دنیا میں تاریخی مقامات بارے ٹورازم کی دو اقسام بطور صنعت عام ہیں ، عاطف خان

دنیا میں تاریخی مقامات بارے ٹورازم کی دو اقسام بطور صنعت عام ہیں ، عاطف خان

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر برائے سیاحت و امور نوجوانان محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ دنیا میں پرفضا جگہوں اور تاریخی مقامات کے حوالے سے ٹورازم کی دو اقسام بطور صنعت عام ہیں جبکہ سوات کے عوام خوش قسمت ہیں کہ یہاں دونوں طرح کے سیاحتی مقامات کی بہتات ہے اہل سوات کیلئے خوشخبری ہے کہ سیاحت کے حوالے سے بھی ان پر بہت اچھا وقت آنے کو ہے دنیا بھر سے سیاحوں کی نظریں اب سوات پر مرکوز ہیں جس کی بدولت یہاں روزگار اور خوشحالی کے نئے دروازے کھلنے والے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے سفیر تھامس کولے اور چئیرمین ڈیڈیک فضل حکیم خان کے ہمراہ سوات عجائب گھر اور بدھا کھنڈرات کے دورے کے موقع پر مقامی زعماء اور سینئر حکام سے بات چیت کے دوران کیا سوئس سفیر نے بھی سوات میں آثار قدیمہ بالخصوص بدھا کے کھنڈرات اور علاقے کی خوبصورتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں کی دلکشی کے گرویدہ بن گئے ہیں عاطف خان کا کہنا تھا کہ ماضی کے حکمرانوں کی لاپرواہی کے برعکس پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں پہلی بار سیاحت کی صنعت اور اہمیت کو صحیح معنوں میں سمجھا ہے ہم نے پہلے سے موجود تمام سیاحتی اور تاریخی مقامات کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ نئے علاقوں کی تلاش بھی شروع کی ہے اور اب تک 20 نئے مقامات کی نشاندہی کرکے انہیں سیاحوں کیلئے کھولنے کی غرض سے ابتدائی طور پر 50 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ انکی حکومت سیاحت کی ترقی کیلئے ہوٹل اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا کام سرکاری نہیں بلکہ نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے جبکہ حکومت صرف انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات مہیا کرنے کی پابند ہوگی انہوں نے کہا کہ گبین جبہ سمیت سوات اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت کے علاؤہ وہاں کے برفانی مزاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سکی ریزارٹ بھی قائم کئے جائیں گے جس کیلئے سوئس انٹرنیشنل اور دیگر متعدد بین الاقوامی کمپنیاں حکومت سے رابطے میں ہیں جبکہ ایسے تمام معاملات کی نگرانی، کنٹرول اور سہولیات کی فراہمی کیلئے صوبائی کابینہ کی منظوری سے ٹورازم اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جسے صوبائی اسمبلی کے ذریعے باقاعدہ قانونی حیثیت بھی دی جائے گی صوبے میں موجود آثار قدیمہ بالخصوص مہاتما گوتم بدھ کے نوادرات اور تاریخی کھنڈرات کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے سال سوئٹزرلینڈ میں ایک نمائش کیلئے وہ صوبائی وفد کے ہمراہ بدھا کا مجسمہ لیکر گئے تو چین کے بڑے بدھ راہب سمیت سری لنکا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سمیت دنیا بھر سے راہب اسکی زیارت کیلئے وہاں پہنچ گئے اور سوئٹزرلینڈ کے سفیر کی خیبرپختونخوا اور سوات آمد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس سے یہاں کے تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ و نوادرات کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارا صوبہ بلکہ پورا پاکستان میں سیاحت کے دونوں شعبوں میں سوئٹزرلینڈ سے کئی گنا زیادہ سیاحوں کی آمد شروع ہو جائے گی اور ہم اس شعبے میں بھی زرمبادلہ کما کر قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے قابل بن جائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...