وفاقی چیمبر نے شرح سود میں اضافے کو سرمایہ کاری مخالف پالیسی قرار دے دیا

وفاقی چیمبر نے شرح سود میں اضافے کو سرمایہ کاری مخالف پالیسی قرار دے دیا

کراچی(اکنامک رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامر س اینڈانڈ سٹر ی کے صدر انجینئر داؤد خان اچکز ئی نے پچھلے دو ما ہ میں شر ح سود میں 0.25فیصد اضا فے پر تشو یش کا اظہار کیا کہ مر کز ی بینک میں یہ اضا فہ افراط زر میں اضا فے ، پاکستانی کر نسی میں کمی اور تجا رتی خسا رے اور کرنٹ اکا ؤنٹ کے خسا رے میں اضا فے کی وجہ سے کیا ۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ مر کز ی بینک پچھلے ایک سال سے سخت ما نیٹر ی پالیسی اپنا ئے ہو ئے ہے اور پچھلے ایک سا ل میں 4.5فیصد شر ح سو د میں اضا فہ کیا ہے مر کز ی بینک کی اس پالیسی سے سر مایہ کا ری میں کمی ہو ئی ہے جس کا اثر معا شی سر گر میوں پر بھی پڑا ہے۔ اعداد و شما ر کے مطا بق پاکستان میں سر ما یہ کا ری GDPکا تنا سب صرف 16.4فیصد ہے جبکہ یہ تنا سب بھا رت میں 30فیصد اور بنگلادیش میں 31فیصد ہے۔ انجینئر دا ؤد خان نے شر ح سود میں اضا فے کو سر ما یہ کا ری مخالف پالیسی قر ار دیتے ہو ئے کہاکہ اس پالیسی نے اس ما لیا تی سا ل کے پہلے چھ ما ہ میں بڑ ی پیمانے کی صنعتو ں کی گرو تھ میں کمی کی ہے خا ص طو رپر ٹیکسٹا ئل ، فو ڈ، مشروبات ، پٹر ولیم ، لو ہے، دواسازی، الیکٹرانکس اور لکٹری کی صنعت پرمنفی اثرات مر تب کیے ہیں ۔ انجینئر داؤد خان اچکز ئی نے مزید کہاکہ علا قا ئی ممالک کی معیشتو ں کے مقابلے میں پاکستان میں شر ح سو د اس وقت سب سے زیا دہ ہے خا ص طو ر پر بھا رت میں شر ح سود 6.5فیصد ، چین میں 4.3فیصد، سر ی لنکا میں 9.0فیصد ، تھا ئی لینڈ میں 1.75فیصد، انڈ ونیشیا میں6.5فیصد، ملا ئیشیا میں 3.25فیصد وغیر ہ ۔ انہو ں نے مز ید کہاکہ اس وقت پاکستان میں افراط زر 6سے7فیصد ہے جو کہ پچھلے سال اسی عر صے میں 3.8فیصد تھا ۔پاکستان میں افراط زر کی وجہ کا رو با ری لا گت میں اضا فہ ہے جو کہ demand managementپا لیسی سے کنٹر ول نہیں کی جا سکتی ،پا کستان میں افراط زر کی وجہ کا cost of doing business ، یو ٹیلیٹی کی قیمتو ں میں اضا فہ ، انڈسٹریل inputs کی قیمتو ں میں اضا فہ اور ضروری اشیاء کی shortageہے ۔ انجینئردارو خان اچکزئی نے کہاکہ حکومت کو چا ہیے کہ وہ creditکی طلب میں اضا فے کے لیے شر ح سود میں اضا فہ کر ے اور access to finance کو آسا ن بنا ئے ، عالمی سطح پرما نیٹر ی پالیسی کا مقصد کر نسی کی ویلیو کو protect کر نا مالیاتی پالیسی کے تعا ون سے تا کہ macro-economic stability ، افراط زر کو کنٹرول اور نجی سیکٹر کی سر مایہ کا ری بڑھا نے کے مقا صد حاصل کیے جا سکیں ۔ انجینئر داؤد خان اچکز ئی نے کہاکہ حکومت کو چا ہیے کہ وہ مر کز ی بینک اور دیگر اداروں سے قر ضے لینے کے بجا ئے اپنیfiscal resources میں اضا فہ کر ے۔ مر کزی بینک کی رپو رٹ کے مطا بق اس ما لیا تی سال کے پچھلے چھ ما ہ میں نجی شعبے کے کر یڈ ٹ میں اضا فہ ہو ا ہے لیکن یہ اضا فہ زیا دہ تر خام مال میں اضا فے ، (کپا س)پٹر ولیم مصنوعات میں اضا فے، بجلی اور تعمیرات سے منسلک میں انڈ سٹر یز میں ہو ا ہے ۔ انہون نے کہاکہ بینکو ں کو چا ہیے کہ وہ دو سر ی صنعتو ں کے کر یڈٹ میں بھی اضا فہ کر ے۔

مزید : کامرس


loading...