زلزلے اور حکومت کی ذمہ داریاں

زلزلے اور حکومت کی ذمہ داریاں
زلزلے اور حکومت کی ذمہ داریاں

  

انسانی تاریخ میں مختلف اوقات میں زلزلے آتے رہے اور تباہی ہوتی رہی۔ پاکستان میں بھی چند بڑے زلزلے آئے جن کی وجہ سے بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ ماضیِ قریب میں سنگین ترین زلزلہ 5 اکتوبر 2008ء میں آیاجس میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ مالی نقصان کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔اب ہم آئے روز زلزلوں کے متعلق خبریں سنتے اور پڑھتے ہیں کبھی یہ زلزلے شدید نوعیت کے ہوتے ہیں اور کبھی کم شدت کے۔ کبھی انکی گہرائی زیادہ اور کبھی کم ہوتی ہے۔لیکن یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ زلزلوں کی تعداد پہلے کی نسبت بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ ان کی شدت کم ہوتی ہے لیکن کیا گارنٹی ہوتی ہے کہ زیادہ شدت کے زلزلے نہیں آئیں گے۔ اس سے بھی پریشان کن بات یہ ہے کہ آج کے سائنسی دور میں انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے لیکن زلزلوں کی پیشگی اطلاع کا کوئی نظام ایجاد نہیں کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ زلزلے کا علم تب ہوتا ہے جب تباہی ہوچکی ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ تباہی منٹوں میں نہیں، سیکنڈوں میں ہو جاتی ہے اس لئے انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ زلزلے رات کے وقت آتے ہیں جب انسان سوئے ہوئے ہوں۔ اگرچہ دن کو بھی زلزلے آتے ہیں مگر رات کو آنے والے زلزلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ شاید اسکی بھی کوئی سائنسی وجہ ہو سکتی ہے۔

مالی تباہی تو ان زلزلوں میں ہونی ہی ہوتی ہے لیکن جانی نقصان اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ لوگ عمارت کے اندر سوئے ہوتے ہیں ان سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے پاس نہ تو زلزلوں کی پیشگی اطلاع ہوتی ہے اور نہ ہی زلزلوں کو ٹالنا انسان کے بس میں ہے لیکن انسان اشرف المخلوقات ہے اس لئے اگر غور کیا جائے تو اس جانی اور مالی نقصان میں کمی کی جا سکتی ہے ۔اب ہم اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ حکومت کیا کرے؟

1۔ماہرین تعمیرات ان ممالک کا دورہ کریں جہاں پہلے زلزلوں کی تعداد اور شدت زیادہ ہے اور دیکھیں کہ ان ممالک کی تعمیرات میں زلزلوں سے بچاؤ کا کونسا حفاظتی نظام استعمال کیا گیا ہے؟ پاکستان بھر میں عموماًاور زلزلے کے علاقوں میں خصوصاً یہ قانون لاگو کیا جائے کہ ہر عمارت میں زلزلے سے بچاؤ کا حفاظتی نظام استعمال کیا جائے تاکہ مالی اور جانی نقصان کم سے کم ہو۔

2۔ ہمارے ملک میں فوج کے سوا کسی بھی ادارے کی تربیت نہیں ہے جو زلزلے کے امدادی کاموں میں حصہ لے سکیں ۔ فوج ، پولیس، ریسکیو ادارے اور دیگر اداروں میں خصوصی ونگ قائم جائیں جو امدادی کام سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر کر سکیں ۔

3۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے زلزلوں کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔ جس سے امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات امدادی ورکرز کا دوبارہ جانی نقصان ہوجاتا ہے اس سے بچاؤ کی بھی خصوصی تربیت دی جائے۔

4۔زلزلے کے آنے کے بعد عام لوگ اور خصوصاً متاثرین کیا کریں؟ اس بارے میں ماہرین خصوصی ہدایات پر مبنی پروگرام تیار کریں ۔ جو کالجوں سکولوں اور ہر قسم کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو دیئے جائیں جو طلبہ کو لیکچر دے کراس بات کا اہل بنا سکیں کہ وہ بوقت ضرورت اہم کردار ادا کرسکیں یہ آگاہی مہم عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے میڈیا بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ میڈیا کو چاہئے کہ وہ ماہرین کو ریڈیو اور ٹی وی پر بلا کر ان کو لیکچرز دینے کا موقع دیں اور سوال جواب کے لئے فری نمبر مہیا کریں تاکہ لوگ مکمل تربیت یافتہ ہو سکیں۔

5۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ زلزلوں کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں بجلی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ ٹاور گرنے سے موبائل اور ٹیلی فون سروس ختم ہوجاتی ہے جس سے امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ آلات جو امدادی کاموں میں استعمال ہوتے ہیں ان کے لئے سٹور کا بندوبست زلزلے کے قریب ترین بلکہ ان کے وسط کے علاقوں میں کیا جائے۔وہ عمارات جن میں امدادی سامان سٹور کرنا مقصود ہو ان میں زلزلوں سے بچاؤ کا حفاظتی نظام لگایا جائے یا پھر مذکورہ سامان کھلی جگہوں پر مضبوط پلاسٹک شیٹوں کے کور میں سٹور کیا جائے تاکہ آندھی اور بارش کے علاوہ موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکے اور بوقت ضرورت جلد از جلد امدادی کارروائیوں کی جگہ پہنچایا جا سکے۔

6۔ زلزلے کسی سرحد یا لوگوں کے نظریات کے پابند نہیں ہوتے ایسا ہو اہے اور آئندہ بھی ہو سکتاہے کہ زلزلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میں نقصان کرے۔ اسی طرح پاکستان اور افغانستان میں ایک ہی وقت میں زلزلہ آسکتا ہے ۔اس کے علاوہ ایران اور پاکستان میں ایک ہی وقت میں زلزلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اسی لئے انڈیا اور پاکستان مل کر مشترکہ سرحدی علاقے میں امدادی سنٹر قائم کرسکتے ہیں جس میں زلزلے کے بعد امدادی کاموں کے لئے جدید آلات وافر مقدار میں موجود ہوں تاکہ دونوں ملکوں میں کسی بھی جگہ مذکورہ آفت کی صورت میں آلات کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اور امدادی کا م جدید سرچ لائٹوں کی روشنی میں دن رات جاری رکھا جا سکے۔اسی طرح پاک افغان بارڈرپر امدادی سنٹربنایاجا سکتا ہے اور پاک ایران حکومت بھی اس پر عمل کرسکتی ہے۔ ان سنٹروں میں جدید ترین سامان کی خریداری کے لئے بین الاقوامی اداروں سے بھی مدد لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصہ میں زلزلہ آنے کی صورت میں ان سنٹروں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر سامان بھیجا جا سکتا ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔حکومت کو چاہیے کہ ان امدادی سنٹروں کے لئے بجٹ میں رقم مختص کرے اگر بجٹ کی کمی ہے تو مخیر حضرات اور امدادی اداروں سے اپیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مشترکہ سنٹرز کے قیام کے لئے ہمسایہ ممالک سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ عمارات کی تعمیر میں حفاظتی نظام کا قانون فوری طور پر نافذ کیا جاسکتا ہے۔ قوم کی تربیت کے لئے آگاہی مہم فوری طور پر شروع کی جانی چاہئے۔تاکہ جانی اور مالی نقصان کم سے کم ہو انسان جو کرسکتا ہے وہ ضرور کرنا چاہئے اس کے علاوہ میڈیا کے ذریعے مزید تجاویز مانگ کر اس حفاظتی نظام کو بہتر بنا یا جاسکتا ہے۔ بقول شاعر:

خُدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

مزید :

کالم -