کرپٹ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرول اور قتل پرسابق جیل اہلکار کی ضمانتیں خارج

کرپٹ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرول اور قتل پرسابق جیل اہلکار کی ضمانتیں خارج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے نوکریوں کا جھانسہ دے کر شہریوں سے پیسے لوٹنے والے محکمہ خوراک کے سابق اسسٹنٹ فوڈ کنٹرول کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی، اینٹی کرپشن پولیس نے ملزم کو رجسٹری کے باہر سے گرفتار کر لیا۔سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ملزم محمد ظفر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے جھوٹی درخواستوں پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس کاکوئی گواہ اور ثبوت نہیں ، ضمانت منظور کی جائے، متاثرہ افراد کی وکیل سرفراز علی خان ایڈووکیٹ نے بنچ کو بتایا کہ ملزم نے محکمہ خوراک میں نوکریوں کا جھانسہ دے کر بارہ شہریوں سے تیرہ لاکھ سے زائد کی رقم ہتھیائی اور اینٹی کرپشن نے باقاعدہ انکوائری کے بعد ملزم کیخلاف مقدمہ درج کیا ہے، درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد اینٹی کرپشن پولیس ملزم کو سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر سے گرفتار کر اپنے ساتھ لے گئی ۔سپریم کورٹ نے میانوالی جیل کے باہر فائرنگ کر کے دو شہریوں کو قتل کرنے والے سابق جیل اہلکار کی درخواست ضمانت خارج کر دی ۔سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے میانوالی جیل کے سابق اہلکار جابر خان کی بعد ازگرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت کی،د رخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ملزم کیخلاف میانوالی جیل کے باہر فائرنگ کے دو شہریوں عمیر اور ذکاء کو قتل کرنے کا الزام ہے ، مقتولین اور ملزم آپس میں رشتہ دار ہیں،عدالت نے ملزم کے وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ میڈیکل اور پراسکیوشن کے مطابق ملزم پر فائرنگ کرنے اور دونوں شہریوں کو قتل کرنا ثابت ہو تا ہے ، عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی ۔

مزید :

صفحہ آخر -