ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول بیدیاں کی پاسنگ آؤٹ تقریب!

ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول بیدیاں کی پاسنگ آؤٹ تقریب!
ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول بیدیاں کی پاسنگ آؤٹ تقریب!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اتوار (یکم فروری 2015ء) کو روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے صفحہء اول پر ایک اکلوتی تصویر شائع ہوئی جس کے نیچے لکھا عنوان (Caption) یہ تھا: ’’لاہور۔۔۔ ہفتہ کے روز (یہاں لاہور میں) انسداد دہشت گردی فورس کی پاسنگ آؤٹ کے موقع پر خواتین کا ایک دستہ‘‘
ان خواتین کی نہ صرف وردیاں ان کے تفویض کردہ مشن کے مطابق تقریباً گہرے سیاہ رنگ کی تھیں بلکہ ان کے قدوقامت کو دیکھ کر بھی ناظر اندازہ لگا سکتا تھا کہ واقعی دہشت گردوں کے انسداد کا غالب امکان رکھتی ہیں۔ سیاہ رنگ کی بیرٹ (Beret) کیپ سر پر سجائے، ہاتھوں میں بھاری بھرکم رائفلیں پکڑے اور پاؤں میں کالے سروس شوز پہنے 16خواتین کا یہ جتھا (انگریزی کے لفظ Contingent کا ترجمہ ’’دستہ‘‘ کے علاوہ ’’جتھا‘‘ بھی فیروزاللغات میں دیا گیا ہے) شائد اتنا جاذبِ توجہ تھا کہ اخبار والوں نے اس کو سرورق کی زینت بنانا ضرور سمجھا!
لاہور کے تاریخی مضافات میں ایک گاؤں بیدیاں بھی ہے۔۔۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں اس گاؤں نے کہ جواب ایک قصبہ بن چکا ہے، لاہور کو بچانے میں ایک یادگار رول ادا کیا تھا۔ شائد یہی وجہ ہوگی کہ یہاں کاؤنٹر ٹیررازم فورس (CTF) کا ایک پولیس ٹریننگ سکول قائم کیا گیا۔ پولیس ٹریننگ کالج سہالہ کے بعد یہ سکول ملک کا سب سے زیادہ بڑا اور اہم پولیس ٹریننگ سکول سمجھا جاتا ہے۔ اس سکول میں فی الوقت 1182 کار پورل زیر تربیت ہیں جن کو ایس ایس جی (سپیشل سروس گروپ) کے انسٹرکٹر اور برادر ملک ترکی کے پولیس آفیسر ٹریننگ دے رہے ہیں۔ اس انسدادِ دہشت گردی کورس کا دورانیہ نو ماہ رکھا گیا ہے۔
پاک فوج کے انفنٹری رجمنٹل ٹریننگ سنٹروں میں رنگروٹوں کو ٹریننگ دے کر’’پکا سپاہی‘‘ بنانے کا دورانیہ بھی 9 ماہ ہے۔ تربیتی دورانیئے کی اس طوالت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ٹریننگ کتنی جامع اور Extensiveہو گی۔ نظری اور عملی اسباق پر مشتمل اس ٹریننگ میں کاؤنٹر ٹیررازم سے متعلق تھیوری اور پریکٹس کی جامع تربیت، پاکستانی قوم کے اس عزم کے علامت ہے کہ جب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا قوم کے پاسبان آرام کی نیند نہیں سوئیں گے۔
1182کارپورلوں کی بٹالین میں یہ پہلا دستہ تھاجو 421 مردوں اور 16عورتوں پر مشتمل تھا اور پاس آؤٹ ہوا۔پاسنگ آؤٹ پریڈ کی سلامی وزیراعظم نوازشریف نے لی۔ ان کے ہمراہ آرمی چیف، صوبائی وزیراعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ، لاہور کورکمانڈر، پنجاب کے قائم مقام گورنر اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب بھی تھے۔ ان سب سویلین اور فوجی اکابرین کی اس تقریب میں موجودگی CTFکی اہمیت کی غماز تھی۔ پریڈ سے وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں نے خطاب کیا۔ جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے شاذ ہی ایسے مواقع آتے ہیں کہ ملک کی ٹاپ سویلین اور ملٹری لیڈرشپ اس نوع کی کسی تقریب سے مشترکہ خطاب کرتی ہے۔ اس بیک وقت دوگونہ خطاب کا مقصد بھی یہی سمجھا جا رہا ہے کہ سول اور عسکری قائدین ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو یکسر ختم کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔۔۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے اور 150سے زائد بچوں (اور بڑوں) کی شہادت نے قوم کے اس عزم و استقلال کو جو قوت بخشی ہے اسے شکارپور کے حالیہ سانحے اور وکلاء برادری کی ریلیاں اور جلسے جلوس وغیرہ کم نہیں کر سکتے۔ جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ حق و باطل کے یہ دونوں دھارے ایک ہی دریا میں کیوں بہتے ہیں تو ان کو معلوم ہی ہوگا کہ چراغ مصطفویؐ سے شرارِ بو لہبی ہمیشہ ستیزہ کار رہا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ دونوں قوتیں ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ میڈیا اس پر ٹاک شوز کی منڈیلیاں سجا کر ناظرین و سامعین کی اکثریت کے دلوں میں کوئی زیادہ وسوسے نہیں ڈال سکتا!
میں CTF (کاؤنٹر ٹیررازم فورس) کی اس تصویر کا ذکر کررہا تھا جس میں خواتین کو مارچ پاسٹ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔۔۔ کافی دیر تک سوچتا رہا کہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں ان خواتین کا کردار کیا ہو سکتا ہے۔ خیال آیا کہ دہشت گردوں کا قبیلہ ایک ایسا قبیلہ بن چکا ہے جس کا شہرہ بین الاقوامی حیثیت اور اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس قبیلے کے طریقہ ہائے ارتکابِ واردات نہایت سفاکانہ، ظالمانہ اور ایسے غیر روائتی ہیں کہ اکثر ممالک کی ریگولر افواج ان کے سامنے اگر عاجز نہیں تو خائف ضرور رہتی ہیں۔ اگرچہ گوریلا وار فیئر ایک غیر روائتی طریقہ ء جنگ کہلاتا ہے لیکن مرورِ ایام اور پے بہ پے استعمال سے یہ طریقہ بھی اب تقریباً روائتی طریقہ بن چکا ہے۔ گوریلا وار فیئر کی ایک پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے جس میں ناگہانیت (Surprise)، فریب کاری (Deception) اور غیر منظم اور غیر متوقع حربی چالوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ٹیررازم ایک ایسا نیا طریقہ ء جنگ ہے جو ’’الٹرا گوریلا وار فیئر‘‘ کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ روائتی طریقہ ء جنگ میں ایک خاص سکیل پر بنیادی انسانی حقوق کا احترام رکھا جاتا ہے اور گوریلا وار فیئر کا تو دارومدار ہی سول آبادیوں میں گھل مل جانے اور ان کی معاونت حاصل کرنے پر ہے۔ لیکن ٹیررازم ایک ایسی ابتلا ہے جو کسی اخلاقی، کسی روائتی، کسی انسانی احترام اور کسی فطری جذبات کی پیروکار نہیں۔ تو ایسے میں مجھے خیال آیا کہ اس قسم کی ابتلا کو کوئی خاتون کس طرح روکے گی؟۔۔۔ کیا یہ فورس آزادانہ اور خود مختارانہ آپریٹ کرے گی یا مردانہ فورس کے ساتھ مل کر اس کی معاونت کار بنے گی؟۔۔۔ کیا یہ زنانہ پلاٹون، دہشت گردوں کے سامنے ترنوالہ نہیں بن جائے گی؟ (اس ’’ترنوالہ‘‘ ترکیب کو لغوی اعتبار سے بھی قرینِ قیاس سمجھا جا سکتا ہے)
پھر اچانک میرے ذہن کے افق پر لال مسجد کی ڈنڈا بردار زنانہ فورس پھیل گئی اور پھیلتی چلی گئی۔۔۔ صدر مشرف کے دور کے لال مسجد آپریشن کو کوئی کس طرح بھلا سکتا ہے؟ تب مجھے خیال آیا کہ اس CTF میں ان خواتین کو 9ماہ کی ٹریننگ دینے اور ان کے انتخاب کے لئے جسمانی تنومندی اور ذہنی لچک کو اتنی اہمیت دینے کے پیچھے کیا حکمت کار فرما رہی ہوگی۔ لال مسجد کی طرح کے زنانہ مدرسے الا ماشاء اللہ ملک میں اور بھی موجود ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ لاتعدادشہروں کے علاوہ لاتعداد قصبوں اور دیہاتوں میں بھی مسجدوں کے ساتھ ایسے زنانہ مدرسوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ خیال آتا ہے کہ ان کے ساتھ انٹرایکشن کرنے اور ان سے نمٹنے کے لئے 16خواتین کے ’’ننھے سے‘‘اس دستے کو کم از کم 1600 چیلنج تو درپیش ہوں گے!
