قومی اسمبلی میں سانحہ شکار پور پر تعزیتی قرار داد متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی میں سانحہ شکار پور پر تعزیتی قرار داد متفقہ طور پر منظور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                            اسلام آباد (این این آئی)اراکین قومی اسمبلی نے سانحہ شکار پور پر تعزیتی قرار داد متفقہ طورپر منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے ¾ سانحہ شکارپور نے ہمارے دل دہلا دیئے ہیں ¾صرف امدادی رقم سے لوگوں کے عزیز واپس نہیں آئیں گے ¾سب کو شہداءکے لواحقین کی دلجوئی کرنی چاہیے ¾ قراردادیں منظور کرنے سے دہشتگردی کے واقعات پر قابو نہیں پایا جاسکتا‘ ہمیں مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کے لئے کثیر الجہت حکمت عملی اختیار کرنی پڑے گی جبکہ ریاستوں و سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی صوبائی حکومت مدد مانگے گی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ¾ پوری قوم ایک ہوئی ہے ¾اچھے نتائج سامنے آئیں گے‘ تمام صوبوں میں امن قائم کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور سیاست سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ ¾ پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر اور غوث بخش مہر نے کہاکہ سانحہ شکار پور بحث کرائی جائے جس پر وفاقی وزیر چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہاکہ شکارپور میں افسوسناک سانحہ پیش آیا ہے‘ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے جس پر سپیکر نے ریمارکس دیئے کہ ایوان کا پورا ایجنڈا معطل کرکے بحث کرائی جائے پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے تحریک پیش کی کہ ایوان سانحہ شکارپور کے حوالے سے بحث کرائے وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے تحریک پیش کی کہ سانحہ شکارپور کی صورتحال کو زیر بحث لانے کےلئے ایوان کی کارروائی معطل کی جائے جس کے بعد ایوان نے تحریک کی منظوری دیدی۔اجلا س کے دور ان وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے سانحہ شکار پور پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان نماز جمعہ کے دوران 30 جنوری 2015ءکو شکارپور امام بارگاہ پر حملہ کی شدید مذمت کرتا ہے اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے بعد ازاں ایوان نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔بعد ازاں بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ سانحہ شکارپور نے ہمارے دل دہلا دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف امدادی رقم سے لوگوں کے عزیز واپس نہیں آئیں گے‘ ہم سب کو شہداءکے لواحقین کی دلجوئی کرنی چاہیے‘ ہمیں ایک دوسرے کا احساس ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں پارلیمانی نظام کے حق میں ہیں‘ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو حقوق دینا چاہتے ہیں۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ سانحہ شکارپور پر وفاقی حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں گیا ہی نہیں۔وزیراعظم نواز شریف کی کراچی میں موجودگی کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ شکار پور واقعے کے بعد انہیں صوبے میں امن و امان کی صورت حال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیئے۔انہوںنے کہا کہ نواز شریف کا صوبے میں موجود ہوتے ہوئے بھی شکار پور واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کیلئے نہ جانا انتہائی افسوس ناک بات ہے۔انہوںنے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ پہلی ذمہ داری تھی کہ وہ مذکورہ واقعے کے حوالے سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیشگی اطلاعات فراہم کرتیں۔خورشید شاہ نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں آج قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی جمہوری حمایت کیلئے موجود ہیں تاہم اس موقع پر مذکورہ واقعے پر اسمبلی کو تفصیلات فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کا اسوقت تک خاتمہ نہیں کرسکتی جب تک ملک میں انٹیلی جنس کے نظام کو موثر اور کارآمد نا بنالے۔اپوزیش لیڈر نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ثالثی کیلئے قمر زمان کائرہ سے بات کی ہے اگر پی ٹی آئی ان سے رابطہ کرے تو وہ حکومت اور ان کے درمیاں ثالثی کےلئے تیار ہیں۔

مزید :

علاقائی -