لاہور بار کا انتخابی معرکہ

لاہور بار کا انتخابی معرکہ
 لاہور بار کا انتخابی معرکہ

  



اعلان کے باوجود چیئرمین الیکشن بورڈ وقار حسن میربائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم کے تحت پہلی بار لاہور بار ایسوسی ایشن کاالیکشن 2017-18 کروانے میں ناکام رہے اِس سلسلہ میں پہلے 14جنوری الیکشن کا دن تھا جس دن بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم کے تحت الیکشن شروع ہوتے ہی بند ہوگیا کیونکہ سسٹم نے چند سو ووٹوں کو ہزار سے زیادہ دکھانا شروع کردیاجس پرامیدواروں کی طرف سے احتجاج شروع ہوگیا اور چیئرمین الیکشن بورڈ کو الیکشن 23جنوری تک ملتوی کرناپڑا۔23جنوری کو الیکشن شروع ہوایہ الیکشن صرف اور صرف بائیو میٹرک انتخابی لسٹ کے تحت تھامگر الیکشن ہمیشہ کی طرح ۔ ’’دستی‘‘طریقہ کار سے ہی ہوا جبکہ اِس کے برعکس گذشتہ سال لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم کے تحت پہلی مر تبہ مکمل اور کامیاب الیکشن انعقاد کرچکے ہیں۔اِ س الیکشن میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے اُن ممبران کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا جنہوں نے مقررہ وقت میں اپنا بائیو میٹرک اندراج کروایا تھا اِن کی کل تعداد 6687تھی ویسے اِس وقت لاہور بار ایسوسی ایشن کے کل ممبران کی تعداد 20ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

اِس الیکشن میں کل 4318ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ گذشتہ الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 5605تھی۔اِس دفعہ ووٹر ز کی تعداد تو زیادہ ہوچکی تھی مگر بائیو میٹرک انتخابی لسٹ کے تحت ووٹ ڈالنے کا عمل کافی لمبا تھا جس کی وجہ سے لمبی لمبی قطاروں کو دیکھ کر کافی ووٹرز واپس چلے گئے اور دوسری اہم وجہ الیکشن کا ملتوی ہوکر نئی تاریخ پر انعقاد بھی ہے ۔

گذشتہ چند سالوں کی طرح اِس دفعہ بھی صدارت کے لئے روایتی حریفوں یعنی حامد خان اورمیاں اسرار کے پروفیشنل گروپ کے امیدوارچوہدری تنویر اخترجبکہ عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ ملک محمد ارشدکے مابین مقابلہ تھاجس میں چوہدری تنویر اختر نے2448 ووٹ اورملک محمد ارشدنے1861 ووٹ حاصل کئے اِس طرح چوہدری تنویر اختر نے پورے 587 ووٹوں کی لیڈ سے میدان مارا۔ یاد رہے کہ آخری الیکشن میں چوہدری تنویر اختر، انڈیپنڈنٹ گروپ کے ارشد جہانگیر جھوجہ سے 1000 ووٹوں کے واضح فرق سے ہار گئے تھے ۔ نائب صدور کے انتخاب کے لئے کل6امیدواران کے درمیان مقابلہ تھا جن میں سے صرف 3 امیدواروں ایسے تھے جنہوں نے ایک ہزار سے زائد ووٹ لئے ان میں نوید چغتائی 2331ووٹ، عرفان صادق تارڑ 1697ووٹ اور مہر تنویر افتخار 1241ووٹ شامل ہیں اِس طرح برہان معظم ملک گروپ کے نوید چغتائی اورنوجوان وکلاء کے ہر دل عزیر راہنماسید فرہاد علی شاہ کے امیدوار عرفان صادق تارڑ بالترتیب سینئر نائب صدر اورنائب صدرمنتخب ہوئے ۔یاد رہے کہ نوید چغتائی کا یہ تیسرا لیکشن جبکہ عرفان صادق تارڑکا یہ دوسرا الیکشن تھا یعنی اِس بار اِن دونوں نشستوں پر گذشتہ سال کے ’’دُہرانے والے‘‘ امیدوار ہی کامیابی حاصل کرپائے۔

نائب صدر ماڈل ٹاؤن کی نشست پر دوسرا الیکشن لڑنے والے دیپالپور بار کے سابقہ ممبر میاں نعیم حسن وٹو اور عبدالصمد بسریا گروپ کے امیدوارحسام خان بسریا کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بلامقابلہ نائب صدر ماڈل ٹاؤن قرار دیا گیا ہے اِس طرح دونوں امیدوارتاریخ میں پہلی بار چھ چھ ماہ کے لئے نائب صدرکے فرائض سر انجام دیں گے۔

سیکرٹری کی دونشستوں پرکل 6 امیدواران کے درمیان مقابلہ تھا جن میں سے چار امیدوارایسے تھے جو ایک ہزار کے ہندسے تک پہنچ پائے جن میں رائے بشیر احمداور المصطفیٰ گروپ کے امیدوار فرحان مصطفی جعفری2150ووٹ،طاہر نصراللہ وڑائچ کے امیدوارملک فیصل اعوان 1245ووٹ، برہان معظم ملک گروپ کے حمایت یافتہ امیدوارملک سہیل مرُشد1218ووٹ اور سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اسد منظور بٹ کے شاگرد اجمل خان کاکڑ نے1029 ووٹ حاصل کیے اِس طرح فرحان مصطفی جعفری اورملک فیصل اعوان بالترتیب سیکرٹری جنرل اورسیکرٹری منتخب ہوئے ۔ اِن دونوں نشستوں پرمقابلہ بہت دلچسپ رہاکیونکہ فرحان مصطفی جعفری بہت بڑی لیڈ جبکہ ملک فیصل اعوان ،ملک سہیل مرُشدسے صرف 33ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے۔

جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پررانا عیش بہادر کی شاگرد عالیہ عاطف خان، فنانس سیکرٹری کی نشست پر سابقہ جوائنٹ سیکرٹری لاہور بارطاہر ریاض سلہریا کے ساتھی شاہد علی بھٹی اور آڈیٹر کی نشست پر موجودہ فنانس سیکرٹری رفعت طفیل ملک کی بہن ثمینہ طفیل ملک پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوگئے تھے یاد رہے کہ یہاں بھی جوائنٹ سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری تاریخ میں پہلی باربلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ لائبریری سیکرٹری کی ایک نشست پر دو امیدوار دوسری بار انتخاب لڑنے والے ملک ممتاز اعوان2002 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ اِن کے مدمقابل بزرگ امیدوار سمیع اللہ خان نے 1978ووٹ حاصل کیے۔ یہ تھا احوال الیکشن لاہور بار ایسوسی ایشن 2017-18 کا۔اِس سلسلہ میں چیئرمین الیکشن بورڈ 25جنوری کو تمام تر کامیاب امیدواران کا حتمی نتیجہ اور نوٹیفیکشن جاری کر چکے ہیں اور اب تک تما م نومنتخب عہدیداران اپنی انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھال چکے ہیں۔

مزید : کالم