گزشتہ برس دنیا بھر میں نوے لاکھ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوئے

گزشتہ برس دنیا بھر میں نوے لاکھ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوئے
گزشتہ برس دنیا بھر میں نوے لاکھ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوئے

  


کینسر کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے سال2008سے ہر سال 4فروری کو ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے ۔ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کینسر میں مبتلا ہوئے اور اس مرض کے باعث 96لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے۔ کینسر سے ہلاک ہونے والے آدھے افراد کا تعلق ایشیا سے ہوتا ہیکیونکہ یہاں کینسر کی کئی ایسی اقسام بھی پائی جاتی ہیں جو باقی دنیا میں موجود نہیں۔ پاکستان میں دل کے امراض کے بعد کینسر دوسری بڑی وجہ اموات بن چکا ہے ۔

سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ ،کینسر کے باعث اتنی زیادہ شرح اموات کی ایک بڑی وجہ اس بارے میں مناسب آگاہی کی کمی بھی ہے۔ آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ذیادہ تر کیسوں میں مریض ڈاکٹر کے پاس اتنی دیر سے پہنچتا ہے کہ تب تک کینسرنا قابلِ علاج سٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔

پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے ڈاکٹر شہریار کا کہنا تھا کہ " ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ کینسر کے نئے مریض رجسٹرہوتے ہیں ۔ جبکہ ان مریضوں کے علاج کے لیے دستیاب سہولیات ،مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں ۔ صرف شوکت خانم ہسپتال میں ہر سال دس ہزار سے زائد کینسر کے نئے مریض رجسٹر ہوتے ہیں ۔شوکت خانم ہسپتال کینسر کے علاج کے حوالے سے پاکستان کا سب سے نمایاں ہسپتال ہے ۔

یہاں 75 سے80فیصد مریضوں کوعلاج بلا معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے اوراب تک غریب مریضوں کے علاج پرتقریباً 39ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں ۔ تعمیر سے اب تک شوکت خانم ہسپتال میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو مسلسل بہتر کیا جاتا رہا ہے ۔صرف سال 2018میں کینسر کے علاج میں معاون جو چند جدید ترین مشینیں خریدی گئیں ان کی مالیت 6ملین ڈالر یا تقریباً 80کروڑ پاکستانی روپے ہے۔ یہ مشینیں مریضوں کو بین الاقوامی معیار کا علاج فراہم کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوں گی۔ان مشینوں میں بائیو میٹرکس ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین3-Tesla MRI مشین ، ٹوموسینتھیسزڈیجیٹل میموگرافی، پھیپھڑوں کے کینسر کی سکریننگ کے لیے لو ڈوز چیسٹ سی ٹی ,(low-dose chest CT)- 1.5-Teslaایم آر ائی مشین , 160-Sliceسی ٹی سسٹم شامل ہیں"۔

اگرچہ شوکت خانم ہسپتال پاکستان کے ہر شہری کو کینسر کے علاج کی بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے ،لیکن اس کینسر ڈے کے موقع پر سب کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ کینسرسے متعلق آگاہی کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ مجموعی طور پر ملک میں سے کینسر کے مرض کا بوجھ کم ہوسکے۔کینسر کی علامات کے بارے میں کچھ باتیں ہر ایک کو ذہن نشین کر لینی چاہییں اور اگر ان میں سے کوئی ایک بھی علامت نظر آئے تو فوراً کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ان علامات میں مسلسل سانس کا پھولنا یاگلے سے خرخراہٹ کی آواز آنا، دائمی کھانسی یا سینے میں مستقل درد، مسلسل بخار ، کھانانگلنے میں مشکل ہونا، جسم کے کسی حصے میں سوجن یا گلٹی کا نکلنا، اکثر خون کا اخراج ہونا ، کمزوری ، تھکاوٹ یا وزن کا تیزی سے کم ہونا، بھوک کی کمی ، معدے میں خرابی ، چھاتی میں گلٹی یا سوجن ہونا اور دیگر شامل ہیں۔

اگرچہ ضروری نہیں کہ ان علامت کا باعث کینسر ہی ہو لیکن اگر کسی کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو اسے فوراً کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک کرواکر کسی بڑی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔ چاہے مرد ہو یا عورت ،ہر کسی کو اپنے جسم اورصحت کے بارے میں مکمل آگاہی رکھنی چاہیے تا کہ اگر کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کا فوراً احساس ہو جائے ۔ جتنی جلدی تبدیلی کا احساس ہو گا اتنی ہی جلدی کینسر سے بچنے کے زیادہ بہتر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

کینسر سے بچنے کا دوسرا اہم طریقہ صحت مند طرز زندگی ہے ۔ اس کے لیے ورزش اورچہل قدمی کو اپنے روازانہ کے معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس طرح کھانے میں زیادہ تلی ہوئی مرغن غزاؤں سے پر ہیز اور سبزی اور دالوں کا ستعمال بڑھانا چاہیے۔ پان، سگریٹ ، چھالیہ ، گٹکا، اور انرجی ڈرنکس سے مکمل طور پر پرہیز ، کام کے ساتھ مکمل آرا م اور اچھی نیند بھی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ یہ ایسی احتیاطی تدابیر ہیں جن کے کینسر سے تعلق کے بارے میں آپ یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن مشاہدے کے مطابق ان تدابیر سے بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...