پاکستان میں عوامی تفریح کا فقدان

پاکستان میں عوامی تفریح کا فقدان
پاکستان میں عوامی تفریح کا فقدان

  


اِنسانی معاشرے میں خواہ وہ قدیم ہو یا جدید، اِنسان کو اپنے گذر بسر کے لئے کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا تھا، زمانہ قدیم میں چند ہی روز گار کے ذرائع ہوتے تھے جن میں حکمت، زراعت، دستکاری، اَمن عامہ اور سپہ گیری زیادہ اہم تھے۔ ہم برِصغیر کے صرف 150 سال پہلے روزگار کمانے کے سینکڑوں پیشوں سے ناواقف تھے۔

ائیر لائنیں تھیں اور نہ اُن سے جُڑے ہوئے لوازمات ، نہ ہی بینک ، انشورنس کمپنیاں ، کم از کم ہمارے ہاں ابھی عام نہ تھیں۔ ریلوے، ڈاکخانہ، ٹیلی فون اور دوسرے مواصلاتی ذرائع بھی ابھی اپنی اِبتدائی شکل میں نظر آنے شروع ہوئے تھے۔ تعمیراتی صنعت بھی ابھی جدید خطوط پر قائم نہ ہوئی تھی۔ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ملازمین ابھی تعداد میں بہت کم تھے۔

طعام خانے، ہوٹل اور چائے خانوں میں کھانا پینا اُن دِنوں معیوب سمجھا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہم لڑکوں پر گھر میں سب کے ساتھ کھانا کھانے کی پابندی ہوتی تھی۔

معاشرہ آج کی طرح جدید اور کمپلکس نہیں ہوا تھا۔ دولہنیں گھر میں ہی سجائی جاتی تھیں۔ مہندی ، دنداسے، سُرمے اور کاجل سے کام چلایا جاتا تھا۔ نہ موٹر کاریں اور اُن سے جُڑے ہوئے سینکڑوں روزگار مہیا تھے۔

ہر کام ہاتھوں سے یا جانوروں کی مدد سے کرنا ہوتا تھا۔ اُس کے باوجود ، ہمارے اُس وقت کے معاشرے میں عوام کو تفریح کے ذرائع بغیر ٹکٹ اور بغیر جبری معاوضے کے مل جاتے تھے۔ جو خواص امیر اور خوشحال تھے وہ گُھڑ سواری ، تیراندازی، تلوار بازی، رتھوں اور ہاتھیوں کی ریس اور مُجروں سے لُطف اندوز ہوتے تھے۔ متوسط طبقہ بٹیربازی، کبوتر بازی، مرغ لڑانے ،کتے لڑانے میں دِل بہلا لیتا ، قوالی اور کلاسیکی موسیقی سے بھی تفریح، حاصل کرتا تھا ۔ غریب غربا کو عوامی تفریح بازی گروں ، سانپ اور نیولے کی لڑائی ، ریچھ اور بندر کا تماشہ کرنے و الوں سے سڑکوں اور چوراہوں پر مل جاتی تھی۔ دیہاتوں میں داستان گوئی، ہیر گانے کے مقابلے، کبڈی، گِلی ڈنڈا، لُکن مِٹی (آنکھ مچولی) ہوتے تھے۔

دانشور طبقے مشاعرے اور مضمون گوئی کے اشغال سے دِل بہلاتے تھے، بلکہ 50اور60 کی دھائیوں تک ریڈیو سیلون کی بناکا گیت مالا جو امین سیانی کی پیش کش ہوا کرتی تھی اُس کا ہر صبح اِنتظار رہتا تھا۔ ہمارے ریڈیو پاکستان کے رات کے ڈراموں کو کیا جو ان اور کیا بوڑھی خواتین ریڈیو سے سر جوڑ کر سنتی تھیں۔ زندگیوں میں ٹہراؤ تھا۔ بے کار ہل چل نہ تھی۔ بیڑہ غرق ہو اس سمارٹ فون کی ٹیکنالوجی کا کہ ہر طرف ہنگامہ اور شور شرابے کے باوجود ماحول میں خاموشی چھائی رہتی ہے۔ نوجوان نسل منہ سے کم بولتی ہے اور بجلی کی تیزی کی طرح حرکت کرتی انگلیوں سے زیادہ بولتی ہے۔ ہر کوئی نزدیک نزدیک بیٹھ کر بھی ہزاروں لاکھوں میل کا ریڈائی سفر طے کرکے اپنے لکھے ہوئے لفظوں کو ایک دوسرے تک Cell phone کے ذریعے پہنچاتا ہے۔

