وراثت میں خزانہ خالی ملا ،5,4ماہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی جاسکتیں ،شوکت یوسفزئی

وراثت میں خزانہ خالی ملا ،5,4ماہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی جاسکتیں ،شوکت ...

لاہور (انٹرویو: نعیم مصطفےٰ ) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ چار پانچ ماہ کے دوران ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائی جاسکتیں، ہمیں وراثت میں کرپشن کی فراوانی، قرضوں سے بھرا ہوا خالی قومی خزانہ، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور شکستہ ادارے ملے ہیں، یہ کس طرح ممکن ہے کہ جادو کی چھڑی سے سب کچھ چشم زدن میں ٹھیک کردیا جائے اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہی دکھائی دے، ہم نے درست سمت کا تعین کردیا ہے اور ڈوبتی ناؤ کو ٹریک پر لے آئے ہیں کچھ وقت دیا جائے برسوں کا گند صاف ہو جائے گا اور عمران خان کے ویڑن کے مطابق تبدیل شدہ پاکستان سب کے سامنے ہوگا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پولیس اور بلدیات کے حوالے سے خیبرپختونخوا کا نظام ایک رول ماڈل اور آئیڈیل ہے اسی لئے اسے پنجاب اور صوبوں میں نافذ کرنے کے تذکرے ہو رہے ہیں۔ ہم نے ماڈل ٹاؤن اور ساہیوال جیسے سانحات سے بچنے کیلئے سخت ترین اقدامات کئے ہیں، ہماری پولیس ماورائے قانون اقدامات کا سوچ بھی نہیں سکتی، پولیس اہلکار سے اعلیٰ افسر تک ہر ایک کو جان اور ملازمت کا تحفظ فراہم کیا ہے، وزیراعلیٰ سے ایم این اے ، ایم پی اے تک کسی کو ایس پی، ایس ایچ او یا پٹواری کے تبادلے کی سفارش کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔ تمام سرکاری امور میں واضح پالیسی طے کردی ہے ترقیاں اور تبادلے بھی اسی پالیسی کے تحت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات نے ’’پاکستان‘‘ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ شوکت یوسفزئی نے اپنے دورہ لاہور کے دوران روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات بھی کی، اس موقع پر ایڈیٹرعمر مجیب شامی، گروپ ایڈیٹر کوآرڈی نیشن ایثار رانا، ایگزیکٹو ایڈیٹر عثمان شامی، کیپیٹل چینل کے ڈائریکٹر نیوز نوشاد علی بھی موجود تھے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شروع میں ہماری پولیس ٹرینڈ نہیں تھی لیکن بعد میں اس نے جو تربیت حاصل کی اب وہ ایک فورس بن گئی ہے، اور اس نے دہشتگردی کا مقابلہ جس جرأت سے کیا اس کو میں سلام پیش کرتا ہوں۔ انتہا پسندی کے دوران کے پی کے پولیس بہتر ثابت ہوئی ہے۔ اور جہاں تک ہمارے بلدیاتی نظام کا تعلق ہے تو آپ دیکھیں کہ ہم نے ایک ٹھوس نظام واضح کیا ہے اس کے مقابلے میں کراچی کے اندر جو بلدیاتی نظام ہے میئر کراچی آج تک اس پر رورہے ہیں ان کو پیسے نہیں مل رہے، ان کے پاس کوئی اختیار بھی نہیں ہے۔ ہمارے نظام میں خامیاں ضرور تھیں، میں یہ نہیں کہوں گا کے پی کے کا بلدیاتی نظام 100 فیصد ٹھیک تھا لیکن ہم نے اس بار ان خامیوں کو دورکردیا، جہاں ہمیں خامیاں نظر آتی تھیں یونین کونسلز کی تعداد کم کردی گئی۔ اس سوال کے جواب میں کہ پنجاب میں پولیس اصلاحات کے نفاذ کے لئے آپ نے ناصر خان درانی کو خیبر سے یہاں بھجوایا، کیا وجہ تھی کہ وہ ایک ماہ کے دوران ہی ڈس ہارٹ ہوگئے، اور واپس چلے گئے، صوبائی وزیر کا جواب تھا کہ آپ کویہ بات تو ناصر درانی صاحب بہتر بتاسکیں گے، جب تک ان کی صحت اچھی تھی وہ ہمارے ساتھ رہے اور کام کیا، مجھے محسوس ہورہا تھا کہ ان کو تکلیف تھی، ہم اکثر نماز پشاور کی کئی مساجد اور گورنر ہاؤس میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں، جمعہ اور عید کی نماز بھی اکٹھے ادا کرتے، میں دیکھتا تھا کہ وہ سجدے میں بڑی مشکل سے جاتے تھے۔ انہوں نے استعفیٰ دیا ان کی اپنی مجبوریاں ہوں گی کسی نے انہیں نکالا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑا خوش آئند ہے کہ پنجاب میں بھی خیبر پختونخوا کا بلدیاتی اور پولیس کا نظام متعارف کرایا جارہا ہے۔پشاور میں میٹرو بس سروس کے بارے میں سوال کے جواب میں شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے بجٹ یا اخراجات میں اضافہ نہیں ہوا، یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے اس کا پہلا پی سی ون 59 ارب کا تھا، بدقسمتی سے اس وقت (ن) لیگ کی حکومت تھی، انہوں نے 54 ارب کی منظوری دے دی، ہماری حکومت کے اس وقت چونکہ پانچ ساڑھے پانچ مہینے رہتے تھے ، اس میں ہم نے کوشش کی کہ اس پر کام شروع کریں اور ہمیں امید تھی کہ اگلی حکومت ہماری ہی آئے گی۔ ہم نے کوشش یہ کی کہ 59 ارب کا جو پی سی ون تھا اسی پی سی ون پرکام شروع کردیا۔ اس وقت جو اضافہ آپ کو نظر آرہا ہے 66 ارب کا ، اس کاابہام دور ہونا چاہئے دراصل بی آر ٹی کا ایک مین روٹ ہے جو 26 کلومیٹر ہے، اس کے ساتھ منسلک فیڈر روٹس ہیں وہ تقریباً 68 کلومیٹر بنتا ہے، ہم نے 68 کلومیٹر اس میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے بجٹ 59 ارب سے 66ارب پر پہنچتا۔ لیکن اگر ہم اس کو پانچ سال بعد کرتے تو یہ 100 ارب پر پہنچ جاتا۔ ہمیں عالمی اداروں کی طرف سے بتایا گیاکہ اس کی بعد میں انجینئرنگ ہوئی، اگر آپ اس کو شامل کرلیں گے تو اس وقت یہ ہوسکتا ہے کم لاگت پر مکمل ہو جائے لیکن بعد میں اس کی لاگت بڑھ سکتی ہے، ہمارے ساڑھے پانچ مہینے رہ گئے تھے، اس کے بعد نگران حکومت آئی الیکشن ہوئے اتنا عرصہ کام بند رہا، اگر اس پر کام ہوجاتا تو یہ شاید یہ ایشو نہ رہتا۔ جب ہماری گورنمنٹ آئی تو ہم نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی تو انہوں نے پہلی میٹنگ میں اس کی منظوری دے دی، منصوبے کی کل مالیت 66.6 بلین تھی۔ اس پر دن رات کام ہورہاہے ، بسیں بھی کراچی پہنچ گئی ہیں، 23 مارچ کو انشاء اللہ بی آر ٹی کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ قبائلی علاقہ جات کے خیبرپختونخوا میں انضمام پر گفتگو کے دوران شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اس معاملے میں ہمارے سامنے دو قسم کی مشکلات ہیں، ایک انفراسٹرکچر کی مشکلات ہیں اگر آپ نے عدالتیں وہاں تک لے جانی ہیں، پولیس سروسزکو پہچانا ہے، آپ نے تھانے بنانے ہیں، آپ نے عدالتیں بنانی ہیں۔ ایک تو یہ مشکلات ہیں، ظاہر ہے ان تمام امور پر پیسہ بھی لگے گا۔ دوسرا یہ معاملہ لوگوں کی طرف سے مشکل بنایا جا رہا ہے، جیسے میڈیا پر آجاتا ہے کہ مخالفت ہورہی ہے انضمام کی، وہ چند گنے چْنے لوگ ہیں، مولانا فضل الرحمن ان میں سرفہرست ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور لوگ ہیں وہ بھی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ان کی سیاست ختم ہوگئی اس انضمام کے بعد لیکن ہم کوشش کررہے ہیں کہ ان لوگوں سے بات چیت کر کے معاملہ حل کرایا جائے ہم تمام متعلقین کو اعتماد میں لیں گے، لیکن ان میں سب سے بڑا دھیان یہ رکھا جارہا ہے کہ قبائلی کلچر کو ڈسٹرب نہ کریں۔ پہلی مرتبہ ان کے انسانی حقوق بحال ہورہے ہیں، پہلے ان کو سزائیں ہوتی تھیں تو سالوں جیل میں پڑے رہتے تھے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا، اب ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے تو وہ سیدھے عدالت جائیں گے۔ اس سوال پر کہ آپ لوگ مکمل طور پر ایف سی آر مکمل ختم نہیں کر پائے شوکت یوسفزئی کا جواب تھا کہ اس وقت یہ کالا قانون مکمل ختم ہے، اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آگیا ہے ، جس کے بعد ایکسٹینڈ کر گیا ہے ہمارا پوراعدالتی نظام، اس میں ہم نے سیشن کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کو ایکسٹینشن دے دی ہے ، وہ ابھی کام شروع کردیں گی اور جیسے جیسے عدالتیں بنیں گی وہاں لوگ اپنے مقدمات لے کر جائیں گے۔ ہمارے پاس جو خاصہ دار تھے یا لیویز تھیں ان کو ہم نے ڈائریکٹ پولیس میں تبدیل کردیا ہے، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پولیس وہاں جا نہیں سکتی، پہلے سے وہاں جو خاصہ دار ہیں یا لیویز ہیں ان کو پولیس کہا جاتا ہے۔ پہلی دفعہ ہم نے وہاں صوبائی کابینہ کا اجلاس بھی کیا، وزیراعلیٰ اور وزراء4 سمیت وہاں گئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہم لوگوں کو بتاسکیں، میڈیا کو بتاسکیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں جائیں گے تو پتہ نہیں کیا ہوگا۔ وہاں وزرا کو نہیں چھوڑا جائے گا ، پولیس کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہم پوری ٹیم لے کر گئے۔ ہمیں ہار پہنائے گئے۔ لوگ پہچانتے تھے کہ منسٹر آرہا ہے وہ ہمارا استقبال کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائل کے لوگ بڑے پسماندہ رہے ان کے ساتھ ماضی میں زیادتیاں ہوتیں، محرومیاں رہی ہیں۔ اب ان کو موقع ملا ہے کہ وہ آگے آئیں اور مین سٹریم لائن میں شامل ہو جائیں۔ ایک وقت تھا کہ ہم فاٹا میں تھے اور پاکستان کا حصہ نہیں تھے، یعنی ریاست سوات میں تھے۔ وہی ریاست سوات جب پاکستان میں شامل ہورہا تھا تو اس وقت ہمارے بزرگوں نے بہت سارا کہا تھا کہ پاکستان تو بہت بڑا ہے ، ہم ترقی سے محروم رہ جائیں گے۔ آج وہی لوگ ہیں محمود خان وہاں سے چیف منسٹر ہیں، میں وہاں سے منسٹر ہوں، شکیل خان وہاں سے منسٹرہیں، ڈاکٹر امجد وہاں سے وزیر ہیں، محب اللہ خان وہاں سے منسٹر ہیں۔ ہمیں کون روک رہا ہے۔ میں آپ کو بتارہا ہوں کہ ایسا وقت آنے والا ہے یہی فاٹا ہوگا یہیں سے چیف منسٹر آئے گا۔ ابھی 16 سیٹیں ہیں شاید اور بڑھ جائیں گی۔ آپ دیکھیں کہ فاٹا کے اندر کوئی سہولیات نہیں ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شنواری اور آفریدی کھیل رہے ہیں کیونکہ ان میں ٹیلنٹ ہے۔ اس وقت وہاں 75 سٹیڈیم ٹائپ کی گرا?نڈز وہاں تیار ہونا شروع ہیں۔ اگر لڑکوں کو چانس ملے گا کھیلنے کا تو میں سمجھتا ہوں کہ دو تین سالوں بعد پوری ٹیم وہاں سے سلیکٹ ہوگی۔ پاک افغان تعلقات اور خیبرپختونخوا کو لاحق سرحدی خطرات کے سوال پر صوبائی وزیر نے جواب دیا اس وقت بہت بڑی سازش ہورہی ہے، پی ٹی ایم کے نام سے جو کچھ ہورہا ہے وہ اس لئے ہورہا ہے کہ انڈیا وہاں انویسٹمنٹ کررہاہے افغانستان میں اور افغانستان سرمایہ کاری کررہا ہے بھارت میں، اس میں غلط طور پر پختونوں کا نام استعمال ہورہاہے کہا جا رہا ہے کہ پختون بہت خوار ہوگئے ان کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوگئیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ اتنی بڑی جنگ خیبرپختونخوا میں لڑی گئی جہاں پنجاب کے لوگ جاکر بھی شہید ہوئے اور ہماری فوج کے جوان بھی جام شہادت نوش کرتے رہے وہ کس کے لئے شہید ہوئے، انہوں نے امن قائم کیا، وہاں امن کیا پورے پاکستان میں امن آگیا۔ اب جب امن آیا ہے آپ کو مواقع مل رہے ہیں، ایک امید چل پڑی ہے کہ افغانستان کا ایشو حل ہوگا شاید ٹائم لگے۔ لیکن جب حل ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ غلام خان بارڈر اور طور خم بارڈر پر کتنی سرگرمی ہوگی، یہاں پر تجارت بڑھے گی۔ ہمارے پاس پورا سنٹرل ایشیا کھلا پڑا ہے۔ ہم 24/7 اپنا طورخم بارڈر کھول رہے ہیں اورطبی سہولیات کی فراہمی کے بعد جو بیمار ہیں یہاں علاج کروانے آرہے ہیں ان کو فوراً میڈیکل ویزا دیا جائے گا۔ ان کے لئے ماہر ڈاکٹروں سے ٹائم لیا جائے گا اور ہم اپنی پولیس کو کہہ رہے ہیں کہ جو بھی میڈیکل ویزا پر آئے گا اس کو تنگ نہیں کیا جائے۔ اس سے ہماری اکانومی اچھی ہوگی، اور جیسے کہ میں نے بتایا کہ میرانشاہ میں بہت بڑے تجارتی مرکز بن رہے ہیں۔ اور آپ دیکھیں کہ وہاں پر ایسے بڑے پلازے اور مارکیٹیں ہیں لگتا ہے یورپ ہے۔ ایک اور سوال پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جو بھی فوج کو بدنام کررہا ہے یا کسی اور ادارے کو بدنام کر رہا ہے تو پوری قوم کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے، کیونکہ ہم اس وقت کسی کو یہ چانس نہیں دے سکتے اور نہ ہم چانس لے سکتے ہیں۔ ہمیں موقع ملا ہے امن کا اور ہم اسے دوبارہ خراب کریں۔ ہم چاہیں گے کہ سویلین گورنمنٹ اپنا صحیح کردار ادا کرے وہاں پر۔ مجھے امید ہے کہ ہم فاٹا کے اندر بھی لوگوں کو بہت جلدی مطمئن کرلیں گے۔ پنجاب کے حوالے سے سوال پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ میرے خیال میں بزدار صاحب اپنی جگہ پر ہیں، بہت بڑا صوبہ ہے ان کے ذمہ، اگر آپ کہیں کہ چار مہینے میں کچھ کر کے دکھائیں تو مشکل ہوگا، انشاء اللہ ان کی پرفارمنس سامنے آجائے گی۔ جیسے ہم آئیں ہمیں فاٹا کا ایشو ملا اور جس انداز سے فاٹا کا ایشو حل ہوتا نظر آرہا ہے ، میرے خیال سے یہ لیڈر شپ کا کمال ہوتا ہے۔ جہاں تک ہمارے وزیراعلیٰ کا تعلق ہے محمود خان کے بارے میں عجیب عجیب سی باتیں یہاں سنائی دے رہی ہیں، وہ بندہ دن رات کام کررہا ہے، ظاہر ہے جو چیزیں ہیں، جس طرح انہوں نے تمام محکموں کے حوالے سے جو 100 روزہ پلان بنا، مجھے نہیں پتہ پنجاب میں کس طرح ہوا، بلوچستان میں کس طرح ہوا۔ لیکن ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کتنا رگڑا دیا۔ آج بھی جب ہیلتھ منسٹر جاکر کسی بھی ہسپتال کا دورہ کرتا ہے تو دوسرے دن چیف منسٹر جاتا ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو کمرے میں بیٹھ کر بھی اپنی ٹیم کو چلاسکتا ہے۔ آپ اگر ہمارے پورے محکمہ کو اٹھا کر دیکھیں جس طرح انہوں نے وزراء کا انتخاب انہوں نے کیا یہیں سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس شخص میں کچھ ہے۔

شوکت یوسفزئی

مزید : صفحہ اول


loading...