عوام تک سستے پٹرول کے فوائد کیسے پہنچیں گے؟

عوام تک سستے پٹرول کے فوائد کیسے پہنچیں گے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا فائدہ حکومتی خزانے میں لے جانے کی بجائے عوام تک منتقل کیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بھی عوام کی دسترس میں آ رہی ہیں، صوبائی حکومتیں پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائیں، اس مقصد کے لئے متعلقہ اداروں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی باقاعدہ مانیٹرنگ بھی کی جائے، وزیراعلیٰ شہبازشریف کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا حکومت عوام کی مشکلات سے آگاہ ہے۔ عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی تاریخی اقدام ہے، چوتھی بار قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو پہنچے گا۔ صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس مقصد کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ پٹرول کی عدم دستیابی کی شکایت نہیں آنی چاہیے۔
یہ درست ہے کہ چوتھی بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو جو ریلیف دیا گیاہے وہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ اس عرصے میں پٹرول کی قیمتیں گر کر 70 روپے پر آ گئی ہیں اور اگر حکومت جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 27فیصد نہ کر دیتی تو قیمتیں مزید نیچے آ سکتی تھیں، اگرچہ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے پر نکتہ چینی کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا کرنے والے اس لحاظ سے حق بجانب بھی ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا پورا پورا ریلیف عوام تک منتقل نہیں کیا گیا تاہم تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ جو ریلیف منتقل کیا گیا وہ کم نہیں ہے اس عرصے میں عوام کو ملنے والا ریلیف پٹرول کی مد میں 37.68روپے اور ڈیزل کی مد میں 28.71روپے ہے۔ جو صارفین 114روپے فی لٹر پٹرول خرید رہے تھے انہیں 70.29روپے میں خرید کر کافی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اس نرخ پر پٹرول سی این جی سے بھی سستا ہے۔ لیکن یہ تو وہ ریلیف ہے جو براہ راست پٹرول یا ڈیزل خریدنے والوں کو حاصل ہو رہا ہے لیکن ’’حقیقی عوام‘‘ کو اس ریلیف کا بہت کم حصہ منتقل ہو رہا ہے اور بعض صورتوں میں بالکل ہی نہیں ہو رہا، ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کئے گئے ہیں اور انٹرسٹی روٹس پر یہ کمی مختلف شرحوں سے کی گئی ہے لیکن اندرون شہر(لاہور) چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرائے اعلان کے باوجود ابھی تک اس شرح سے کم نہیں ہوئے جس طرح ہونے چاہیے تھے۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ چار ماہ سے مسلسل جاری ہے لیکن بسوں اور ویگنوں کے کرایوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ بسیں تو سی این جی پر چل رہی ہیں، جس کی قیمتیں کم نہیں ہوئیں اس لئے کرائے کم نہیں ہو سکتے، گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی من مانی شرح سے وصول کئے جا رہے ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کرائے از سر نو متعین کئے جائیں اور ان کی پوری طرح تشہیر کی جائے تاکہ سفر کرنے والے بھی باخبر ہو سکیں کہ انہیں کرائے کی صورت میں کس قدر ریلیف مل رہا ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو سستے تیل کا فائدہ گاڑی مالکان یا ٹرانسپورٹروں کو تو ہوگا، عام لوگوں کو بالکل نہیں ہوگا۔