چودھری سرور بالآخر رخصت ہو گئے

چودھری سرور بالآخر رخصت ہو گئے
چودھری سرور بالآخر رخصت ہو گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے لئے سرور نے بہت بڑی ’’قربانی‘‘ دی تھی، وہ برطانیہ کے ایک انتہائی معزز شہری تھے۔ وہاں کی سیاست اور تجارت میں ان کا نمایاں مقام تھا۔ کاروباری طور پر تو وہ بہت بڑے آدمی تھے ہی، سیاسی طورپر بھی ان کی بہت اہمیت تھی۔ پنجاب کے گورنر ہوتے ہوئے بھی وہ چھٹی لے کر سکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم کے موقعہ پر بطور خاص وہاں گئے اور سکاٹ لینڈ کے نیاملک بننے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے وہ خود بھی تین بار وہاں سے رکن منتخب ہوئے۔ پھر انہوں نے وہاں بھی موروثی سیاست کو آگے بڑھایا اور بیٹے کو اپنے حلقے سے منتخب کرا دیا۔ جواب شیڈوو منسٹر ہے۔ مطلب یہ کہ جب کبھی لیبر پارٹی کی حکومت آئیگی وہ کابینہ کے رکن ہو جائیں گے برطانیہ میں کسی مسلمان کے رکن پارلیمنٹ بننے کا اعزاز اب بھی ان کے پاس ہے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے لئے ان کے دل میں بہت محبت ہے۔ اسی محبت نے انہیں کئی پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ تعلقات پر مجبور کیا، اپنی اس مجبوری کی وجہ سے وہ بہت پہلے پیپلزپارٹی کے ہاتھ بھی مضبوط کر چکے ہیں۔ بے نظیر شہیدکے ساتھ ان کے بہت گہرے سیاسی رابطے تھے۔ یہ رابطے ٹوٹے یا انہوں نے خود توڑے اس کے بعد نوازشریف کے ساتھ ان کے تعلقات بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے عروج میں انہوں نے نوازشریف کے ساتھ جیل میں ملاقات کی۔ کہا جاتا ہے کہ جن دنوں نوازشریف اٹک کے قلعے میں بند تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے حکم کے بغیر قلعے کے اوپر سے کوئی چڑیا بھی پَر نہیں مار سکتی تھی، مگر چودھری سرور اپنے پاؤں پر چل کر نوازشریف کے ساتھ ملاقات کرنے گئے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چودھری سرور کے بے نظیر بھٹو، نوازشریف کے ساتھ ساتھ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بھی رابطے تھے، حالات بدلے اور پھر نوازشریف اقتدار میں آ گئے۔
مجھے معلوم نہیں کہ چودھری سرور نے نوازشریف سے جنرل پرویز مشرف کیلئے کوئی رعایت مانگی یا نہیں، لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ نوازشریف نے انہیں ’’بن مانگے‘‘ پنجاب کی گورنری عطا کر دی۔۔۔ ان کے حلف اٹھانے کے پہلے ہی ان کے حوالے سے جو نمایاں خبر اڑائی گئی، وہ یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان کی محبت میں برطانیہ کی شہرت بھی واپس کر دی اور ان کی اس قربانی کو ان کی نیک نامی کے طور پر بیان کیا گیا، حالانکہ برطانیہ کی شہرت چھوڑنے کے بعد واپس بھی لی جا سکتی ہے اور چودھری سرور جیسی شخصیت کے لئے دوبارہ سے شہریت حاصل کرنا معمولی کام ہے ،مگر میرا خیال ہے پنجاب کی گورنری میرٹ کا نہیں، ’’پیا من بھائے‘‘ کا معاملہ تھا، اب سنا ہے کہ پنجاب کے گورنر کے طور پر محترمہ ذکیہ شاہنواز کے نام پر قرعہ نکلنے والا ہے۔ محترمہ ذکیہ شاہنواز اگر واقعی گورنر پنجاب بنا دی جائیں تو یہ میرے میانوالی کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہو گی۔ میانوالی سے پہلے نواب کالا باغ گورنر رہ چکے ہیں۔ محترمہ ذکیہ شاہ نواز بھی عیسیٰ خیل کے نواب خاندان سے ہیں۔ محترمہ کی شخصیت میں بھی جلال اور جمال کی کیفیت موجود ہے اور سچی بات یہ ہے کہ نواب کالا باغ کے بعد اگر کوئی متاثر کن شخصیت بطور گورنر پنجاب میسر ہے تو وہ محترمہ ذکیہ شاہ نواز ہیں۔
