زندگیوں میں تبدیلی۔۔۔ نظر بھی آنی چاہئے

زندگیوں میں تبدیلی۔۔۔ نظر بھی آنی چاہئے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا پی ٹی آئی حکومت کا منشور ہے،زراعت کے شعبے کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے،وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی،صوبائی حکومتیں زراعت کے فروغ اور خصوصاً زراعت کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کی نشاندہی کریں۔انہوں نے یہ باتیں اپنی جماعت کے صوبہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں،اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کی بہتری کے لئے پچھلی حکومت کے دور میں جو اقدامات کئے گئے اُنہیں آگے بڑھایا جائے گا۔

تبدیلی کا نعرہ تو تحریک انصاف سالہا سال سے لگا رہی ہے اور اسی نعرے کی بنیاد پر وہ برسر اقتدار آئی ہے، اِس لئے اب اگر وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہیں کہ عوام کی زندگیوں میں تبدیلی اُن کی حکومت کا منشور ہے تو بھی وہ یہ بات کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہہ رہے۔ برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک وہ یہی بات تسلسل کے ساتھ کہتے چلے آ رہے ہیں اور اُن کی حکومت ’’عوام کی زندگیاں تبدیل‘‘ کرنے کے لئے جو اقدامات کر رہی ہے بظاہر لگتا ہے کہ وہ کوئی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہے،اِس لئے اب تک کے اقدامات کو سوائے وعدوں اور دِل خوش کُن اعلانات سے زیادہ کوئی اہمیت حاصل نہیں،عملاً تو یہ صورتِ حال ہے کہ بجلی، گیس کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہوا ہے اس نے عوام کی زندگیوں میں منفی تبدیلیوں کا ایک جھکڑ چلا دیا ہے،لوگوں کی آمدنیاں کم ہو گئی ہیں، بیروزگاری بڑھ گی ہے، ضروری اشیائے صرف اُن کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔

کئی سال کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ زرعی پیداوار بھی کم ہو گئی ہے یہ کوئی حکومت مخالف پروپیگنڈہ نہیں ہے،بلکہ ایسی بات ہے جو سٹیٹ بینک کی اس رپورٹ میں کہی گئی ہے جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت کے حوالے سے جاری کی گئی ہے۔ ایسے میں زراعت کی ترقی کے دعوؤں کو محض خالی خولی نعرے ہی کہا جائے گا،کسان کی بدحالی کا یہ عالم ہے کہ زرعی مداخل مہنگے ہونے کی وجہ سے اس کی پیداواری لاگت بہت بڑھ گئی ہے،لیکن کھیتوں میں جو فصلیں پیدا ہو رہی ہیں اُن کی قیمتیں اتنی کم ہیں کہ کسان کو اس کی محنت کا کوئی صلہ ملنا تو دکنار، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی قیمت تک نہیں مل رہی۔دیہی معاشرے میں رہنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ غریب کسان بیج،کھادیں اور کرم کش ادویات اُدھار خریدتا ہے اور اُسے امید ہوتی ہے کہ فصل شاندار ہو گی تو وہ قرضے اُتارنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے کچھ ارمان بھی پورے کر لے گا،لیکن آلوؤں کے کاشتکاروں نے گزشتہ دِنوں جو مظاہرے کئے اُن سے اندازہ ہوا کہ وہ کس حال میں ہے، ایسے میں کسان اور زمیندار آلوؤں کی امدادی قیمت مقرر کرنے اور برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں،لیکن اُنہیں زبانی وعدوں پر ٹرخایا جا رہا ہے۔ گنے کے کاشتکاروں نے آئندہ گنا کاشت کرنے سے توبہ کرلی ہے، کیونکہ شوگر ملیں گنا مقررہ قیمت پر نہیں خریدتیں اور یہ کھیت میں کھڑا سوکھ جاتا ہے، گنے کی ٹرالیاں بھی کئی کئی دن ملوں کے باہر کھڑی رہتی ہیں۔ خرید لیا جائے تو بروقت ادائیگی نہیں ہوتی۔

