اور مارکیٹ کو بھی فائدہ ہوگا اور دنیا میں پاکستان کا پُرامن اور سرمایہ کاری کے لئے پُرکشش اور جاذب ہونے کا تاثر ابھرے گا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ترک تاجر اور سرمایہ کار اپنے سرمایہ اور تجارت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کاروبارسے نفع لیں گے اور پیسہ کمائیں گے، لیکن یہ بھی ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ترک کم از کم مسلمان اور ہمارے بھائی ضرور ہیں، اس سے کم از کم کوئی بیگانہ تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔مثال کے طور پر اس وقت لاہور میں ترکی کی دو بڑی کمپنیاں شہر کی صفائی اور کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کام کررہی ہیں۔ گزشتہ رمضان کے مہینے میں ان ترک کمپنیوں نے جہاں اپنے مقامی ہزاروں ملازمین کو رمضان راشن اور عید راشن فراہم کیا، وہاں پورا مہینہ لاکھوں لوگوں کے لئے ،سحری اور افطاری کا بھی اہتمام کرتے رہے ۔یہی نہیں، بلکہ لاہور کی تمام بڑی مساجد کو ان ترک کمپنیوں نے غسل دیاصاف کیا اور چمکایا۔مسجد داتا دربار ہو یا علامہ اقبالؒ کا مزار، بادشاہی مسجد ہو یا مسجد وزیر خان و مقبرئہ جہانگیر سب کی ایمانی جذبے کے ساتھ صفائی ستھرائی کی۔یہاں آپ سوچئے کہ یہی کام اگر کسی غیر مسلم کمپنی کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ مسجدوں اور مزاروں کا رخ تک نہ کرتے اور رمضان کے روزے اور عید کا راشن بھی ان کے ذہن میں نہ آتا، ان ترک کمپنیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے ترک مالکان کی جانب سے یہ حکم ہے کہ پاکستان میں کام، کاروبار اور منافع کی نیت سے نہیں، بلکہ بغیر نقصان کے دوست ملک پاکستان اور اس کے عوام کی خدمت کی خاطر ہر کام کرتا ہے۔پیسے کمانے کے لئے اور کئی ممالک ہیں اور دوسرے بڑے کام اور طریقے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں پیسے کمانے نہیں، بلکہ محبت اور عزت کمانے آئے ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی ترک کمپنیاں بہت خوش ہیں۔کم از کم پنجاب کی سطح پر یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ مطمئن ہیں اور مزید سرمایہ کاری کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی ترکی کی ترقی، پیش رفت، تجربے، ٹیکنالوجی، مشینری، جذبہ ءخیرسگالی اور کاروباری اخلاقیات سے کچھ سیکھیں، فائدہ اٹھائیں اور اپنی معیشت اور اقتصادیات کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ترک تاجر دنیا کے ہر کونے میں مقامی معیاری اپنی مصنوعات کو متعارف کرانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ترک حکومت نے بھی اپنے تاجروں اور کاروباری حضرات کو بہت سی سہولتیں اور فائدے دیئے ہوئے ہیں۔70سے زائد ممالک کے ساتھ ترکی کے ویزہ فری معاہدے ہیں۔اعلیٰ حکومتی عہدیدار جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ سینکڑوں مقامی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو لے جاتے ہیں۔سرکار ان کی سرپرستی کرتی ہے۔ترکی کی معیشت روزبروز ترقی کررہی ہے۔یونان اور یورپ سے لوگ ملازمت ،تجربے اور کاروبار کی غرض سے ترکی کا رخ کررہے ہیں۔ترکی ایک بڑی پُرکشش اور جاذب منڈی اور سرمایہ کاری کرنے کی جگہ اور مرکز بنتا جارہا ہے۔ترک لوگ محنتی اور ذہین ہیں، وہ کاہل اور سست نہیں ہیں، وہ کم از کم روزانہ 10سے بارہ گھنٹے اوسطاً کام کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک ترک تاجر اور سرمایہ کار سے بات ہوئی۔اپنی کمپنی کی تاریخ اور مقصد بتاتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ 1980ءمیں ہم نے ایک خواب بُنا کہ بغیر سود اور ملاوٹ کے حلال کام کریں گے۔اس کے لئے انہوں نے بہت محنت اور تگ و دو کی۔کچھ ہی سال میں انہوں نے ترکی میں موجود امریکن فیکٹری کو خرید لیا اور آج وہ اپنے کاروباری فلسفے اور مشن کی وجہ سے ترکی میں اپنے شعبے میں سرفہرست ہیں اور آج یورپ میں بھی ان کی فیکٹریاں ہیں اور اپنا مال یورپ کو بیچ رہے ہیں۔اس کے ساتھ بہت سے فلاحی منصوبوں میں بھی اپنی حلال رقم خرچ کرتے ہیں، تاکہ ان کے سرمایہ کا عام عوام کو بھی فائدہ ہو۔جہاں تک وطن عزیزپاکستان کی بات ہے تو ہمیں اس ضمن میں ترک تاجروں، سرمایہ کاروں سے سیکھنا ہوگا کہ وہ کیسے کاروبار کرتے ہیں؟ترک حکومت کی پالیسیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔خوشی کی بات یہ ہے کہ ترکی ہمارا مخلص دوست ملک اور ترک ہمارے بھائی ہیں، جو اپنا تجربہ، مشینری، ٹیکنالوجی، اخلاقیات،سرمایہ سب کچھ ہم سے شیئر کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ہمیں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہوگا۔آخر ہم کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے مایوس بیٹھے رہیں گے۔یقین کیجئے ہم دنیا کی محنتی اور ذہین قوموں میں سے ایک ہیں۔ہمیں اس پر یقین کرکے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم خود اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔اپنے حصے کی کوشش ضرور کیجئے گا۔باقی نتیجہ تواللہ کی ذات کے پاس ہے ،جو کبھی کسی سے ناانصافی نہیں کرتا اور وہی عطا کرتا ہے ،جس کی انسان کوشش کرتا ہے....اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو(آمین)

مزید :

کالم -