چاند نے ٹائی ٹینک ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا،جدید تحقیق میں انکشاف

چاند نے ٹائی ٹینک ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا،جدید تحقیق میں انکشاف
چاند نے ٹائی ٹینک ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا،جدید تحقیق میں انکشاف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہوسٹن(نیوزڈیسک)ٹائی ٹینک کو ڈوبے 100سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے لیکن آج بھی ماہرین اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کے ڈوبنے کی وجوہات میں کیا چیزیں شامل تھیں اور اب ماہرین نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند نے ٹائی ٹینک کو ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا۔امریکہ کی ٹیکساس سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے اس بات پر تحقیق کی اور یہ بات سامنے آئی کہ 1912ء میں چاند زمین کے بہت قریب تھا جس کی وجہ سے زمین کے سمندروں میں ضرورت سے زیادہ ہل چل تھی۔

دنیا کی انوکھی ترین خاتون جو 40 برس سے مسکرائی نہیں کیونکہ ۔۔۔

سمندری ماہر ڈونلڈ اولسن کا کہنا ہے کہ ہر سال چاند زمین کے گرد اپنے مدار میں گھومتا ہے اور یہ عمل ہزاروں سال سے جاری ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چاند زمین کے انتہائی زیادہ قریب آجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چاند زمین کے انتہائی قریب ہونے کے ساتھ ساتھ سورج کی لائن میں بھی آجاتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو سمندروں میں بہت بڑی بڑی لہریں پیدا ہوتی ہیں اور تمام سمندری نظام ہل جاتا ہے۔تاہم یہ صدیوں میں ہوتا ہے کہ چاند ایسی حالت میں آئے ۔4جنوری 1912ء کو ایسا ہوا تھا کہ چاند اس حالت میں تھا جس کی وجہ سے سمندر میں لہریں پیدا ہوئیں اور شمالی بحر الکاہل میں گرین لینڈ اور نیو فاؤنڈ لینڈ کے قریب بڑے بڑے برفانی تودے ٹوٹے اور تیزی سے جنوب کی طرف سفر کرنا شروع ہوئے ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمول کا عمل ہے لیکن اس سال یہ زیادہ تیزی سے سفر کر رہے تھے اور معمول کے وقت سے پہلے ہی جنوب کی جاب چل پڑے۔ان میں سے ایک برفانی تودہ ان سمندری راستوں پر پہنچا جہاں سے ٹائی ٹینک نے گزرنا تھا۔ ڈونلڈ اولسن کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ عمل چاند کی وجہ سے تیز ہوا تھا لہذا یہ تودہ اپنے مقررہ وقت سے قبل مذکورہ جگہ پر پہنچا تھا اور بد قسمتی سے ٹائی ٹینک اس جگہ سے گزرا اور اپنی سپیڈ کی وجہ سے اس کا نشانہ بن گیا۔اس کا کہنا تھا چاند کی وجہ سے تودوں کا سائز اور سمندر لی لہرین معمول سے زائد تھیں۔
یہ تحقیق Sky & Telescopeمیں شائع ہو چکی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -