سید علی گیلانی کا شہید غلام محی الدین ایڈووکیٹ ریگو کو خراج عقیدت ، قتل کا مقدمہ دوبارہ چلانے کا مطالبہ

سید علی گیلانی کا شہید غلام محی الدین ایڈووکیٹ ریگو کو خراج عقیدت ، قتل کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں بزرگ حریت رہنماء سید علی گیلانی نے معروف کشمیری قانون دان ایڈوکیٹ غلام محی الدین ریگو کو شہادت کی17ویں برسی پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے قتل کامقدمہ دوبارہ کھولنے کامطالبہ کیا ہے ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجیوں نے یکم فروری 1998میں ایڈووکیٹ ریگو کو گرفتار کر کے انہیں دوران حراست قتل کردیا تھا اوران کی لاش3فروری کو ٹکڑے کر کے پھینک دی گئی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ غلام محی الدین ریگو کے قتل میں بھارتی فوج کی17جاٹ رجمنٹ کے کرنل باوا اور میجر پونیہ کے علاوہ ایک مقامی پولیس آفسر بھی ملوث ہے تاہم انہوں نے کہاکہ ایڈووکیٹ ریگو کے قتل کو بھی ایک سازش کے تحت سانحہ پتھری بل کے مقدمے کی طرح بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ایڈوکیٹ ریگو سینئر وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ حریت پسند تھے۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی اور اس قتل کی تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں تاہم بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کو بند کردیا گیا اور شناخت شدہ قاتلوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے آسان راہداری فراہم کردی گئی۔سید علی گیلانی نے شہید ایڈووکیٹ ریگو کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ایک قانون دان کے خون ناحق کی باضابطہ ڈاکومینٹیشن کر کے اس کیس کی فائل دوبارہ کھولنے کی ان کے اہل خانہ کے مطالبہ کو پورا کرانے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسطرح کے سینکڑوں واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں ہزاروں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ، البتہ ان تمام واقعات کی نہ تو ابھی تک کوئی تحقیقات ہوئی ہے اور نہ ہی قاتلوں کو کسی قسم کی سزا دی گئی ہے۔ بزرگ رہنماء نے کہاکہ اس سلسلے میں عالمی برادری پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہتے کشمیریوں کے کے قتل عام کے واقعات کی تحقیقات کیلئے بھارتی قابض انتظامیہ پر دباؤ بڑھائیں ۔

مزید :

عالمی منظر -