ناتواں گداگر

ناتواں گداگر
ناتواں گداگر

  

شام کے تقریباً سات بجے تھے۔ جب میں نے اپنے شوہر امتیاز صاحب سے کہا کہ’’ کیا آپ مجھے ماڈل ٹاؤن درزی کے ہاں لے چلیں گے۔‘‘ امتیاز نے کہا کہ اچھا! پہلے میں اکیڈمی سے فارغ ہو جاؤں تو پھر چلتے ہیں۔ میں نے کپڑے ایک شاپنگ بیگ میں ڈالے اور چلنے کے لئے تیار ہو گئی۔ امتیاز صاحب نے اکیڈمی سے فارغ ہونے کے بعد گاڑی باہر نکالی اور ہم ماڈل ٹاؤن کی سمت روانہ ہو گئے۔ درزی کی دکان پر مجھے تقریباً دو گھنٹے لگے۔ اب ہماری واپسی جوہر ٹاؤن کی جانب تھی۔ جب ہم ماڈل ٹاؤن کلب چوک سے گزر رہے تھے۔ تو میں نے امتیاز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں وہ عورت آج بھی اسی جگہ بیٹھی ہے۔ امتیاز نے ایک نظر باہر دیکھا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ باہر دسمبر کی سیاہ رات نے دھُند کی دبیز چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس یخ بستہ رات میں وہ عورت سفید لباس پہنے فٹ پاتھ پر بیٹھی دونوں ہاتھوں سے اپنی جھولی پھیلائے آنے جانے والوں سے بھیک مانگ رہی تھی۔ اس کی عمر کوئی ساٹھ سال کے لگ بھگ تھی۔ میں نے پچھلے دس روز میں اسے تین چار بار اسی فٹ پاتھ پر بیٹھے دیکھا۔ وہ عورت ہر بار سفید لباس پہنے آنے جانے والی گاڑیوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتی لیکن گاڑیوں والے اس کے سوال کی پرواہ کئے بغیر تیزی کے ساتھ اس کے سامنے سے گزر جاتے۔ یہ فراٹے بھرتی گاڑیاں اس کے سوال کو اپنے ٹائروں تلے روندتی ہوئی گزر جاتیں۔

میں نے امتیاز سے سوال کیا کہ یہ روزانہ اس جگہ کیوں بیٹھی ہوتی ہے۔ کیا اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں؟ امتیاز نے جواب دیا! عفت پتہ نہیں یہ خود یہاں بیٹھتی ہے یا کوئی اسے یہاں بٹھا جاتا ہے۔ یہ لوگ پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں۔ آپ کو بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ امتیاز کے یہ سب کچھ کہنے کے باوجود بھی میں اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ جب سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں گرم کپڑے پہنے نرم و گرم بستروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ عورت کھلے آسمان تلے دو روٹیوں کی خاطر برف ہو رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح سے ایک بزرگ عرصہ دراز سے ہماری گلی میں ایک بانس پر چند غبارے لٹکائے اور بانس کو بغل میں دبائے نظر آتے ہیں،ان کی عمر بھی کوئی ستر برس کے قریب ہے۔ میں نے آج تلک ان کی آواز نہیں سنی۔وہ اس قدر لاغر ہیں کہ وہ نہ کسی سے سوال کرتے ہیں اور نہ کسی کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ ان کا حلیہ ہی ان کے احوال کا آئینہ دار ہے۔ ایسی بے بسی اور بے کسی کی تصویر، میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔ اپنے آپ کو گلی گلی گھسیٹتے وہ دن میں چند روپے جمع کر لیتے ہیں۔ ان کے بدن پر ایک پرانی اور میلی شلوار قمیص کے علاوہ ایک بوسیدہ سا براؤن کلر کا کوٹ ہوتا ہے، جس کی جیب میں وہ اپنے دن بھر کی کمائی رکھتے رہتے ہیں اور پاؤں میں جوتے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ پتہ نہیں ان بزرگوں نے اپنی زندگی کیسی گزاری۔ لیکن ان کی زندگی کا یہ دور بہت ہی افسوسناک ہے۔

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے میں اپنے گھر کے کام کاج نبٹانے میں مصروف تھی کہ گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو اپنے سامنے دبلی پتلی ایک چھوٹے قد کی عورت کو کھڑے پایا، جس کی عمر، میرے اندازے کے مطابق ،پینسٹھ سال سے کچھ زیادہ ہی ہوگی۔ صاف ستھرے کپڑے پہنے اور ایک ہاتھ میں چھوٹی سی گٹھڑی پکڑے ہوئے تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی ’’پتر میں بھوکی ہوں۔ اگر گھر میں کھانے کو کچھ ہے تو دے دو!‘‘ میں واپس کچن میں آئی اور ایک ٹرے میں ایک پلیٹ میں سالن، دستر خوان میں روٹیاں اور ایک گلاس پانی رکھ کر واپس دروازے پر پہنچی۔ ان باوقار ماں جی نے میرے ہاتھ سے ٹرے پکڑی اور ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ کھانا کھانے وہیں پر بیٹھ گئی۔ میں باہر کا جائزہ لینے میں مصروف تھی جہاں مالی لان کی گھاس کاٹ رہا تھا۔ ان اماں جی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’پتر یہ تھوڑا سا سالن میں نے آپ کا دل رکھنے کے لئے اپنی روٹی پر رکھ لیا ہے۔ ورنہ میں اس عمر میں مرچیں نہیں کھاتی اور کھانے میں ایک ہی روٹی کھاتی ہوں۔ یہ کھانا میرے لئے بہت زیادہ ہے۔ اس کو واپس کرنے کا بُرا نہیں منانا‘ مجھے اس کی بات پر بہت حیرت ہوئی کہ وہ کس قدر حساس ہے۔ اسے میرا دل دکھنے کا اس قدر خیال ہے۔ اس کے بعد اس نے پانی پیا اور اپنے ہاتھ دعا کے لئے خدا کی بارگاہ میں بلند کئے اور اپنے رحیم پروردگار کا شکریہ ادا کرتی مجھے بہت سی دعاؤں سے نوازتی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی۔

اس میں نہ جانے ایسی کون سی بات تھی کہ آج سات۔ آٹھ برس گزرنے کے بعد بھی مجھے اکثر یاد آتی ہے۔ ایک اور پچھتر سالہ بزرگ عورت، جسے سب اماں جنت کے نام سے بلاتے ہیں، ہمارے محلے میں ہر جمعرات کو خیرات مانگتی نظر آتی ہے۔ جب وہ چلتے چلتے ہمارے گھر کے دروازے پر پہنچتی ہے تو تھک کر گیٹ کے ساتھ ہی بیٹھ جاتی ہے۔ بھوک سے بدحال اور نحیف آواز میں ’’اماں آئی ہے‘‘ کی آواز لگاتی ہے۔ اس جمعرات جب اس نے ہمارے دروازے پر دستک دی۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا اور ماں جی سے سوال کیا ماں جی آپ کہاں سے آتی ہیں تو کہنے لگی۔ بیٹا میں پیچھے سے قصورکی رہنے والی ہوں۔ زمین کے جھگڑے میں میرا جوان بیٹا قتل ہو گیا۔ وکیلوں، عدالتوں اور کچہریوں کے چکر میں زمین بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔ میرے بیٹے کے دو بچے میری ہی ذمہ داری ہیں۔ جب کھانے کو کچھ نہ رہا تو ہم لوگ لاہور میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھرآگئے۔ اس نے مجھے اور میرے میاں کو ایک چھوٹا سا کمرہ رہائش کے لئے دے دیا۔ اب اس عمر میں میں کوئی کام تو نہیں کر سکتی۔ اس لئے بھیک مانگ کر گزارہ کرتی ہوں، جب تک چلا جاتا ہے۔یہی کروں گی۔ پھر اللہ وارث ہے۔

اماں جنت اپنی کہانی کہہ کر اگلے گھر کا دروازہ بجانے لگی اور میں گیٹ پر کھڑی سوچتی رہی کہ ہمارے اس’’شہرِ زندہ دِلان لاہور میں جہاں پر ایک ایک رات میں کسی بھی شادی کی تقریب پر لاکھوں روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ اور گھروں کی آرائش و زیبائش پر ہم کروڑوں روپیہ صرف کرتے ہیں اور گاڑیوں کے نت نئے ماڈل خریدنے کے لئے لاکھوں روپیہ لٹاتے ہیں، لیکن ان بوڑھے نادار مفلس اور مجبور بزرگوں کے بارے میں سوچنے کے لئے ہمارے پاس بالکل وقت نہیں ہوتا۔ تو دوسری جانب اس ملک میں متحرک اور فعال این جی اوز مخیر حضرات سے فنڈ وصول کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ا سی طرح بے شمار خیراتی ادارے فلاحی مرکز، رفاہِ عامہ کے تحت چلتے محکمے ،زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں اولڈایج ہومز اور دیگر مختلف ٹرسٹ، جو دن رات ایک کرکے اس ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے، جس میں انکم سپورٹ پروگرام بھی شامل ہیں۔ کیا ان بزرگوں کو دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کو کپڑا بھی نہیں دے سکتے۔ مکان تو بہت بڑی بات ہے میری نظروں کے سامنے کھڑے یہ تمام بزرگ (جنہیں میں کسی بھی طرح گداگر نہیں کہہ سکتی) یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر ہمارا حال ایسے ہی رہنا ہے تو پھر یہ سب تماشا کس لئے؟ اور یہ بزرگ یہ جملہ کہنے میں حق بجانب ہیں۔ مجھے شاعروں کے شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے۔ جو انہوں نے شاید اسی طبقے کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے:

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں!

مزید :

کالم -