مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے ڈیل کی افواہوں پر وزیراعظم قوم کو اعتماد میں لیں،شیخ رشید

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے ڈیل کی افواہوں پر وزیراعظم قوم کو اعتماد میں ...

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،لیڈی رپورٹر)وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پیسے دے رہی ہیں تو قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ ڈیل ناکام ہوگئی ہے اور ڈھیل کا ففٹی ففٹی پروگرام چل رہا ہے، وزیراعظم عمران خان سے کہوں گا اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پیسے دے رہی ہیں اور ان افواہوں میں حقیقت ہے تو قوم کو اعتماد میں لیا جائے کیونکہنہ مفت کی ڈیل قبول ہے اور نہ مفت کی ڈھیل قبول ہے، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کو جانے نہیں دینے گے۔شیخ رشید نے شریف براداران کو بزدل سیاست دان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کرپشن کے کیس میں ہیرو بننے کی کوشش کررہے ہیں، ان دونوں کی بیماری 20 سال پرانی ہے اور شاید یہ لوگ ضمانت کروانے میں آسانی کیلئے بیماری رکھتے ہیں، انہیں ڈیل کرنی آتی ہے اور اب یہ ڈیل میں ناکامی پر ڈھیل کی طرف جارہے ہیں، یہ لوگ جان دے دیں گے پیسے نہیں دیں گے۔وزیر ریلوے نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی کہ فی الفور شہباز شریف کی سکیورٹی سے رینجرز کی گاڑی ہٹائی جائے، اگر فوج ان چوروں کی سکیورٹی کیلئے پروٹوکول کی ڈیوٹی پر آگئی تو اس سے بہت غلط پیغام جارہا ہے، شریف برادران نے تو اسامہ بن لادن کا مال بھی نہیں چھوڑا تھا، یہ لوگ قطر، کویت اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے بھی مال پکڑتے تھے، انہوں نے اسامہ سے تب پیسے پکڑے جب وہ سب کو پیارا تھا۔چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے لانگ مارچ کے اعلان سے متعلق سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ بلاول صاحب لانگ گواچا اور لانگ مارچ میں بڑا فرق ہے، اگر بلاول کرپشن کے خلاف اور فالودے والے کے حق میں لانگ مارچ کریں تو میں ان کے ساتھ نکلوں گا، آصف زرداری چور ہیں مگر شریف خاندان کی طرح بزدل نہیں ، انہوں نے مردے کو نہیں چھوڑا، جنازے بھی نہیں بخشے اور مرے ہوئے شخص پر بھی دو ارب روپیہ باہر بھیج دیا۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بناکر بلنڈر کیا ہے، میرے پی اے سی میں جانے سے اپوزیشن کی چیخیں کیوں نکل رہی ہیں، عمران خان نے پی اے سی کے لیے میرا نام دے دیا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ سپیکر کیوں دیر کررہے ہیں جبکہ سپیکر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ رانا ثناء اللہ اور سعد رفیق کو بھی فی الفور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ممبر بنائیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ریلوے کی ذیلی کمپنی ریڈیمکو کو ختم کردیاگیا کیونکہ وزیر اعظم نے کہا تھاکہ جو محکمے اضافی اخراجات کی وجہ سے بوجھ ہیں ان کو ختم کردیاجائے۔ اس میں جو ریلوے افسران کام کررہے تھے وہ واپس ریلوے میں آجائیں گے اور جو ریلوے کے ریٹائرڈ ملازمین کنٹریکٹ پر کام کررہے تھے اُن کو فارغ کردیاجائیگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ٹرین میں ایک ٹرین منیجر مقررکردیاہے جس سے مسافر براہِ راست بات کرسکتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ میں خود صبح 9 بجے سے 10 بجے تک شکایت سیل میں بیٹھ کر فون کالزپر لوگوں کی شکایت سنوں گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...