چودھری محمد سرور چونکہ نوازشریف کے بہت برے دنوں کے دوست تھے، نوازشریف نے اچھے دنوں میں انہیں سب سے بڑے صوبے کا گورنر بنا دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ چوہدری سرور پہلے دن سے ہی اس عہدے سے کوئی زیادہ خوش نہیں تھے، حلف اٹھاتے وقت خوش نظر آئے، مگر بعد میں وہ نالاں نالاں سے نظر آئے۔ غالباً ان کا خیال تھا کہ پاکستان کے سبھی بڑے بڑے عہدے گورنر پنجاب کے ماتحت ہوتے ہیں، گورنر پنجاب ہی پورے پاکستان کا مالک ہوتا ہے، مگر جب انہیں آئین اور قانون کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ گورنر کا عہدہ صرف آئینی ہے تو انہیں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دراصل بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے بہت پریشان تھے اور ان کا خیال تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے پاکستان میں حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں، یہاں کے مختلف گروہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کرتے۔ گورنر پنجاب کی یہ تشویش درست تھی، مگر ان حالات کا شکار صرف بیرونی ملک پاکستانی نہیں ہیں۔ملک میں موجود لوگ بھی، بدمعاشوں، چوروں، ڈاکوؤں اور بھتہ خوروں کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور ان گروہوں کے لئے ہر پاکستانی ایک جیسا ہے،، انہی مسائل کے حوالے سے چوہدری محمد سرور پریشان تھے، مگر ان کے مسائل کے حل کے لئے انہوں نے غلط راستے کا انتخاب کیا، انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس حوالے سے صدر، وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ کے ساتھ بات کرتے، اگر قانون سازی کی ضرورت تھی تو قانون سازی کے لئے زور دیتے، مگر انہوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف الطاف بھائی کے سامنے ’’چارشیٹ‘‘ پیش کر دی، جو کہ ان کے عہدے کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کے لئے بھی نامناسب تھا، بعدازاں بھی انہوں نے مختلف مواقع پر حکومت اور نظام حکومت پر بہت سخت تنقید کی، مگر نوازشریف اور شہبازشریف نے ان کے پیغامات کو خوش دلی کے ساتھ برداشت کیا اور ممکن ہے کہ وہ 2018ء تک برداشت کرتے رہتے، مگر اب چودھری غلام سرور کے لئے پریشانی بڑھ گئی تھی، کیونکہ ملک میں انقلاب کی خواہشمند قوتیں بھی انہیں کسی بڑے منصب کے لئے آگے لانے کا ارادہ باندھ چکی ہیں، مجھے معلوم نہیں کہ سابق گورنر اب آئندہ کیا کرنا چاہتے ہیں، مگر امکان ہے کہ وہ عمران خان کا ’’سایہ‘‘ بننے کی کوشش کریں گے۔ عمران خان سے پہلے وہ طاہر القادری کا ’’آسرا‘‘بن چکے ہیں، مگر طاہر القادری انہیں استعمال کرنے کے بعد واپس کینیڈا چلے گئے ہیں، اب عمران خان کی باری ہے، دونوں کے درمیان رابطے موجود ہیں، کسی دن کسی پریس کانفرنس کے ذریعے سامنے بھی آ سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ دونوں مل کر کریں گے کیا ؟
کیا عمران خان ایک بار پھر ’’دھرنا‘‘ دیتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ’’ڈی چوک‘‘ میں کھڑا کریں گے؟ میرے خیال میں شیخ رشید کے ہوتے ہوئے چودھری سرور کی ’’دال‘‘ نہیں گلے گی، البتہ وہ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ معاملات طے کر لیں تو تحریک انصاف سے کہیں زیادہ پذیرائی حاصل کرلیں گے ،کیونکہ چودھری برادران آخری دم تک ساتھ ضرور دیتے ہیں، لیکن عمران خان کا معاملہ تو یہ ہے کہ :
میری لگدی کسے نہ ویکھی تے
ٹٹدی نوں جگ جاندا

مزید :

کالم -