خاک نشینوں کا خون،رزقِ خاک؟

خاک نشینوں کا خون،رزقِ خاک؟
خاک نشینوں کا خون،رزقِ خاک؟

  


ہمارے سیاسی قائدین، حکمران ہوں یا حکومت سے باہر سب کی زبان پر یہ لفظ عام ہے اور ہر کوئی ہر بار اسے ہی دہراتا ہے۔ سالہا سال سے سنتے آ رہے ہیں۔ ’’عام آدمی‘‘ متاثر نہیں ہوگا۔ ’’عام آدمی‘‘ کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے ابھی تک تویہ تعین نہیں کیا گیا کہ یہ ’’عام آدمی‘‘ ہے کون اور اس کے بارے میں یہی کیوں کہا جاتا ہے، بجٹ آئے، ٹیکس لگیں وزیرخزانہ سے لے کر سربراہ حکومت تک یہی کہتے ہیں۔ عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا۔

ادھر حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کہہ رہے ہوتے ہیں عام آدمی کی کمر پر اور بوجھ لاد دیا گیا۔ اب ذرا غور کریں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ اور گیس کے نرخ بڑھا دیئے گئے۔ عام آدمی متاثر نہیں ہوگا، اس حوالے سے غالباً عام آدمی سے مراد وہ طبقہ ہے جسے خود کو یہ خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کا بجلی اور گیس کا بل کتنے کا آیا ہے کہ یہ ادائیگی وہ خود تو کرتے نہیں ہیں، ان کے ملازم ہی کرتے ہیں اور اس سلسلے میں جب حزب اختلاف والے اظہار ہمدردی کرتے ہیں تو ان کی مراد ہم جیسے لگی بندھی آمدنی اورشہروں میں رہنے والے لوگ ہی ہو سکتے ہیں کہ بجلی اور گیس کا بل بڑھے گا تو ان کی آمدنی متاثر ہو گی کہ مہنگائی ہو تو آمدنی کم ہو جاتی ہے، دوسرے معنوں میں مہنگائی سے گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے۔

اب ذرا غور کریں تو اس عام آدمی کے ساتھ معاشرے میں کیا گزرتی ہے، زور زبردستی والے اس کی پٹائی بھی کر دیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑتا،حتیٰ کہ قتل بھی کر دیں تو کوئی دم نہیں مار سکتا اور پھر اسی عام آدمی کا نام لے کر سیاست کی جاتی اور آہیں بھر بھر کر اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، ان سے ووٹ لے کر اقتدار مل جائے تو پھر یہ بے چارے ہو جاتے ہیں، ان کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا، ایسا ہی آج کل سانحہ ساہیوال والوں کے پسماندگان یا لواحقین کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ایک ہی جھٹکے کی فائرنگ نے بچوں کی ماں اور باپ کے ساتھ بڑی بہن بھی چھین لی، تینوں معصوم بھی زخمی اور سہمے ہوئے ہیں۔

ان کو انصاف کا یقین ہی نہیں دلایا گیا بلکہ اظہار ہمدردی میں بھی سبقت لے جانے کی دوڑ لگ گئی لیکن ہوا کیا۔ ذی شان کی والدہ فریادی ہے کہ اس کے بیٹے کو ’’زندہ کیوں گرفتار نہیں کیا گیا‘‘ وہ کہتی ہیں، ہمیں کچھ نہین چاہیے ،بیٹے پر دہشت گرد کا لگایا گیا لیبل اتارو، مقتول خلیل کے گھرانے والے دربدر ہیں، وہ جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کرکے ’’عدالتی کمیشن‘‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کوئی فریاد سننے والا نہیں۔

کہنے والوں نے ابتدائی ہی سے کہہ دیا تھا کہ مقتولین کا کچھ نہیں بنے گا، ان کے لواحقین کو انصاف نہیں ملے گا کہ ’’یہ خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا‘‘ اب جو بھی تصویر سامنے آئی اس نے ثابت کر دیا کہ ’’عام آدمی‘‘ کے جو خدشات تھے وہی پورے ہونے جا رہے ہیں، یہ بہیمانہ قتل عام بھی فائلوں میں دب کر رہ جائے گا کہ قاتل وردی میں تھے اور جن کو فائرنگ اور قتل کے الزام میں پکڑا گیا وہ مکر گئے کہ حملہ انہوں نے کیا وہ کہتے ہیں۔ دہشت گرد کے ساتھی کار کے ساتھ موٹرسائیکلوں پر تھے اور ان کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ سے کار والے قتل ہو گئے۔

قصہ تمام شد، اگر یہی بات اور موقف درست مان لیا جائے تو پھر یہ جے آئی ٹی کیوں؟ اور گیارہ میں سے چھ زیر حراست اہل کاروں کے باقی ساتھی کہاں ہیں؟ اور جو گرفتار کئے گئے ان کو کسی عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا۔ وہ کہاں ہیں اور ان کا یہ بیان کہاں سے آیا؟

اب حالات یہاں تک آ گئے کہ مقتول خلیل کے لواحقین کو بیانات کے لئے طلب کیا جا رہا ہے ان سے ساہیوال آنے کو کہا گیا ہے۔ان کو جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں، وہ عدالت عالیہ سے رجوع کر رہے ہیں تو وہ کیوں پیش ہوں اور پھر مقتول خلیل کے بھائی جمیل کا یہ کہنا درست ہے کہ ان کو اعتماد نہیں تو پیش کیوں ہوں، حکمرانوں نے اس سلسلے میں بہت دعوے کئے تھے اور انصاف کا برملا اعلان کیا تھا۔

لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب سیاسی اور وقت گزاری کے تھے اگر یہ بھی ہے تو پھر کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی؟آپ ملازمین کو تحفظ دینا چاہتے ہیں تو پھر برملا اعلان کریں تاکہ لوگ فیصلہ کر سکیں کہ انہوں نے اگلا قدم کیا اٹھانا ہے، لیکن یہاں تو صورت حال ہی مختلف ہے۔

صوبائی حکومت موجودہ حالات سے مطمئن ہے تبھی تو جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا ہے اور یوں حکومت کے نزدیک پولیس جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ درست ہے لہٰذا مداخلت کی ضرورت نہیں۔ تاہم شواہد بتاتے ہیں کہ یہ خون ناحق ہے اور مقتولین کو جانتے بوجھتے ہوئے قتل کیا گیا۔سوال یہ ہے کہ یہ سزا کسی جرم ثابت ہونے سے پہلے دی گئی اور اگلے روز سے ہی ’’دہشت گرد‘‘ کہنا شروع کر دیا گیا۔

ابھی تک تو سی ٹی ڈی کے فائرنگ کرنے والے ملازمین کی طرف سے فائرنگ والی رائفلیں بھی فرانزک لیبارٹری کو نہیں دی گئیں۔ وہ مواقع واردات سے ملنے والے خولوں پر صاد کررہے ہیں۔اگر ملزموں کی رائفلیں نہ دی گئیں تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ ملنے والے خول، مقتولین کو لگنے والی گولیاں کس رائفل سے چلائی گئی تھیں اور پھر ایسی واردات میں چشم دید گواہ کہاں سے آگئے۔ بات اتنی سی ہے :

یہ خون خاک نشیناں تھا، رزقِ خاک ہوا!

مزید : رائے /کالم


loading...