کیا جنگیں مسائل کا حل ہوتی ہیں؟

کیا جنگیں مسائل کا حل ہوتی ہیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


گزشتہ دنوں ہمسایہ ملک بھارت کے ایک ٹی وی چینل پر ایک ٹاک شو دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں وہاں کے سیاستدان اور دانشور حصہ لے رہے تھے۔ اس وقت جاری مذاکرے میں ”سیز فائر“ کا موضوع چل رہا تھا، جس پر اس چینل پر براجمان انڈین سیاستدان اور دانشور پاکستان کے خلاف جس طرح کا زہر اگل رہے تھے، خدا کی پناہ! سوائے ایک صاحب کے جو اپنے مﺅقف پر قائم رہے کہ گزشتہ برسوں کے معاملات کو بھلا کر پاکستان اور بھارت دونوں کو نئے دور کا آغاز کرنا ہو گا، یہی بات دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، لیکن باقی تمام افراد کا نقطہ نظر ان سے قطعی طور پر الگ تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان صرف اس وقت ہی قابو میں آئے گا کہ اسے اندر گھس کر مارا جائے، جس پر دوسرے صاحب نے بیان جاری کیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا، کیونکہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کا گھر پاکستان کے ایک گاﺅں میں ہے اور پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا گھر بھارت میں، مطلب اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔

خیر اسی طرح ایک اور صاحب نے فرمایا کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ پاکستان کو سیاچن کا علاقہ بھی دینا چاہتے تھے، لیکن فوج نہ مانی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فرمایا کہ بھارت کشمیر کے معاملے پر سخت ترین رویہ اختیار کرے، اگر بھارت تھوڑی سی بھی ہمت کر لے، تو پاکستان جو ایک ڈرپوک ملک ہے، وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے گا، جبکہ ایک اور صاحب نے فرمایا کہ مغربی دانشوروں نے انڈین عوام اور حکمرانوں کو ڈرایا ہوا ہے کہ پاکستان نیوکلیئر حملہ کر دے گا، لیکن پاکستان نیوکلیئر حملہ کرنے کی جرا¿ت ہی نہیں کر سکتا، کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو بھارت بھی نیوکلیئر حملہ کر دے گا، جس کے نتیجے میں خدانخواستہ پاکستان کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ اب یہاں پر ہم وضاحت کرتے جائیں کہ نہ تو پاکستان ایک ڈرپوک ملک ہے کہ بھارت اندر گھس کر مارے۔ یہ تو محض ایک دیوانے کا خواب ہے، اگر بھارتی سیاست دانوں کو اتنا ہی شوق ہے تو .... وہ ایسا بھی کر کے دیکھ لیں، پتہ چل جائے گا کہ بھارتی سورما کتنی دیر پاک فوج کے سامنے ٹھہرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان نیو کلیئر حملہ کا ارادہ رکھتا ہے اگر ایسا ہو بھی ہو جائے، تب بھی پتہ چل جائے گا کہ کس کے ایٹم بم میں کتنی طاقت ہے، لیکن پاکستان پوری دنیا میں امن کا علمبردار ہے نہ کہ جنگوں کا حامی۔
ہم یہاں پر عرض کرنا چاہیں گے کہ پاکستان اور بھارت کی کل آبادی لگ بھگ سوا ارب بنتی ہے، اتنی بڑی آبادی پر چند افراد اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کے لئے عوام کے جذبات کو بھڑکا کر اور ان کے درمیان انہی سیاستدانوں کی پیدا شدہ خلیج کو مزید وسعت دینے کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ان سیاستدانوں کی سوچ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، کم ہے۔ حالات و واقعات گواہ ہیں کہ پاکستان اور بھارت چند غلط فہمیوں کی بنیاد پر لگ بھگ تین بار جنگیںکر چکے ہیں، لیکن سوائے انسانی جانوں کے ضیاع اور وسائل کی بربادی کے کیا حاصل ہوا؟ ہم آج بھی اسی نقطہ نظر کے قائل ہیں کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں۔
قارئین محترم! دہشت گردی، بم دھماکے، قتل و غارت، مہنگائی، بےروزگاری اور غربت و افلاس کیا پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ مسائل نہیں ہیں، کیا ان تمام مسائل کا حل مذاکرات نہیں ہیں؟ یا بارود کا وہ ڈھیر ہے، جسے اگر ہلکی سی چنگاری بھی دکھا دی جائے تو لاکھوں افراد لقمہ اجل بن جائیںگے۔ یہاں پرہمارا مشورہ یہ ہے کہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی خاطر وسائل کو اس بارود کے ڈھیر کو بڑھانے پر جھونکنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کیا جائے تو اس کے زیادہ خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں گے، لیکن پڑوسی ملک جس طرح ہر سال جنگی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے، یہاں سے اس کے جنگی جنون کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان مسائل کے حل کے لئے مذاکرات پر ہی یقین رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف دن رات کوشاں ہیں کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے دونوں ہمسائے ٹھوس حکمت عملی اختیار کریں۔
دوسری طرف اس قسم کے مذاکرے سن کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کے اقدامات کو سبوتاژ کرنے کے لئے چند مفاد پرست سیاست دانوں کا ٹولہ پورے زور و شور کے ساتھ برسر پیکار ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ اپنی سیاسی بقا کے لئے عوام کے اذہان و قلوب میں نفرتیں بھر کر نفرت کارڈ کی بجائے عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں، امید ہے کہ ایسے مفاد پرست عناصر سوا ارب انسانوں کے اجتماعی مفادات کی خاطر اپنے نظریات پر ضرور نظرثانی کریں گے، لیکن بدقسمتی سے جب ذاتی مفادات غالب آ جائیں تو نظریات ہمیشہ دم توڑ دیتے ہیں، لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام امن کی آشا کا دامن ہر حال میں تھا میں رکھیں گے۔ اس لئے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔  ٭

مزید :

کالم -