نئی شجرکاری مہم، سابقہ کا کیا بنا؟

نئی شجرکاری مہم، سابقہ کا کیا بنا؟

موسم بہار کی آمد ہے اور حکومتِ پاکستان نے اپنے سر سبز پاکستان کے فلسفے کے تحت ایک بار پھر شجرکاری مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اس بار اس مہم کو ’’پلانٹ فار پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو9فروری سے شروع ہو گی اور وزیراعظم عمران خان پودا لگا کراِس کا افتتاح کریں گے۔ گزشتہ برس ماحویاتی آلودگی بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہی سر سبز پاکستان کے نعرہ کے تحت اربوں پودے لگانے کا اعلان کیا گیا اور ہر شعبہ اور محکمہ کو اس مہم میں شامل ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ اِس سیزن والی شجرکاری کے لئے بھی پالیسی اور حکمت عملی یہی ہے کہ پورے مُلک میں پودے لگائے جائیں اور سب حصہ لیں۔شجرکاری کے حوالے سے یہ گزارش بے جا نہیں کہ یہ نیک کام شروع کرنے سے پہلے سابقہ شجرکاری مہم کی کامیابی کا بھی جائزہ لے لیا جائے کہ مختلف شعبوں اور محکموں کی طرف سے کیا اعلان کئے گئے اور ان کے نتائج کیا نکلے،کیونکہ ایک عام آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ پچھلے موسم کی شجرکاری کے دوران بھی محکمہ زراعت سے پی ایچ اے تک قریباً تمام محکموں نے ہزاروں سے لاکھوں تک پودے لگانے کا دعویٰ کیا تاہم بعد میں یہ سب کاغذی ثابت ہوئے کہ اول تو پودے لگائے ہی نہیں گئے اور اگر لگائے گئے تو ان کی پرورش اور حفاظت نہ کی گئی اور وہ ویسے ہی مرجھا گئے آوارہ بھینسوں اور بکریوں کی غذا بن گئے۔ البتہ فوج نے اپنی اپنی بیرکس اور چھاؤنیوں کے علاقے میں جتنے بھی پودے لگائے وہ ثمر آور ثابت ہوئے کہ ان کی پرورش کے لئے حفاظت بھی کی گئی۔وزیراعظم عمران خان نئی شجرکاری مہم ضرور شروع کرائیں،لیکن بہتر یہ ہو گا کہ وہ ایسی تحقیق بھی کرا لیں کہ محکمہ زراعت اور پی ایچ اے سمیت کس نے کتنے پودے لگائے اور اب ان کی حالت کیا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...