جب یہ چیز پاکستان میں آجائے گی تو گاڑیوں کو تیل کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ۔۔۔

جب یہ چیز پاکستان میں آجائے گی تو گاڑیوں کو تیل کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ...
جب یہ چیز پاکستان میں آجائے گی تو گاڑیوں کو تیل کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ۔۔۔

  

پوری دنیا میں اس وقت جدید الیکٹرک گاڑیوں پر کام زور شور سے جاری ہے۔ 350 کلومیٹر کی مسافت طے کرنے والی کار لتھم آئل بیٹری سے چلے گی جو تجرباتی مراحل تیزی سے طے کرتے ہوئے جلد ہی مارکیٹ میں آ جائے ۔بھارت نے 2030 تک الیکٹرک گاڑیاں عام کرنے کا عندیہ دیا ہے جہاں پر آج کل یہ بات زیر باعث ہے کہ گاڑیوں کی بیڑی چارج کرنے کا مسئلہ ہوگا۔ اس کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ یہ سہولت پٹرول پمپ پر دی جائے اور چارج کے ساتھ بیٹری تبدیلی کی سہولت بھی دستیاب ہو لیکن دوسری طرف جہاں تیل کی صنعت زوال کے نزدیک ہے وہاں امریکی کمپنیاں تیزی سے تیل کی تلاش میں لگی ہوئی ہیں حال ہی میں ایک امریکی تیل کمپنی شیورون نے خلیج میکسیکو کے گہرے پانیوں میں تیل کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ریاست لوزیانا کے جنوب میں بالی مور کے نام سے یہ کنواں کھودا گیا۔ کمپنی کے مطابق 29194 فٹ گہرائی پر تیل سے لبالب 670فٹ موٹی چٹانیں ملیں ہیں اور ابتدائی جانچ پڑتال سے ذخیرے کا معیار اور مقدار حوصلہ افزا ہے۔ اس کنویں میں فرانس کی تیل کمپنی ٹوٹل TOTALکا حصہ 40 فیصد ہے۔ 

سعودی عرب نے بھی اپنی سب سے بڑی آئل کمپنی آرمکو کے پانچ فیصد شیئر فروخت کرنے ہیں جس کی خریداری کی دوڑ میں چائنیہ سب سے آگے جانے کی کوشش میں لگا ہواہے۔ اس پر امریکی صدر ٹرمپ نے سخت تنقید کی ہے۔

اس وقت پاکستان میں حالیہ تیل کی قیمتوں میں ا ضافہ سے سرمایہ داروں کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔ پندرہ دن بعد ہونے والے ا ضافے کا اندازہ لگا کر یہ لوگ تیل کا ذخیرہ پہلے سے ہی کر لتے ہیں۔ قیمت بڑھنے سے ان کا سرمایہ جمپ کرتا ہے لیکن قانون قدرت ہے، ہر کام کی ایک حد ہوتی ہے ۔تیل سے مال بنانے والے اس حد کے بعد نیچے کی طرف آئیں گے۔ الیکٹرک گاڑیاں دراصل ان کے زوال کی پہلی ابتداء ہوگی جہاں پر عام سرمایہ دار متاثر ہو گا، وہیں وہ ممالک جو تیل کی آمدن سے دنیا پر اپنے قانون لاگو کیے ہوئے ہیں وہ زوال کی کھائی میں جانے والے ہیں۔ آنے والی 2020 کی دہائی بہت سی تبدیلیاں لائے گی ۔ساتھ اس دہائی میں پمپ مالکان اس ذخیرہ اندوازی کا حساب بھی دیں گے جہاں ان کی دوکانوں پر ویرانی چھا جائے گی ۔پاکستان میں بھی یہی عالم ہوگا،ہائیبرڈ گاڑیاں تو سڑکوں پر آہی چکی ہیں،سولر اور چارجنگ سے چلنے والے رکشے بھی سامنے آرہے ہیں۔دیکھئے بات کہاں تک پہنچتی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -