چارۂ دِل سوائے صبر نہیں

چارۂ دِل سوائے صبر نہیں
چارۂ دِل سوائے صبر نہیں

  


مَیں سوچ رہا ہوں کہ مقتولینِ ساہیوال کے ورثاء میں اگر مولانا عبدالمجید ندیم جیسا صبر عظیم ہوتا، تو شاید وہ موجودہ نظام سے انصاف کی خواہش میں اس طرح تڑپ نہ رہے ہوتے۔وہ بھی اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیتے کہ جبر کے نظام پر کھڑا یہ معاشرہ کسی مظلوم کو انصاف دے ہی نہیں سکتا۔ممتاز عالمِ دین مولانا عبدالمجید ندیم اس راز کو پا گئے تھے کہ ایس ایچ او کے سہارے کھڑا انصاف کا یہ نظام صرف ظلم کا ساتھ دے سکتا ہے،اِس سے یہ توقع کرنا کہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو گا، پرلے درجے کی حماقت ہے۔

مجھے وہ سارامنظر یاد آ گیا جب آج سے تقریباً دو دہائی پیشتر مولانا عبدالمجید ندیم کے جواں سال صاحبزادے طاہر ندیم کو گھر کے قریب نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ وہ ایک کڑیل جوان تھا جو سوشل سرگرمیوں میں اپنا نام بنا رہا تھا۔قتل کی خبر جنگل کی آگ بن کر پورے پاکستان میں پھیل گئی،کیونکہ مولانا عبدالمجید کا حلقہ بہت وسیع تھا اور افغانستان تک اُن کے عقیدت مند پھیلے ہوئے تھے۔

یہ تھانہ جلیل آباد ملتان کا علاقہ تھا،جہاں حبیب افشار کالونی میں قتل کا واقعہ پیش آیا۔ مَیں اور ڈاکٹر سہیل فاروق مولانا کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے، اِس لئے پہلے پہنچ گئے۔ مولانا ایک اطمینان بخش چہرے کے ساتھ صبر کا پہاڑ معلوم ہو رہے تھے۔ ہم نے پوچھا حضرت کچھ علم ہوا، یہ کس کی حرکت ہے؟ کہنے لگے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ مَیں تو سمجھتا ہوں مارنے والے نے ایک گولی ضائع کی ہے،طاہر ندیم تو پہلی ہی گولی سے اپنے مالک کے پاس پہنچ گیا تھا، دوسری گولی تو اُس کے جسدِ خاکی میں لگی جس کی اُسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ہو گی۔

ہم نے پوچھا کیا پولیس آئی،کارروائی ہوئی،فرمانے لگے، ہاں پولیس آئی تھی، لیکن مَیں نے کہہ دیا کہ ہم کارروائی نہیں کرانا چاہتے۔ ڈاکٹر سہیل فاروق نے کہا، حضرت یہ تو غلط بات ہے ،قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں آنا چاہئے۔

مولانا نے جواب دیا: کیا یہ ایس ایچ او ہمیں انصاف دلائے گا؟ اس نظام کے ذریعے انصاف ڈھونڈنا ایسا ہی ہے جیسے بھوسے میں سے سوئی تلاش کرنا۔ مَیں نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، وہی مجھے انصاف دے گا۔ اُن کا کرب بتا رہا تھا کہ وہ اس موضوع پر بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔

اُن کا استدلال تھا کہ ہم نے چونکہ کسی کو اپنی آنکھوں سے قتل کرتے نہیں دیکھا، اِس لئے نہ تو کسی پر شک کریں گے اور نہ ملزم نامزد کرنے کا گناہ کریں گے، پولیس اپنے طور پر رپٹ درج کرنا چاہتی ہے تو کر لے، ہم فریق نہیں بن سکتے۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں انتقام کی آگ میں جل کر خاندان کے خاندان قتل کی ایف آئی آر میں نامزد کر دیئے جاتے ہیں،اُسی معاشرے میں ایسے صابر و شاکر اور اللہ کے انصاف پر یقین رکھنے والے مولانا عبدالمجید ندیم جیسے انسان بھی ہیں،جو اس خوف سے کہ پولیس کہیں اُن کا کندھا استعمال کر کے بے گناہوں کو گزند نہ پہنچائے، پولیس کا سہارا ہی نہیں لیتے۔

انہوں نے اس موقع پر دلیل یہ دی تھی کہ انسانی قتل کے ملزموں کا کھوج لگانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست کے ادارے اگر مفلوج ہو جائیں تو کوئی فرد کیسے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔؟اس پولیس میں اتنی سکت ہی نہیں کہ کسی طاقتور کو قانون کے شکنجے میں لا سکے۔ البتہ وہ اس کیس کی بنیاد پر بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ کر کے مال ضرور بنائے گی، اِس لئے ہم اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری موجودگی میں مولانا عبدالمجید ندیم کے ایک ارادت مند نے پُرجوش لہجے میں کہا کہ اس قتل کا سوچ کر اس کا جسم غصے سے تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔اگر قاتل اس کے سامنے آ جائیں تو وہ اپنے ہاتھوں سے انہیں قتل کر دے۔

یہ سُن کر مولانا صاحب کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تیرنے لگی۔ انہوں نے جذباتی ارادت مند کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے معصوم اور مظلوم بندوں کے قتل کا انتقام خود لیتا ہے۔اُس کے انتقام سے نہ تو کوئی بچ سکتا ہے اور نہ اُس جیسا انتقام کوئی انسان دوسرے انسان سے لے سکتا ہے۔اِس لئے ہمیں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اگر ہم بھی وہی کریں گے جو قاتلوں نے کیا ہے تو پھر اُن میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا؟

انہوں نے اپنی یہ بات طاہر ندیم کی نمازِ جنازہ کے وقت بھی ثابت کی، جنازے میں ہزاروں افراد موجود تھے اور خدشہ تھا کہ شرکاء کسی جذباتی ردعمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر غم سے نڈھال،مگر صبر و استقامت کا پیکر بنے مولانا عبدالمجید ندیم مائیک پر آئے اور کہا : ’’دُکھی ضرور ہوں، مگر ہوش میں ہوں۔

مَیں آپ سے درخواست کرتاہوں کہ نمازِ جنازہ کے بعد خاموشی اور امن کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں، کوئی احتجاج ہو گا نہ نعرے لگیں گے‘‘۔پھر اُن کی آواز رُند گئی۔ تھوڑی دیر بعد گویا ہوئے : ’’پاکستان ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ اسے ہر صورت میں قائم رہنا ہے، چاہے ہمیں تمام بیٹوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے‘‘۔اس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی۔بعدازاں صدمے اور غم سے نڈھال جنازے کے شرکاء اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔

شام ہوئی تو ہم مولانا کے پاس پھر حاضر ہوئے۔ مَیں نے مولانا صاحب سے پوچھا کہ اس سانحہ کے بعد اتنے صبر و شکر کا اظہار کس طرح ممکن ہوا، ایسے موقعوں پر تو بڑے بڑے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔اس پر مولانا عبدالمجید ندیم نے حضرت لقمان کا ایک واقعہ سنایا۔۔۔ حضرت لقمان جب سات برس کے تھے تو اُس وقت کے بادشاہ نے اُن کی حکمت و دانائی سے متاثر ہو کر اُنہیں اپنی قریبی نشست سونپ رکھی تھی۔ ایک بار کسی دوسرے مُلک کا وفد بادشاہ سے ملنے آیا تو اپنے مُلک کا ایک خاص پھل تحفے کے طور پر لایا۔ اُس کے بعد اُسے دیگر لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پھل اتنا کڑوا تھا ، جس نے بھی چکھا چھوڑ دیا، لیکن حضرت لقمان کم عمر ہونے کے باوجود وہ پوری قاش ختم کر گئے۔

اس پر بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ کیا اُنہیں پھل کڑوا نہیں لگا؟ حضرت لقمان نے جواب میں کہا، پھل کڑوا ضرور تھا، مگر وہ اُن ہاتھوں نے دیا تھا جو ہمیشہ میٹھا پھل دیتے ہیں۔ اب اِس سے بڑی ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمیشہ میٹھا پھل دینے والا اگر کبھی کڑوا پھل دے تو اُس پر ناراضی ظاہر کی جائے۔۔۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد مولانا عبدالمجید نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں زندگی کی ہر نعمت سے نوازاہے۔