نظریں اُٹھائے بغیر خود ہی ہنس رہے ہوتے ہیں اور اچانک زور سے shit کا نعرہ مار کر پھر اُنگلیاں تیز چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ برابر کے ساتھی کی شکل بھی کم دیکھتے ہیں۔ چائے یا کافی کا گھونٹ بھی منٹوں بعد لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ شہروں میں رہنے والوں کے اَب کئی طبقے بن گئے ہیں۔ جو بہت امیر ہیں وہ اپنی ’’ہر طرح‘‘کی تفریح کا اِنتظام اپنے ذاتی فارم ہاؤسز میں کرتے ہیں۔ اُن کی تفریح میں نئی گاڑیوں کے برانڈ، ڈیزائنر کپڑوں کی بوتیکوں کے پتے اور اگلے فارن ٹرپ کا پروگرام بنانا ہوتا ہے۔ اس طبقے سے کم امیر طبقہ ڈیل(Deals)ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ایک دوسرے کو مختلف Deals کی اِطلاعات دیتے ہیں اور اِن کی خواتین اجتماعی شاپنگ کرنے مالز پر جاتی ہیں، بچوں کو بھی ساتھ لے جاتی ہیں اور فوڈ کورٹس پر بھی یلغار کرتی ہیں۔ اس طبقے سے کم ہے مڈل کلاس۔ ان کی خواتین کو کمیٹیاں ڈالنے کا شوق ہوتا ہے کمیٹی چھوٹی ہو یا بڑی۔ ہر ماہ جس کی کمیٹی نکلتی ہے وہ کسی ریسٹورنٹ میں یا اپنے گھر میں ’’ون ڈش‘‘ کے اہتمام کے ساتھ دعوت دینے کی پابند ہوتی ہے۔ کاروباری مرد حضرات بھی کمیٹیاں ڈالتے ہیں۔

اس میں اُن کی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔ دراصل یہ سب تفریح کے زمرے میں نہیں آتے۔ اصل تفریح تو بدن اور دماغ کو مشقت دینے سے ہوتی ہے۔ ایسی تفریح جس میں آپ اپنے جسم کو تھکا کر راحت محسوس کریں۔ جم خانوں والی مشقت عوامی نہیں ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں عید کے لئے سویاں گھر پر ’’گھوڑی‘‘ ڈال کر تیار ہوتی تھیں۔ میری عمر کے ہر مسلمان کو وہ دن یادہوں گے جب ہم نوجوان لڑکوں کو مائیں ، خالائیں اور چاچیاں بُلا کر ’’گھوڑی‘‘ کے ہنڈل کو گھُما کر میدے کی موٹی پتلی سویاں نکالنے کا اہتمام کرتی تھیں۔ ہم احمق اپنی طاقت کے مظاہرے کے لئے ’’گھوڑی‘‘ (Extruder) کے ہینڈل کو تیزی سے گھماتے تھے۔

سانس چڑھ جاتا تھا۔ ہانپ رہے ہوتے تھے، لیکن ’’گھوڑی‘‘ پر زور آزمائی کر رہے ہوتے تھے۔ یہ ہم لڑکوں کی بھی اور گھر کی خواتین کی تفریح ہوتی تھی۔ زور لگا لگا کر ہمارے چہرے سُرخ ہو جاتے تھے پھر کوئی ماں یا بڑی بہن ہم پر ترس کھا کر آرام کا مشورہ دیتی ۔ یہ کھیل سارا دِن چلتا رہتا۔ سویوں کو دھوپ میں سُکھا کر اُنہیں سٹور کرنے تک ہنسی اورقہقہے نکلتے تھے ۔ بھرپور Interactive تماشا سارہتا تھا۔ اَب کہاں وہ معصومانہ مزے اَب تو ہمارا نوجوان طبقہ اپنے جسم کوزور آزمائی کے شغلوں کی طرف مائل ہی نہیں کرتا۔

اِن کی ہڈیاں کمزور۔ بیماری کی مدافعت کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اَب اِن کے دماغ ہی دماغ ہیں یا دھان پان سے جسموں پر تنگ پتلونیں اُن کی سوکھی سوکھی ٹانگوں پر چڑھی ہیں۔

بچپن کی ایک اور بلا ٹکٹ تفریح ہوا کرتی تھی۔ ہم سب کے گھروں میں عموماًبان (مُنجھ)سے بنی ہوئی لکڑی کی چارپایاں ہوتی تھیں۔ کچھ عرصے استعمال کے بعد اِن چارپایوں کی ’’ادوائین‘‘(Rope) کی رسی ڈھیلی پڑ جاتی تھی۔ اُس ادوائین کو کسنے کی ڈیوٹی عموماً کسی بیٹے،بھانجے یا بھتجے کی لگتی تھی اگر وہ اِتفاق سے ملنے آیا ہو۔

میرے ساتھ تو یہ ضرور ہوتا تھا۔ جوں ہی میَں کسی خالہ یا مامی کے گھر والدہ کے ہمراہ جاتا تو ایسے لگتا تھا کہ خالہ میرا انتظار ہی کر رہی ہے۔ فوراً ادوئین کسنے کا حکم مِل جاتا اور میَں اپنی نوجوانی کی طاقت کی نمائش کے لئے جُت جاتا کام میں۔ خالہ کی نوجوان لڑکیوں کو متاثر کرنے کیلئے، اَندر ہی اَندر ہانپ لیتا تھا، لیکن کام چوکھا کرکے دکھاتا تھا۔

