بہترین معاشی پالیساں‘استحکام کے آثار نظر آنا شروع ،رضوان اشرف

بہترین معاشی پالیساں‘استحکام کے آثار نظر آنا شروع ،رضوان اشرف

فیصل آباد(بیورورپورٹ)حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں جس کا واضح ثبوت چند ماہ سے گرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رحجان سے محسوس کیا جا سکتا ہے، اگر خلوص دل سے موجودہ معاشی ٹیم اپنا کام کرتی رہے تو اس کے اثرات معاشرہ کے عام آدمی تک پہنچیں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے چےئر مین انجئنیر رضوان اشرف اور ریجنل چےئرمین چوہدری حبیب احمد گجر نے اپنے مشترکہ بیان کے ذریعہ کیا۔ انہوں نے کہا آج الحمد اللہ پاکستان دہشت گردوں سے پاک اور پرُ امن ملک بن جانے کے سبب سرمایہ کاروں کیلئے نہایت موزوں قرار د یا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے چند ماہ میں سعودی عرب پاکستان میں 30 ارب ڈالر کے ذریعہ تاریخ کی بہت بڑی سرمایہ کاری کرنے جارہا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے مثبت اثرات کے باعث یہاں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے ، گوادر میں سعودی عرب کی جانب سے آئل ریفائنری کا قیام بھی فائنل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی پالیسیوں اور اہداف میں عام آدمی کے مفاد کا خیال رکھا جائے، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ بھی اس ضمن میں خوش آئیند ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست مدینہ کی طرف ہماری حکومت اپنے قدم بڑھا رہی ہے جس سے ہر شخص خوشحال ہوجائے گا۔ ایسا وقت جب ہم قر ضوں کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرکے دوسروں کو قرضے دینے کے قابل ہو جائیں گے مگر اس کے لئے ہر فرد کو اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کوئی بھی ملک اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک ہر شخص اپنے ذمہ واجب ٹیکس ادا نہ کرے جس کے لئے حکومت کی یہ پالیسی کہ ہر نان فائلر کاروباری شخص کو ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ کر کے فائلر بنانا ایک نہایت اہم اور اچھا قدم ہے اس کیلئے حالیہ معاشی پیکج میں چھوٹے تاجروں کیلئے جس فکسڈ ٹیکس کے نفاذ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے نفاذ کے فوائد اور اثرات کا کسی کو اندازہ نہیں کیونکہ اس اقدام سے جہاں تاجروں کے سر پر ایف بی آر ( FBR ) کی لٹکتی تلوار سے نجات ملے گی اور وہ آسانی سے مجوزہ ٹیکس ادا کرکے ملکی خزانے کو بھرنے کا سبب بن جائیں گے بشر طیکہ فکسڈ ٹیکس کے نفاذ میں خواہ مخواہ کی اڑچن نہ ڈالی گئی تو یہ سکیم ہماری ملکی معیشت کو بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے اور ہر کمانے والا خوشی کے ساتھ رضاکارانہ ٹیکس ادا کرنے کو تیار ہو گا۔ اس لئے وزارت خزانہ کو اس کے نفاذ سے پہلے آمدہ دشواریوں اور سازشوں سے خبردار رہنا ہوگا۔ پاکستان میں ہر کاروباری شخص سے ٹیکس وصول کرنے کی پالیسی پر عملدر�آمد سے پہلے حکومت کو چائیے کہ وہ FBR کے نظام کو آسان بنائے اور FBR ٹیکس وصولیوں کے ساتھ ٹیکس نظام میں سہولت کار کا کردار ادا کرے۔ علاوہ ازیں ٹیکس کی شرح کم کی جائے تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان کا ہر کاروباری شخص بخوشی ٹیکس ادا کرے گا بشرطیکہ اس کو ٹیکس ادا کرنے کے ضمن ترقی یافتہ ممالک کی طرح ایک اچھے شہری کی سہولتیں بھی میسر ہوں ۔

مزید : کامرس


loading...