طاہر ندیم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت اور امانت کے طور پر 25سال تک اُنہیں سونپے رکھا،اب اگر یہ امانت واپس لے لی گئی ہے تو مجھے اس پر شکوہ یا گِلہ نہیں کرنا چاہئے۔وہ میری جاگیر تھا اور نہ مَیں نے اُسے کہیں سے خریدا تھا، وہ تو اللہ تعالیٰ کی دین تھا، اُس کی جتنی زندگی تھی، اُسے گزار کرواپس لوٹ گیا، اللہ کی رضا کے آگے سر کشی نہیں، سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔

مولانا عبدالمجید ندیم اس سانحہ کے بعد اپنا ملتان والا گھر بیچ کر راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ لوٹ کر پولیس سے یہ نہیں پوچھا کہ اُن کے بیٹے کا قاتل گرفتار ہوا یا نہیں، بس معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔

مَیں آج ساہیوال سانحہ کے مدعی خاندانوں کی حالت اضطراب دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہ اب ہر کوئی تو مولانا عبدالمجید ندیم جیسا صبر ایوب رکھنے والا نہیں ہوتا۔ زخم لگنے پر ایمان کا مرہم تو نصیب والوں کو ملتا ہے۔ باقیوں کو تو ریاست کی ڈھارس اور مدد درکار ہوتی ہے تاکہ انہیں انصاف فراہم کر کے اُن کے دُکھوں کا کسی حد تک مداوا کیا جا سکے۔ معاشرے اور ریاست نے مولانا عبدالمجید جیسے صابر و شاکر انسان کو تنہا چھوڑ دیا،مگر اُن کے پاس ایمان کی طاقت تھی،اِس لئے وہ یہ سوچ کر سنبھل گئے کہ اُنہیں انصاف اللہ دے گا،لیکن سانحہ ساہیوال کے مظلومین تو ریاست سے انصاف مانگ رہے ہیں۔

صاف لگ رہا ہے کہ ریاستی ادارے اُن کی مدد نہیں کر رہے۔ سامنے کی حقیقتوں کو جھٹلایا جا رہا ہے۔ نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ ایک ماں تو صرف یہ بھیک مانگ رہی ہے کہ اُس کے بیٹے پر دہشت گرد کا الزام ختم کر دیا جائے۔ یہ سانحہ ہوا تو پوری قوم سکتے میں آ گئی۔ حکومت کی ہر بڑی شخصیت نے انصاف فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کئے۔

قاتلوں کو نشانِ عبرت بنانے کے دعوے بھی کئے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر نیا دن اس سانحہ پر مٹی ڈالنے کی کوشش کا گھناؤنا کردار ادا کرنا نظر آ رہا ہے۔ ڈور ہے کہ الجھتی ہی چلی جا رہی ہے اور ورثاء کا صبر ہے کہ اب آخری کنارے پر آ لگا ہے، جی تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں یہ مشورہ دیا جائے کہ وہ مولانا عبدالمجید ندیم کی طرح اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ کر خاموش ہو کر بیٹھ جائیں۔

اس نظام میں اتنی سکت نہیں کہ مظلوموں کو انصاف دے سکے ،پھر جب مقابل پولیس ہو تو اس نظام کے اندر جو رہی سہی طاقت ہے وہ بھی جواب دے جاتی ہے۔وہ ساری زندگی دیواروں سے سر ٹکراتے رہیں گے،لیکن انہیں انصاف نہیں ملے گا۔

یہ ایسا سچ ہے جسے جھٹلانا بذاتِ خود ایک بہت بڑا جھوٹ ہو گا،مگر سوال یہ ہے اِن غریبوں کے پاس تو صبر جیسی طاقت بھی نہیں۔یہ تو اللہ کی دین ہے، وہ جسے دے، بس ایک دُعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ یا تو ان مظلوموں کی غیبی امداد کرے یا پھرانہیں وہ صبر عظیم عطا کرے جو ان کے سینوں میں لگی دُکھ کی آگ بجھا کر انہیں ایک پُرسکون اور معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بنا دے۔

مزید : رائے /کالم


loading...