عدالت میں سیاست

عدالت میں سیاست
عدالت میں سیاست

  


میدانِ سیاست میں تو تبدیلی آتے آتے آئے گی کہ اس کے کھلاڑی قواعد و ضوابط کو درخوراعتنا سمجھنے پر تیار نہیں ہیں۔ بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کے لتیّ لینے میں مصروف ہیں۔ حزبِ اقتدار کو یقین ہی نہیں آ پا رہا کہ اس کے بنچ بدل چکے ہیں، وہ بدستور اپوزیشن کا انداز اپنائے ہوئے ہے اور اپوزیشن کی اپوزیشن کے طور پر داد وصول کرنے کے در پے ہے۔ رانا ثناء اللہ اور شیخ رشید کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، دونوں ایک دوسرے سے ایک دوسرے کی لغت میں معاملہ کر رہے ہیں، دیکھنے والوں کی انگلیاں دانتوں میں ہیں۔

ایک دوسرے کی بے عزتی میں اپنی عزت تلاش کرنے کی کوشش کامیاب ہوتے تو کم ہی دیکھی گئی ہے لیکن بچے جب تک اپنے ہاتھ نہ جلا لیں اُنہیں یقین نہیں آتا کہ آگ جلا بھی سکتی ہے۔ پس سیاست کے معاملات کو رکھیے ایک طرف، عدالت کی طرف آیئے کہ جہاں تبدیلی آ چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں جہاں چیف جسٹس مقدمات کی سماعت کرتے ہیں، بہت کچھ بدل چکا ہے۔ نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ مقررہ وقت پر کام شروع کرتے ہیں، برق رفتاری سے مقدمات نمٹائے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ اپیل کی عدالت ہے۔ یہاں شہادتیں تو ریکارڈ ہونا نہیں ہوتیں، مقدمے کی فائل سامنے ہوتی ہے۔ وکلاء دلائل دیتے ہیں، اور نفی یا اثبات میں جواب حاصل کر لیتے ہیں۔ سووموٹو نوٹس ہیں، نہ ہٹو بچو کی صدائیں، آئینی درخواستوں کا ڈھیر لگا ہے نہ وزراء صاحبان کو طلب کیا جا رہا ہے۔افسروں کی قطاریں لگی ہیں نہ ڈاکٹروں کی گو شمالی ہو رہی ہے۔ دھمکایا جا رہا ہے نہ دبکایا جا رہا ہے۔للکارا جا رہا ہے نہ دبایا جا رہا ہے۔ نئے چیف جسٹس فوجداری قوانین پر خاص عبور رکھتے ہیں۔کریمنل جسٹس سسٹم کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی کمزوریاں سامنے لاتے ہیں۔

جھوٹے گواہوں کی سرزنش کرتے ہیں، وکلاء سے دلائل سنتے اور دلیل کے ساتھ ان کو رَد یا قبول کرتے ہیں۔ بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ جھوٹی گواہی پر سرسری سماعت کے بعد ہی عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔لیکن ہماری پولیس، پراسیکیوشن اور مقدمات درج کرانے والوں کی جو عادتیں برسوں سے پختہ ہو چکی ہیں، وہ بدلتے بدلتے بدلیں گی۔ سچے گواہوں کی جو حوصلہ شکنی ہمارے نظام میں ہوتی اور بعض اوقات انہیں عزت تو کیا جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں،اس کی وجہ سے جھوٹے گواہ کھڑے کرنا پولیس کی مجبوری بن جاتا ہے۔

جرم کا ارتکاب ایک شخص کرے تو مدعی اس کے پورے خاندان کو نامزد کر دیتا ہے تاکہ کوئی پیروی کرنے والا بھی آزاد نہ رہے۔ کریمنل جسٹس سسٹم کی اصلاح کے لیے برق رفتاری سے گواہوں کے بیانات ریکاڈ کرنا ضروری ہو گا۔ انہیں عدالتوں میں دھکے کھانا پڑیں گے تو انصاف بھی دربدر رہے گا۔نئے چیف جسٹس نے ابھی تک کوئی سووموٹو نوٹس نہیں لیا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف درخواستیں وصول کرنے والا عدالتی سیل بھی سمٹ رہا ہے،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سووموٹو لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ راستہ کھلا رہنا چاہیے اور جس مظلوم کی کہیں شنوائی نہ ہو، اس کی سنی جانی چاہیے،لیکن انتہائی عدالت کو ابتدائی عدالت بنا لینا دستور اور قانون کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔اس سے گریز اطمینان کا باعث ہے، بحران کا نہیں۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں سپریم کورٹ کی وحدت کو جو نقصان پہنچا، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔اس سے پہلے اہم ترین مقدمات کی سماعت فل کورٹ کیا کرتی تھی۔جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کو بیگم نصرت بھٹو نے چیلنج کیا، تو بھی، اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی مقدمہ قتل میں اپیل دائر ہوئی تو بھی فل کورٹ ہی نے سماعت کی۔ نواز شریف اسمبلی کی تحلیل کے خلاف درخواست جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کے زیر صدارت فل کورٹ ہی نے سنی۔