چونکہ اپنی جوانی، طاقت اور مردانگی کی شو بازی کا موقع ملتا تھا تو یہ ہی Fatigue تفریح بن جاتی تھی۔ تفریح خواہ جسمانی ہو یا دماغی، متاثر یہ دماغ کوہی کرتی ہے کیونکہ تفریح کسی بھی قسم کی ہو اُس سے خوشی اورراحت ملتی ہے جس کا تعلق دماغ سے ہی ہوتا ہے۔اِسی لئے افغان اور اُزبک فارسی میں تفریح کو خوش باشی کہتے ہیں۔ آج کل ہر قسم کی تفریح عوامی دائرے سے نکل کر کلبوں کے ہتھّے چڑھ گئی ہے۔ آپ کو یادہو گا آج سے 50 یا 60 سال پہلے شطرنج گلی محلّوں کے تھڑوں پرکھیلی جاتی تھی۔ اس کھیل کو شروع تو دو کھِلا ڑی ہی کرتے تھے، لیکن آہستہ آہستہ مشورے دینے والوں کا شطرنج کے گِرد بڑا گھیرا بنتا جاتا تھا۔ کچھ اُدھیڑعمر کے لُنگی، کُرتہ پہنے اُستاد قسم کے لوگ بھیڑ میں سے آواز لگا کر گھوڑے اور فیلے کی چالیں بتا رہے ہوتے تھے۔ بعض دفعہ تو اوریجنل کھِلاڑی ایک طرف ہو جاتے تھے اور اُسی شطرنج کی بچھی بساط کو وہ بابے چلانے لگتے تھے۔ شطرنج کی بچھی ہوئی بساط سے 20 - 30آدمی مزے لے رہے ہوتے تھے۔

مہذب آوازے لگتے تھے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو شطرنج کی ایک باری 8-9 گھنٹے چلتی تھی۔ میَں نے اپنی آنکھوں سے شطرنج کے ایک رسیا کو دیکھا کہ اُسے گھر سے ایمرجنسی کے بلاوئے آرہے ہیں کہ بیوی کو ہسپتال لے جانا ہے چلّے کے لئے، لیکن وہ شطرنجیا اپنے شو سے ہل کر نہ دیا یہاں تک کے گھر سے خبر آئی کہ بچہ گھر میں ہی پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ بھی تفریح کے موڈ میں ۔ وہیں مبارکباد کے نعرے لگ گئے اور اُس شطرنجیے نے اپنی post نہ چھوڑی۔خیر یہ تو اِنتہا ہے دیوانگی کی کسی بھی تفریح کے لئے۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ پُرانے وقتوں میں اِنسان کو ہر کام ہاتھو ں سے کرنا پڑتا تھا۔ پیدل چلنا پڑتا تھا۔ سواری کے لئے تانکہ ، ریڑہ یا گدھے ہوتے تھے۔ شام ہوتے ہی اندھیرے میں اِنسانوں کے لئے کوئی کام نہ تھا اس لئے داستان اور قصہ گو، فوک شاعری، پُتلی تماشاکرنے والے میدان میں آئے۔ آج کے تیز رفتار زمانے نے اِنسانوں کو وقت تو مہیا کر دیا، لیکن تفریح کوتجارت بنا کر ہم عوامیوں کی پہنچ سے دور کر دیا۔

اَب تو سینما جیسی خالص شہری اورعوامی تفریح بہت قیمتی اور رکھ رکھاؤ میں جکڑی ملتی ہے۔ ہمارے زمانے کے عوام بائسکوپ دیکھتے آتے تھے۔ مونگ پھلی ضرور خریدتے تھے سینما ہال میں کھانے کے لئے اپنے سے آگے والی سیٹ پر پاؤں پسار کرچھلکوں کا گند فرش پر پھنکتے تھے۔ مالکانِ سینما اس گند کو ہر شو کے بعد اُٹھانے کے عادی تھے ۔

منڈوے جانے والے ہمارے عوام آزادی سے فلم سے مزے لیتے تھے۔ آوازیں کستے تھے، کوئی سین اچھا آ گیا تو سکرین پر ریز گاری پھینکنا لازمی ہوتا تھا۔ ہم اس عوامی روّے کو اَب جہالت اور بے ہودہ کہتے ہیں (ٹھیک کہتے تھے) ،لیکن عوام کی تفریح کا اَنداز آج بھی نہیں بدلا ۔ گورنر ہاؤس جب عوام کے لئے کھولا گیا تو اِن عوام نے گورنر ہاؤس کے گھاس کے میدانوں کو روندنے میں کوئی کَسر نہ چھوڑی۔پاکستانی عوام کی تفریح نظم و ضبط کی زنجیروں میں جکٹری نہیں جا سکتی۔ ہم ا یسے ہی تھے اور ایسے ہی رہیں گے۔

البتہ ہمارے روائتی تفریح کے ذرائع معدوم ہوتے چلے جائیں گے۔ برِصغیر کے عوام ضابطوں کی قید میں تفریح کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ میَں خواص کی بات نہیں کر رہا۔

مزید : رائے /کالم


loading...