الجزیرہ کے صحافی آسٹریلوی شہری کو مصر نے رہا کر دیا

الجزیرہ کے صحافی آسٹریلوی شہری کو مصر نے رہا کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قاہر ہ(آن لائن)مصری حکومت نے قید کی سزا کاٹنے والے الجزیرہ نیٹ ورک سے منسلک آسٹریلوی رپورٹر پیٹر گریسٹے کو ملک بدر کر دیا۔مصری وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ صدارتی حکم کی بنا پر عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے رپورٹر پیٹر گریسٹے کو ان کے وطن واپس روانہ کر دیا گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ گریسٹے کے ساتھ الجزیرہ کے جن دو دیگر صحافیوں پر مقدمہ چلا کر قید کی سزا سنائی گئی تھی انہیں بھی رہا کیا جائے گا یا نہیں۔ ان میں کینیڈین نڑاد مصری باشندے فہمی اور محمد باہر شامل ہیں۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی طرف سے آسٹریلوی رپورٹر پیٹر گریسٹے کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مصری حکام جیل میں قید اس کے دو دیگر صحافیوں کو بھی فوری طور پر رہا کرے۔ادھر الجزیرہ نیٹ ورک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ محمد فہمی جن کے پاس کینیڈا کی شہریت بھی ہے اور محمد باہر کو بھی ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔گزشتہ برس جون میں قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے قطر میں قائم نشریاتی ادارے الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے ان تین صحافیوں کو مصر میں کالعدم قرار دی گئی جماعت اخوان المسلمون کے ساتھ روابط کے جرم میں قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے اس جماعت کے حق میں حقیقت کے بر عکس رپورٹنگ کی تھی۔محمد باہر کو سات برس قید کے علاوہ اسلحہ رکھنے کے جرم میں تین برس کی اضافی قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔صحافیوں کو قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلے پر انسانی حقوق اور صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ تاہم مصری حکومت نے ان سزاؤں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سزائیں ایک آزاد عدالت کی طرف سے دی گئی ہیں۔تاہم مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے ان صحافیوں کی جانب سے اپنی قید کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کو منسوخ کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ان کے مقدمے کی از سر نو سماعت کی جائے۔
تاہم یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران یہ صحافی زیرحراست ہی رہیں گے۔

مزید :

عالمی منظر -