نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ گیارہویں قسط

نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ گیارہویں قسط
 نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ گیارہویں قسط

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر۔شاہدنذیرچودھری

اس کے بعد عمران خان اس انتظار میں ہی رہے کہ کب وسیم اکرم اسے باؤلر کا سامنا کرنے کا موقع دیتا ہے۔وسیم اکرم اس وقت دو دھاری تلوار بنا ہوا تھا۔ اس نے آسٹریلوی باؤلر کی تمام مہارتوں کو کاٹ کر رکھ دیا اور جب وہ123سکور بنا کر آؤٹ ہوا تو پاکستان کا مورال بلند ہو چکا تھا۔اس کے بعد سلیم ملک جب بیٹنگ پر آیا تو اس نے بھی77رنز بنا لیے اور یوں پاکستان دوسرا ٹیسٹ جیتنے کے قابل ہو گیا۔ جب آسٹریلوی ٹیم بیٹنگ کرنے آئی تو جواباً اس کے بلے بازوں نے شروع میں نہایت تیزی کے ساتھ سکور بنانا شروع کیا مگر وقار اور مشتاق کی شاندار باؤلنگ کے باعث پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے لیکن بدقسمتی سے اس دوران بارش ہو گئی اور میچ ڈرا ہو گیا۔
وسیم اکرم کے کیرئر میں آسٹریلیا کے دورہ کے علاوہ ورلڈ سیریز کے میچوں نے بڑا اہم کردارادا کیا تھا۔ اگرچہ پاکستان ورلڈ سیریز کے دونوں فائنل میچ ہار گیا تھا تاہم پہلے فائنل میں جب پاکستان کے پانچ کھلاڑی صرف50سکور پر آؤٹ ہو گئے تھے، وسیم اکرم نے چوکوں اور اونچے اور طویل ترین چھکوں کی مدد سے86سکور بنائے تھے۔ اس دورے کے بعد وسیم اکرم ،عمران خان ،آئن بوتھم اور کپل دیو جیسے شہرہ آفاق آل راؤنڈر کھلاڑیوں کی صف میں کھڑا ہوا نظر آنے لگا تھا۔
آسٹریلیا کے دورہ کے بعد وسیم کی ران کا آپریشن ہوا تو اس نے کچھ عرصہ تک آرام کرنے کا فیصلہ کیا مگر عمران خان نے اسے شارجہ میں ہونے والے آسٹریلشیا کپ کے لئے بلالیا۔ اس بار شارجہ کا ہیرو وقار تھا جس نے میچوں میں17وکٹیں حاصل کی تھیں۔تاہم وسیم اکرم کو شارجہ میں دوسری بار ہیٹ ٹرک کرنے کا موقع مل گیا۔ وقار اور وسیم کی بدولت ہی پاکستان نے آسٹریلشیا کپ جیت لیا اور اسے ایک میچ کا مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
1990ء میں جب نیوزی لینڈ نے پاکستان کا دورہ کیا تو اس بار جاوید میاں داد کو کپتان بنایا گیا۔ وسیم اکرم ران کا آپریشن کرانے کی وجہ سے ابھی تک فٹ نہیں تھا اور اس وجہ سے وہ کھیل بھی نہیں رہا تھا۔ جاوید میاں داد نے اسے بہت کہا کہ وہ ایک آدھ میچ کھیل لے مگر وسیم اکرم نے اپنے ان فٹ ہونے پر زور دیا۔ اس پر جاوید میاں داد نے پہلی بار اپنے جونیئر کھلاڑیوں کے سامنے یہ بات کہی:
’’مجھے کپتان بنایا گیا ہے تو وسیم اکرم ان فٹ ہو گیا ہے مگر عمران کے کہنے پر شارجہ چلا گیا تھا۔ حالانکہ ابھی آپریشن بھی تازہ تازہ تھا۔ عمران خان نے بھی اس لیے شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کی ٹیم سے نہیں کھیلیں گے‘‘۔جاوید میاں داد کا یہ کہنا کسی حد تک حقیقت پر مبنی تھا۔ کیونکہ وسیم اکرم انہی دنوں زیادہ ان فٹ ہو جاتا تھا جب عمران خان کی جگہ جاوید میاں داد کو کپتان بنایا جاتا تھا۔
نیوزی لینڈ کے بعد جونہی ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آئی تو اس دوران وسیم اجکرم فٹ ہو چکا تھا۔اس بار کپتان عمران خان تھے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف وہ پوری طرح فارم میں تھا اور اس نے21وکٹیں حاصل کیں۔لاہور ٹیسٹ کے دوران وسیم اکرم نے پانچ گیندوں پر چار کھلاڑیوں وآؤٹ کرکے کرکٹ کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ بدقسمتی سے وہ ہیٹ ٹرک نہیں کر سکا تھا کیونکہ جب اس نے پہلی دو گیندوں پر لوگی اور ڈوجون کو آؤٹ کر دیا تو تیسری بال پر عمران خان نے امبروز کا آسان کیچ چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اپنے چوتھی اور پانچویں بال پر اس نے امیروز اور کونٹی واش کو آؤٹ کر دیا تھا۔

دسویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


1992ء کے ورلڈ کپ تک وسیم اکرم کاؤنٹی سیزن بھی کھیلتا رہا اور اس دوران اسے جب بھی پاکستان کی طرف سے کھیلنے کے لئے بلایا گیا وہ دوڑا دوڑا آتا رہا۔ پھر جب ورلڈکپ کا انعقاد ہوا تو وسیم اکرم مکمل طور پر نہ صرف فٹ ہو چکا تھا بلکہ پوری طرح فارم میں تھا۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی اور اسے فائنل تک رینگ رینگ کر پہنچنا پڑا۔ورلڈکپ کے دوران ہی رمضان المبارک کا مہینہ آگیا تو تمام کھلاڑیوں نے ایک دوسرکے کے ساتھ اختلاف ختم کرنے کا وعدہ کیا اور باقاعدگی کے ساتھ نماز ادا کرنا شروع کر دی۔ جاوید میاں داد امامت کراتا تھا۔ نماز کے بعد سبھی کھلاڑی اپنی فتح کے لئے نہایت خشوع و خشوع کے ساتھ دعائیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قبول کرلیں اور یوں پاکستان دنیائے کرکٹ کا فاتح بن گیا۔یہ فتح پاکستان کے لئے جہاں نہایت یادگار تھی وہاں کھلاڑیوں کے دلوں میں ایک بار پھر کدورتیں جنم لینے لگی تھیں۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب عمران خان نے ورلڈ کپ وصول کرتے ہوئے اپنے جذبات کافی البدیہہ اظہار کیا تو اس نے جوش جذبات میں بہہ کھلاڑیوں کو انتھک محنت کا ذکر تک نہ کیا بلکہ اپنے کینسر ہسپتال کے بارے میں ہی اظہار خیال کیا۔ اس لمحے تمام کھلاڑی سرشاری کے عالم میں تھے۔ انہیں عمران خان کی یہ باتیں ناگوار نہ گزریں مگر اگلے ہی روز ٹیم کے بعض پرانے کھلاڑیوں نے کہنا شروع کر دیا۔
’’عمران خان ایک مغرور شخص ہے۔ اس نے ہمارے بارے میں ایک لفظ ادا نہیں کیا بلکہ اپنی گڈول بنانے کے لئے اپنے ہسپتال کو کیش کرالیا ہے۔‘‘
وسیم اکرم کو جب معلوم ہوا کہ سینئر کھلاڑی عمران خان کے بارے میں ایک بار پھر محاذ گرم کررہے ہیں تو اس نے جاوید میاں داد سے گلہ کیا اور کہا’’جاوید بھائی!آپ ہمارے امام رہ چکے ہیں۔آپ نے فتح کی دعائیں مانگی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف ایک لفظ بھی ادا نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔مگر یہ باتیں پھر جنم لے رہی ہیں‘‘۔
جاوید میاں داد نے وسیم اکرم کو کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ عمران خان کا رویہ غلط تھا مگر وسیم اکرم نے اس کی بات کا یقین نہ کیا جس کی وجہ سے وسیم کے دل میں میاں داد کے لئے گرہ پڑ گئی۔
حالات یہ رخ اختیار کر گئے کہ عمران خان نے ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی تو جاوید میاں داد کو کپتان بنا دیا گیا۔ حسیب احسن منیجر تھے۔میاں داد کی سکردگی میں ہی پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیا۔ انگلینڈ کی ٹیم ورلڈکپ کے فائنل میں پاکستان سے شکست کے زخم چاٹ رہی تھی۔ اب پاکستان ایک بار پھر ان کے مقابل کھڑا تھا۔اس بار یہ سیزن پکستان کے حق میں اس لیے بہتر نہ رہا کہ انگریز پریس نے اپنے کھلاڑیوں کی بے جاحمایت کی اور پاکستان کے خلاف بال ٹمپرنگ کا شوشہ چھوڑ دیا۔نہ صرف یہ بلکہ انگلینڈ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں،لیمب، بوتھم اور اسٹورٹ اخبارات کو مرچ مصالحہ لگا کر کہتے رہے کہ پاکستانی باؤلر نئی گیند کو خراب کرکے ریورس سوئنگ کرتے ہیں۔پاکستان کے لئے یہ دورہ انتہائی مشکل تھا مگر وقار اوروسیم نے انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی دھجیاں اڑا دیں اور پاکستان نے ایک بار پھر یادگار فتح حاصل کرلی۔
انگلینڈ کے دورے کے دوران ہی عاقب جاوید اور ا یمپائررائے پامر کے درمیان جھگڑا ہوگیا تھا اور جاوید میاں داد اور عاقب دونوں نے ایمپائر کی کھلی جانبداری پر گراؤنڈ میں ہیردعمل ظاہر کیا جس پر عاقب جاوید کو جرمانہ کر دیا گیا۔ جاوید میاں داد نے تو بحیثیت کپتان بے حد جذباتی ردعمل ظاہر کیا تھا۔
وسیم اکرم نے اس نازک مرحلے میں جاوید میاں داد کو نارمل رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور کہا:
’’جاوید بھائی آپ کو ہر گز ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ایمپائر نے فیصلہ غلط کیا ہے یا درست یہ اس کا صوابدیدی اختیار ہے۔اس وقت یہ ہی گراؤنڈ میں واحد جج ہوتا ہے۔اگر اس کے ساتھ کھلاڑی کا رویہ معتدل اور فرمانبرداری پر مبنی نہ ہو تو ایمپائرنگ نہیں ہو سکتی۔ آپ تو کپتان ہیں اس معاملے میں آپ کو صلح جو کا کردارادا کرنا چاہئے تھا نہ کہ آپ جھگڑے کو اور بڑھاتے۔ آپ نے دیکھا کہ انگلش پریس جو پہلے ہی ہمارے خلاف ہے۔آپ کے رویہ کی وجہ سے اور بپھر گیا ہے‘‘۔
بعد میں جب جاوید میاں داد نے ان خطوط پر سوچا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور اگلے میچوں میں اس نے نہایت صبر و ضبط کا مظاہرہ دکھایا حالانکہ ان میچوں کے دوران بھی انگریز ایمپائروں اور کھلاڑیوں کا رویہ نہایت برا تھا۔

جاری ہے ، اگلی یعنی بارہویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ ۔ ۔۔

(دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے)۔