جنوری 2019مہنگائی میں7فیصد سے زائد اضافہ

جنوری 2019مہنگائی میں7فیصد سے زائد اضافہ

کراچی (اکنامک رپورٹر)روپے کی قدر میں تیزی سے ہونے والی کمی کی وجہ سے ابتدا میں حاصل ہونے والے فوائد کے ثمرات زائل ہوگئے جس کے نتیجے میں سال 2019 کے پہلے ماہ میں ہی مہنگائی میں 7.2 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح نے 4 سال کی انتہائی بلند سطح 6.78 فیصد کو عبور کرلیا تھا جس کے بعد نومبر اور دسمبر میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث بڑے شہروں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمت کے اعتبار سے مہنگائی میں معمولی سی کمی ہوئی۔واضح رہے کہ حکومت نے مالی سال 19۔2018 کے لیے مہنگائی کی سطح 6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا تاہم جنوری میں ہی مہنگائی نے اس سطح کو عبور کرلیا جبکہ مالی سال 2018 میں مہنگائی کی شرح 3.92 اور اس سے قبل کے مالی سال میں 4.16 فیصد تھی۔گزشتہ 2 سال سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت مانیٹری پالیسی کی بدولت مہنگائی میں اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 0.25 فیصد کے اضافے کے بعد شرح سود 10.25 فیصد ہوگئی جو 6 سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے، اسٹیٹ بینک نے گزشتہ برس جنوری سے اب تک اس میں کل 4.50 فیصد کا اضافہ کیا۔دوسری جانب مہنگائی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ خوراک اور توانائی کے علاوہ دیگر چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہے، جو کور انفلیشن کہلاتا ہے اس میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں کی پیمائش نہیں کی جاتی۔کور انفلیشن کی سطح سالانہ جائزہ لیا جائے تو یہ 8.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس میں ماہانہ بنیادوں پر 1.1 فیصد اضافہ ہورہا ہے، سخت مانیٹری پالیسی کے باوجود کور انفلیشن گزشتہ چند ماہ سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔رواں برس جنوری میں خوراک کے شعبے میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد مہنگائی ہوئی جبکہ طویل عرصے تک خراب نہ ہونے والی خوراک کی قیمتوں میں 4.7 فیصد اور جلد خراب ہونے والی خوراک کی قیمت میں 16.6 فیصد اضافہ ہوا۔جنوری میں جن چیزوں کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں ٹماٹر (27.55 فیصد)، لہسن (22.83 فیصد)، بروفین دوا (14.02 فیصد)، چینی (3.15 فیصد)، فلیجل دوا (5.51 فیصد)، دال مونگ (2.73 فیصد) شامل ہیں۔دوسری جانب چکن کی قیمت میں 18.06 فیصد کمی ہوئی اسی طرح آلو کی قیمت 15.01 فیصد، مٹر 11.36 فیصد، لیموں 9.92 فیصد، پیاز 5.50 فیصد، بند گوبھی 5.17 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 1.27 فیصد کمی ہوئی۔علاوہ ازیں خوراک سے ہٹ کر دیگر اشیا کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا جس کی سب سے بڑی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔

مزید : کامرس


loading...