میانمر میں منتخب نمائندوں کا حلف، زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں

میانمر میں منتخب نمائندوں کا حلف، زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں

  

تجزیہ : آفتاب احمد خان

میانمر میں تریپن سال بعد جمہوریت لوٹ آئی ہے، وہاں سوموار کو اسمبلیوں کے ارکان نے ملک اور جمہوریت سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ اس طرح ایک ایسے ملک میں بظاہر جمہوریت کا نیا دور شروع ہوا ہے جہاں 1962ء سے فوج برسرِ اقتدار تھی۔ نئے جمہوری سربراہ کے لئے پارلیمنٹ میں انتخاب آٹھ نومبر کو ہوگا جس کے بعد جمہوریت کی بحالی کا آخری مرحلہ بھی طے ہو جائے گا، اگرچہ اس میں ابھی دس ماہ باقی ہیں تاہم طویل مدت تک جاری رہنے والی فوجی حکومت کے بعد عوام کے منتخب نمائندوں کو ذمہ داریاں سونپے جانا یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

میانمر میں چھبیس سال پہلے 1990ء میں بھی عام انتخابات ہوئے تھے، ان میں بھی آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی مگر فوج نے ان انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اب پھر یہی جماعت جیت کر آئی ہے،18نومبر کو جب پارلیمانی لیڈر کے انتخاب کا موقع آئے گا تو نیشنل لیگ کو دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلہ طے ہونے پر میانمر کو منتخب سربراہ میسر آئے گا۔ جب تک فوجی حکومت سے اقتدار منتخب سربراہ کو عملاً مستقل نہیں ہو جاتا اور فوج واپس ملکی دفاع کی ذمہ داری پر نہیں چلی جاتی تب تک جمہوریت کے راستے میں گہرے سائے لہراتے رہیں گے۔

یہ جمہوریت کس طرح کی ہو گی؟ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ فوج نے پارلیمنٹ کی پچیس فیصد نشستیں اپنے پاس رکھی ہیں، ان نشستوں پر جرنیلوں کو بٹھایا جائے گا، وہ منتخب نمائندوں کی طرف سے آئین میں کی جانے والی ترامیم پر ویٹو کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ دفاع، داخلہ اور سرحدی امور سمیت اہم وزارتیں فوجیوں کے پاس رہیں گی، جبکہ فوج ہنگامی طور پر کوئی قانون بنا کر پھر سے اقتدار میں آ سکے گی۔ اب پارلیمنٹ کو ملک کے صدر کا انتخاب کرنا ہے، آنگ سان سوچی اس عہدے کی امیدوار نہیں بن سکیں گی کیونکہ ان کے بچوں کے پاس غیر ملکی شہریت ہے، یہ ایک قانونی معاملہ ہے جبکہ نوبل امن انعام یافتہ یہ رہنما اپنی فوجی حکومت کی مخالفت کرنے کے باعث پندرہ سال گھرپر نظر بند رہیں۔

اس صورت حال میں نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی کی سربراہ ملک کی صدر نہیں بن سکیں گی تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کا رتبہ صدر سے بڑھ کر ہو گا۔ اس سے یہ مطلب لیا جا رہا ہے کہ وہ پارٹی کی قیادت اپنے پاس رکھیں گی اور پارٹی کے کسی اور رہنما کو صدر کے عہدے پر لائیں گی۔ اب منتخب سیاستدانوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ملک کو فوجی نمائندوں سے بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں کہ پارلیمنٹ اور کابینہ میں بہت سینیٹر جرنیل موجود ہوں گے۔ اس طرح منتخب حکومت کی راہ میں بار بار رکاوٹیں آنے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -