حق نواز قتل کیس ،تفتیش جانبدارانہ قرار،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو شو کا ز نوٹس

حق نواز قتل کیس ،تفتیش جانبدارانہ قرار،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو شو کا ز ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 فیصل آباد(بیورورپورٹ)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے پی ٹی آئی کے کارکن حق نواز کے قتل کی تفتیش کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں اور آر پی او فیصل آباد کو اس معاملہ کی انکوائری کا حکم دیا ہے علاوہ ازیں عدالت نے اس مقدمہ کے دو ملزموں پرویز جٹ اور عثمان عرف چھینی کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے اور جے آئی ٹی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں دفعہ 109پی پی سی کو ختم کرنے اور بے گناہ کئے گئے 5ملزمان رانا ثناء اللہ خاں‘ چوہدری عابد شیر علی‘ ڈی سی او فیصل آباد‘ملک خالد ڈی ایس پی اور احمد شہریار (داماد رانا ثناء اللہ) کو خانہ نمبر 2میں چالان نہ کرنے پر سخت سرزنش کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو دوبارہ چھ فروری کو عدالت میں طلب کر لیا ہے علاوہ ازیں چالان کو منظور کرنے یا واپس کرنے کے بارے میں بھی سماعت چھ فروری پر ملتوی کر دی ہے گزشتہ روز جے آئی ٹی کے تمام ارکان عدالت میں پیش ہوئے تاہم عدالت میں عین پیشی کے وقت JITکے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن اچانک ہی کسی کی فون کال سنتے سنتے عدالت سے باہر نکل گئے اسی طرح عدالت میں گزشتہ روز آٹھوں چالان شدہ ملزمان پرویز جٹ‘ حافظ عمران‘ الیاس عرف طوطی‘ امتیاز سراج‘عثمان عرف چھینی‘ ماجد پرویز اورافضال پیش ہوئے اور نامکمل چالان بھی پیش کیا گیاعدالت نے JITسے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ پولیس کسی مقدمہ میں بھی قانونی طور پر دفعہ 109پی پی سی کو ختم کرنے کی مجاز نہیں اور پولیس نے اس مقدمہ میں اسے حذف کر دیا اسی طرح پولیس قانونی طورپر پابند ہے کہ اگر وہ ملزم کو بے گناہ کر رہی ہے تو ان ملزموں کے نام چالا ن کے خانہ نمبر دو میں درج کرتی ہے لیکن اس چالان میں یہ قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کئے گئے جو سیاسی اثرورسوخ کے اثرانداز ہونے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ حق نواز قتل کیس کی ایف آئی آر نمبر 830درج کرنے سے پہلے جو 829نمبر ایف آئی آر سمن آباد تھانہ کے ایس ایچ او کی طرف سے درج کی گئی اس کا JITکی تفتیش میں کہیں کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا او ر نہ ہی تفتیش کے دوران کسی ملزم سے اس بارے پوچھ گچھ ہی نہیں کی گئی باخبر ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ن لیگ کی طرف سے متعدد پی ٹی آئی کے ورکرز رہنماؤں کو بھی ملزموں کے طور پر نامزدکر دیا بلکہ FIRنمبر830میں بھی ن لیگ کی طرف سے کراس ورشن دیا گیا ہے جس میں 78کے قریب ملزم نامزد کئے گئے جن میں ن لیگی ملزمان کو بھی پی ٹی آئی کے ورکر ہی ظاہر کیا گیا ہے اور ان سے اپنی لاتعلقی ظاہر کی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -