برآمدات بڑھانے کیلئے بند ٹیکسٹائل ملزکو دوبارہ چالو کرانے سے متعلق اقدامات کرینگے ،حماد اظہر

برآمدات بڑھانے کیلئے بند ٹیکسٹائل ملزکو دوبارہ چالو کرانے سے متعلق اقدامات ...

لاہور ( این این آئی)وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سال میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات کو دگنا کرینگے، ایسی انڈسٹری جو بند ہو گئی ہے ان کو دوبارہ شروع کرانے کے حوالے سے اقدامات کرینگے،صنعتوں کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے حوالے سے جائزہ لیا جارہا ہے، پچھلا بیک لاک کلیئر کرینگے اور آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کے قوانین میں بھی ترامیم لائیں گے، سمگلنگ روکنے کیلئے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا رہے ہیں اور سمگلنگ کی روک تھام سے باڑ لگانے کا خرچہ ایک سال (بقیہ نمبر58صفحہ7پر )

میں پورا ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر اپٹما کے مرکزی چیئرمین علی احسن اور پیٹرن انچیف گوہر اعجاز سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔وزیر مملکت نے کہا کہ رئیل سٹیٹ سیکٹر کیلئے قانون سازی کرینگے اور ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، ہم نہیں چاہتے کہ سارا پیسہ پلاٹوں پر لگے کیونکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو صرف تعمیرات کی حد تک ہونا چاہئے اور رئیل سٹیٹ عوام کیلئے سستی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں اور زراعت میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، یہ ببل اکانومی نہیں چاہتے، صنعت چلے گی توہمیں پیسہ واپس آئے گا۔انہوں نے کہا کہ بوجھ ڈالے بغیر عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ۔ وزیر مملکت نے کہاکہ نان پرفارمنگ قرضوں کی ریکوری ٹیکس فری ہونی چاہئے یہ اچھی تجویزہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ معاشی اصلاحات کے حوالے سے سینیٹ سے سفارشات آگئی ہیں، پارلیمنٹ کے اجلاس میں حتمی منظوری کے بعد اس پر عملدرآمد کیا جائیگا۔اس موقع پر اپٹما کے پیٹرن انچیف گوہر اعجاز نے کہا کہ موجودہ حکومت سے تاجر برادری کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں‘ حالیہ اصلاحاتی ریفارمز کو تجارتی حلقوں میں سراہا گیا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ ملک قرضے لینے کی بجائے قرضے دینے والا بن سکے۔اپٹما کے چیئرمین علی احسن نے کہا کہ حکومت صنعتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور ملکی برآمدات کے فروغ کیلئے ایکسپورٹ سیکٹر کو ریلیف دینے کے حوالے سے جو کوششیں کر رہی ہے جو قابل ستائش ہیں۔

حماد اظہر

مزید : صفحہ آخر


loading...