ایک زمانے میں پاکستان سے کپاس برآمد ہوتی تھی اور اس سے زرِمبادلہ حاصل ہوتا تھا اب ملکی ضروریات کے لئے کپاس درآمد کی جا رہی ہے، گندم کی فصل کے بارے میں خدشہ ہے کہ اس بار پیداوار میں کمی ہو گی۔گزشتہ کئی سال سے اتنی زیادہ گندم پیدا ہو رہی ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ گزشتہ تین سال کی فصل گوداموں میں پڑی سڑ رہی ہے۔اس کی بروقت برآمد کی اجازت نہ دی گئی، اب بعداز خرابی بسیار اجازت ملی ہے، تو عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں اتنی کم ہیں کہ برآمد کنندگان کو اس سے فائدہ نہیں ہو گا۔ماہرین یہ کہتے رہے ہیں کہ گندم فروخت کر دی جائے لیکن ایسا نہ ہوا اور نہ ہی اندرونِ مُلک غریب عوام کو سستا آٹا فراہم کیا جا سکا۔ عجیب بات ہے کہ گندم کی زیادہ پیداوار کا غریب کسان کو فائدہ نہیں پہنچا اور زیادہ فائدہ وہ مڈل مین اُٹھا گئے،جنہوں نے طے شدہ سرکاری قیمت سے بھی کم پر گندم خریدی اور بعدازاں منافع کما کر فروخت کر دی، اسی طرح جب گندم کی برآمد پر سبسڈی کا اعلان ہوا تو اس کا فائدہ اٹھانے کے لئے جعلی دستاویزات بنا کر سبسڈی وصول کر لی گئی، جبکہ گندم بیرون مُلک بھیجی ہی نہیں گئی،اس فراڈ میں خوراک کے محکمے سمیت بہت سے سرکاری ادارے ملوث ہیں، ایسے میں زمینداروں کی بہتری کے لئے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں وہ کہیں نظر نہیں آ رہیں۔ البتہ اِس سلسلے میں بلند بانگ دعوے پوری قوت کے ساتھ کئے جا رہے ہیں اور یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ حکومت نے پانچ ماہ میں وہ کچھ کر دیا، جو ماضی کی ساری حکومتیں مل کر بھی نہ کر سکیں،لیکن جو کچھ ہوا ہے اس سے غریب آدمی کو کیا حاصل ہوا، کیا کوئی اس کی تفصیلات بھی بتائے گا؟

کئی سال میں پہلی مرتبہ صنعتی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، بلکہ یہ منفی ہو گئی ہے جہاں تک نئی صنعتوں کے قیام کا تعلق ہے اس کے بارے میں میٹنگیں تو بہت ہو رہی ہیں عملی طور پر کچھ نظر نہیں آ رہا۔ یہ درست ہے کہ بہت سی ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں جن کے سربراہ عالم فاضل لوگ ہیں،لیکن اُن کے ہنر کا کوئی شاہکار سامنے نہیں آ رہا، کسی نے کوئی ایسا شاہکار دیکھا ہے تو سامنے کیوں نہیں لاتا؟ حکومت چھٹے مہینے میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے کرتاؤں دھرتاؤں کے اپنے دعوے کے مطابق اس نے سو دِن میں بہت کچھ کر کے دکھانا تھا،لیکن ان مہینوں میں مہنگائی میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے سوا کچھ نہیں ہوا،باقی جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب ’’آنیاں جانیاں‘‘ ہیں،یعنی ’’حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ‘‘۔حکومت میں جو صنعت کار شامل ہو گئے ہیں وہ اپنے کاروباری مفاد کا تحفظ کرنے میں ضرور کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایک مشیر صاحب کو ڈیم بنانے کا ٹھیکہ اس عالم میں دے دیا گیا ہے کہ مقابلے میں کوئی دوسرا فریق تھا ہی نہیں، اب کہا جا رہا ہے کہ یہ کام تو سابق حکومت نے کیا تھا چلئے درست ہے سابق حکومت نے ہی یہ گناہ کیا ہو گا، لیکن کیا ’’سابق حکومت‘‘ کے باقی کام بھی یہ حکومت جاری رکھے ہوئے ہے کہ یہ ٹھیکہ دینا ضروری تھا اسے کیوں منسوخ نہیں کر دیا جاتا اور دوبارہ ٹینڈر کیوں طلب نہیں کئے جاتے۔ اِس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 319ارب روپے کا ٹھیکہ تو مشیر صاحب کی کمپنی نے حاصل کر لیا اور دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ سب میرٹ پر ہے اور وہ تو کمپنی سے مستعفی ہو چکے ہیں،درست بات ہے، لیکن کیا یہ فیصلہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ ٹھیکہ اثرو رسوخ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے ایسے میں حکومت اگر عوام کی زندگیاں تبدیل کرنے کے لئے کچھ کر ر ہی ہے ٹھیکے جیسے فیصلوں کی طرح وہ بھی تو نظر آنا چاہئے، بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں رہا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...