جب تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا تھا تو اس بنیاد پر قیمتیں ہاتھ کے ہاتھ بڑھائی جا رہی تھیں کہ اشیاء کی ٹرانسپورٹیشن پر زیادہ اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں، بیکری کی اشیاء چونکہ گاڑیوں پر ٹرانسپورٹ کرکے صارفین کے قریبی دکانداروں تک پہنچائی جاتی ہیں اس لئے بیکری کی تقریباً تمام اشیاء مہنگی کر دی گئی تھیں لیکن اب جب قیمتیں کم ہوئی ہیں تو یہ تمام اشیاء پہلے والی سطح پر ہی فروخت ہو رہی ہیں، تقریباً یہی حال پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کا ہے ۔ سستے تیل کی وجہ سے سبزیاں اور پھل کھیت سے منڈی تک پہنچانے میں اب کم خرچ ہو رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسانوں کو تو اس کا خاص فائدہ نہیں اور نہ ہی صارفین کوئی ریلیف محسوس کررہے ہیں سارا فائدہ منڈیوں پر چھائے ہوئے آڑھتیوں کی جیبوں میں جا رہا ہے۔ جو کسان سے خریدی ہوئی سبزی یا پھل تقریباً پہلے والے نرخوں پر صارفین کو فروخت کررہے ہیں سوائے ان موسمی سبزیوں کے جو ہر موسم میں پہلے بھی سستی ہو جایا کرتی ہیں، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے عوام کو جو فائدہ پہنچانے کی ہدایت کی ہے وہ اسی صورت میں کارگر ہو سکتی ہے جب مانیٹرنگ کا پورا سسٹم وضع کیا جائے۔
گزشتہ ماہ آٹھ دس دن تک لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں پٹرول کی قلت رہی، اس کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی رہیں، پٹرولیم کی وزارت نے یہ بھی کہا کہ پٹرول سستا ہونے کی وجہ سے خریداری میں اضافہ ہو گیا، 25فیصد طلب بڑھ گئی ہے اس لئے قلت پیدا ہوئی، اب جبکہ پٹرول مزید آٹھ روپے سستا ہوگیا ہے تو اس فارمولے کے تحت تو خریداری میں مزید اضافہ ہوگا، ویسے بھی پٹرول اگر سی این جی سے بھی سستا ہو گیا ہے تو کون خواہ مخواہ سی این جی کے لئے لمبی لمبی قطاروں میں لگے گا، ویسے بھی پنجاب میں تو اب سی این جی کی فراہمی دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے جس نے گاڑی چلانی ہے وہ پٹرول ہی خریدے گا، غالباً اسی لئے یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ پنجاب کے کئی شہروں میں پٹرول کے خریداروں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، اگرچہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پٹرول کا ذخیرہ ضرورت سے زیادہ موجود ہے تاہم اس جانب کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ پہلے کی طرح کوئی مافیا حرکت میں نہ آ جائے اور کم قیمت کا فائدہ اٹھا کر پھر قلت پیدا نہ کر دی جائے، اس سے پہلے پٹرول کی قلت کیوں کر پیدا ہوئی، بروقت درآمد کا انتظام کیوں نہ کیا جا سکا، کون سی وزارت قصور وار تھی ، کیا کوئی گروہ خاص طور پر قلت پیدا کرنے میں ملوث تھا، قلت کا سارا شور شرابہ صرف لاہور اور پنجاب کے چند شہروں تک کیوں محدود تھا، باقی صوبوں میں قلت تھی یا نہیں، اگر نہیں تھی تو کیوں نہیں تھی اور صرف ایک بڑے صوبے میں پٹرول کی قلت پیدا کرنے کے کیا مقاصد ہو سکتے تھے اور کیا یہ سارا کھیل صرف پیسے کمانے کے لئے کھیلا جا رہا تھا یا اس کے علاوہ بھی اس کے کچھ مقاصد تھے یہ ایسے سوالات ہیں کہ اگر ان کا صحیح صحیح جواب مل جائے تو آئندہ ایسی صورت حال سے بچا جا سکتا ہے۔ سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ جو حکومت تیل کا بندوبست نہیں کر سکتی وہ ملک کیا چلائے گی۔ ایسے تبصروں سے بچنے کے لئے تمام انتظامات درست رکھنے کی ضرورت ہے۔ تجربات سے سیکھ کر بھی اگر حالات میں بہتری لائی جا سکے تو بری بات نہیں۔

مزید :

اداریہ -