عدالت کو ذاتی، پسند نا پسند پر تقسیم کرنے کی وبا جسٹس سجاد علی شاہ نے پھیلائی، اور جونیئر ججوں کے ساتھ بنچ بنا کر آئینی ترمیم تک کے خلاف عبوری حکم جاری کر دیا۔نتیجتاً ان کے خلاف بغاوت ہوئی، اور انہیں گھر جانا پڑا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے اگرچہ سووموٹو کا اختیار بے تحاشہ استعمال کیا، اور ان کے کئی فیصلوں نے قومی خزانے کو بھی شدید نقصان سے دوچارکیا،تاہم جنرل پرویز مشرف کے خلاف ڈٹ جانے کی وجہ سے انہیں خاص حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔

ان کی ’’عوامی عدالت‘‘ اس لحاظ سے اپنی نظیر نہیں رکھتی۔حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے جو کچھ کِیا، پاکستان کیا، دُنیا کی عدالتی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بقول نامور قانون دان بابر ستار کے وہ ’’بادشاہ‘‘ بن گئے تھے۔ کوئی ضابطہ، قاعدہ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔انتظامی معاملات میں انہوں نے مداخلت کے ریکارڈ قائم کیے، اپنی پسند کے افسروں کے تبادلوں تک پر پابندی لگا دی۔ہسپتالوں کے دوروں کے درمیان ان کے چیف ایگزیکٹوز کو نکال باہر کیا۔

گردے اور جگر کے امراض کے علاج کا جو عظیم الشان منصوبہ ’’پی کے ایل آئی‘‘ کے نام سے لاہور میں زیر تکمیل ہے، اس کے معاملات میں اس طرح مداخلت کی گئی کہ دیس پلٹ ڈاکٹر دِل شکستہ ہو گئے۔سابق چیف جسٹس کے اسلوب پر تفصیلی مقالے لکھے جانے چاہئیں، سول سوسائٹی اور وکلاء تنظیمیں ایسے اقدامات تجویز کریں جن سے یہ صورتِ حال کبھی پھر نہ پیدا ہو سکے۔دستور کی دفعہ184(3) کے تحت سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کے قواعد بنانے کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی۔

اس کے ساتھ ہی عدالتی بنچ بنانے کے انتظامی اختیار کو بھی باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ جو مقدمات ابتدائی عدالت کے طور پر سنتی ہے، ان میں اپیل کا حق دینا بھی انصاف کا فطری تقاضہ ہے۔ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس سے یہ توقع لگائی جا رہی ہے کہ وہ برادر ججوں کو اعتماد میں لے کر ایسے اداراتی اقدامات کریں گے جو آئندہ عدالت میں سیاست کا داخلہ بند کر سکیں۔

ڈاکٹرمنظور اعجاز کی خود نوشت

پاکستانی نژاد امریکی دانشور ڈاکٹر منظور اعجاز کی خود نوشت ’’جندڑیے، تن دیساں تیرا تانا‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو پنجابی زبان سے عشق ہے، اس لیے اپنی کتابِ زندگی بھی پنجابی میں لکھی ہے۔ اس سے پہلے وہ ’’وارث نامہ‘‘ لکھ چکے ہیں، جو ہیر وارث شاہ کی تشریح ہے اور پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ ان کا ڈرامہ ’’رانجھن یار‘‘ بھی خاصے کی چیز ہے۔ پنجابی نظموں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال میں وہ مجھ سے دو سال جونیئر تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا۔

وہیں استاد مقرر ہوئے۔ پھر ان کی انقلابیت نے امریکہ میں پناہ ڈھونڈ لی، بچپن میں پولیو کا شکار ہو گئے تھے،لیکن انہوں نے اس معذوری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ طلبہ سیاست میں بھرپور حصہ لیا، اور انقلابی کے طور پر اپنے آپ کو منوایا۔ان کی خود نوشت پنجاب کے دیہی ماحول کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے، جو اب پامال ہو چکا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہی تھیں، تو مَیں کالج سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا۔ اِس دوران مولانا مودودیؒ مرحوم ساہیوال آئے تو ان کے جلسے میں ہنگامہ ہو گیا۔

مَیں نے سٹیج پر جا کر ہنگامہ کرنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی، اس جلسے کے انتظام کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کو کچھ مغالطہ ہو گیا، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ڈاکٹر منظور اعجاز ایک بیدار مغز دانشور ہیں۔اب کہ نہ دایاں رہا نہ بایاں، ان سے اختلاف بھی مدھم پڑ گیا ہے۔ پاکستانی صحافت، سیاست اور سماج کے طالب علموں کے لیے ان کی خود نوشت پڑھنا لازم ہے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ وہ کیا گر دوں تھا، جس کے یہ سب ٹوٹے ہوئے تارے ہیں۔

(یہ کالم روزنامہ ’’ پاکستان ‘‘ اور روزنامہ ’’دُنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...