دوسرے ،ماضی ء قریب میں ایسے کئی دلدوز حادثات و سانحات ہو چکے ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی برابر کی شریکِ جرم تھیں۔ عین ممکن ہے کہ ان مقدمات کی تفتیش کے دوران کئی ایسے پہلو سامنے آئے ہوں کہ جو CTF میں خواتین کی اس شمولیت کی ضرورت بن گئے ہوں۔ کسی خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان خواتین کارپورل دستے کو ٹریننگ دینے کے لئے کوئی خاتون انسٹرکٹر بھی متعین تھی یا نہیں لیکن غالب خیال یہی ہے کہ ضرور ہوگی۔ اور شائد ایک سے زیادہ لیڈی انسٹرکٹر ایسی ہوں جو ان موضوعات کی نظری اور عملی ٹریننگ دینے پر مامور ہوں۔ اس قسم کی معلومات باقاعدہ میڈیا پر بھی آنی چاہئیں تاکہ پبلک کو معلوم ہو کہ پاکستانی معاشرے میں دہشت گردی کے درختوں کی آبیاری میں دہشت گردانہ اور مجرمانہ ذہنیت کی حامل بعض خواتین کا رول کیا ہے اور اس کا کیا علاج کیا جا رہا ہے۔
تیسرے، انسداد دہشت گردی میں سب سے بڑا اور سب سے اہم رول چھاپہ مار کارروائیوں کا رہا ہے اور رہے گا۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں مختلف ظاہر (Overt) اور خفیہ (Covert) ذرائع سے جو معلومات اکٹھی کرتی ہیں ان کی بناء پر چھاپے (Ambushes)ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ ان چھاپوں کے دوران خواتین چھاپہ مار عملے کی ضرورت بھی ظاہر و باہر ہے۔ یہ کام نیم تربیت یافتہ یا نیم تجربہ کار لیڈی پولیس فورس نہیں کر سکتی۔ اس کے لئے تعلیم یافتہ (Qualified) ، ٹریننگ یافتہ (Trained)، پیشہ ورانہ لگن کی حامل (Comitted) ،اپنے فرائض کو عبادت جاننے والی (Devoted) اور ادائے فرض پر جان کی قربانی دینے والی (Dedicated) خواتین کی ایک الگ فورس درکار ہے۔ امیدہے CTF کا 16خواتین پر مشتمل یہ دستہ اور اس کے بعد پاس آؤٹ ہونے والے دستے ان فرائض کی تکمیل میں نمایاں خدمت انجام دیں گے۔
چوتھے رول کا تانا بانا جو میرے ذہن میں ابھر رہا ہے وہ انٹیلی جنس سے متعلق ہے اورقارئین محترم یہ ایک بڑا اور وسیع و عریض موضوع ہے۔ میں اس موضوع کی طرف اس مختصر کالم میں چند اشارے ہی کر سکتا ہوں۔ ان کی تفصیل کے لئے آپ کو اپنے تخیل (Imagination) کو پھیلانا (Stretch) پڑے گا، سو یہ کام خود کیجئے۔
اول یہ کہ جو دہشت گرد، کسی بھی جگہ کوئی دہشت گردانہ کارروائی کرتا ہے، وہ آخر کسی عورت کا شوہر، بیٹا، بھائی یا باپ ہوتا ہے۔۔۔ اس ’’عورت‘‘ تک پہنچنا چاہیے۔
دوم یہ کہ دہشت گرد کو پناہ دینے والوں میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔۔۔ ان ’’عورتوں‘‘ تک رسائی ہونی چاہیے۔
سوم یہ کہ ہر دہشت گرد کو کھانے پینے اور رہنے سہنے کے لئے ایک ایسے گھر کی ضرورت ہوتی ہے جس میں عورت بھی ہو۔۔۔ اس ’’عورت‘‘ کو ڈھونڈنا چاہیے۔
چہارم یہ کہ ہر دہشت گردانہ اقدام میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی عورت بھی کسی نہ کسی لیول پر مجرم کی معاون اور شریک جرم ہوتی ہے۔۔۔ اس ’’عورت‘‘ کی جستجو کرنی چاہیے۔
یہ اور اس قسم کے کام (Tasks) انٹلی جنس اکٹھا کرنے میں ایک گرانقدر رول ادا کرتے ہیں۔یہ خواتین جو اگلے روز لاہور کے اس ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول، بیدیاں سے پاس آؤٹ ہوئی ہیں وہ اس رول کو بطریقِ احسن اور بڑی تفصیل سے ادا کر سکتی ہیں۔یہ فیلڈ ورک بھی ہے اور آفس ورک بھی۔
آخر میں ایک اور گزارش بھی کروں گا کہ خواتین ہوں کہ مرد، اینٹی ٹیررازم فورس کے ہر فرد کو ہینڈل کرنے، اس کے کام کاج کو ایک ادارتی سمت دینے، اس کی قدم قدم پر پروفیشنل رہنمائی کرنے کے لئے ایسے افسروں کی ضرورت ہے جس پر کچھ مزید کہنا تحصیلِ حاصل ہوگا۔ ان افسروں کو تلاش کرنا اور اس کے بعد ان کے انفرادی رجحاناتِ طبع،ذوق و شوق، تعلیم و تربیت اور تجربے کے مطابق ان کو اس سکول میں مختلف شعبوں/ برانچوں /Wings کا انچارج تعینات کرنا،ایک کمانڈ ذمہ داری ہے۔۔۔یہ سکول کے کمانڈنٹ کا وہ کام ہے جو اس پراجیکٹ کی آئندہ کامیابی یا ناکامی کا اہم ترین ضامن ٹھہرے گا۔

مزید :

کالم -