ملکی معیشت تباہ،عوام حکمرانوں کو جلد اقتدار کے ایوانوں سے باہر پھینک دینگے :شاہد خاقان عباسی

ملکی معیشت تباہ،عوام حکمرانوں کو جلد اقتدار کے ایوانوں سے باہر پھینک دینگے ...

ملتان ‘ کبیروالا ‘ کوٹ بہاد ر( سٹی رپورٹر ‘ نامہ نگار ‘ نمائندہ پاکستان )ملتان (سٹی رپورٹر)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کو قرضوں کے بغیر نہیں چلایا جاسکتا موجودہ حکومت نے گذشتہ چھ ماہ میں جتنے قرضے لئے ہیں اتنے تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں لئے اب تو موجودہ حکمران نوٹ چھاپ کر گزارہ کر رہے ہیں مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے افغان حکومت سے مزاکرات کرکے مسائل حل کئے جائیں کیونکہ امریکہ کی اڑھائی لاکھ فوج بھی اس قسم کے مسائل حل نہیں کرسکی عالمی سطح پر تعلقات بہتر ہونے کا فائدہ تب ہوگا جب معیشت بہتر ہو گی ۔ مسلم لیگ (ن) نے دو صوبوں کا بل اسمبلی میں بحث کے لئے پیش کیا ہے اگر یہاں کے عوام ایک صوبہ چاہتے ہیں تو تمام پارلیمانی جماعتیں مل کر آئینی ترمیم کرسکتی ہیں ہمیں ایک صوبے پر بھی کوئی اعتراض نہیں بلکہ اب تو جنو بی پنجاب کی طرح دیگر صوبوں کا مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے جو احتساب کا معیار نواز شریف پر رکھا گیا ہے اگر موجودہ حکومت پر رکھا گیا تو 70فی صد وزراء اندر ہوں گے حکومت کو حج پر سبسڈی دینی چاہیئے تھی حکومت کو پانچ سال دیتے ہیں مگر وہ پہلے میدان چھوڑنا چاہتے ہیں میاں نواز شریف جیل میں بڑے حوصلے میں ہیں نہ انہوں نے این آر او مانگا ہے اور نہ ہی کوئی رعائیت طلب کی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید اسد عباس شاہ کی رہائش گاہ قذافی چوک پر میڈیا سے بات چیت میں کیا اس موقع پر سید اسد عباس شاہ، شیخ طارق رشید ، مخدوم رفیع شاہ بھی موجود تھے شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چھ ماہ گزر چکے ہیں مگر انہوں نے عوام سے کیا ہوا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا ہمیں فخر ہے کہ جو کام ہم نے جنوبی پنجاب میں کئے وہ کسی اور نے نہیں کئے مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کا قیام شامل ہے اسی لئے ہم نے عوام کی خواہش کے مطابق اسمبلی میں دو صوبوں کا بل پیش کیا ہے کیونکہ یہ یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے ماضی میں مسلم لیگ (ن) نے جنو بی پنجاب میں موٹروے ، تعلیمی ادارے، سڑکیں تعمیرکیں اور ترقیاتی کا م کئے اب ہمیں ایک بھی ترقیاتی کام نظر نہیں آتا بلکہ جو ترقیاتی کام جاری تھے وہ بھی رک چکے ہیں ترقی کے بغیر خوشحالی کس طرح آسکتی ہے یہ سوالیہ نشان ہے حکومت نے حجاج کرام پر 63فی صد زیادہ مالی بوجھ ڈال دیا ہے اور سبسڈی واپس لے لی ہے جبکہ ہندوستان جیسا ملک حجاج کرام کو سبسڈی دے رہا ہے اصل میں یہ حجاج پر ان ڈائریکٹ ٹیکس ہے مسلم لیگ کے چھ سالہ دور میں حجاج پرائیویٹ اسکیم کی بجائے سرکاری اسکیم کے تحت حج کو اولیت دیتے تھے عوام پر مہنگائی کا بوجھ اس قدر ڈال دیا گیا ہے کہ ہمیں خیر کی توقع نہیں ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ صوبے کے قیام کے حوالے سے آئین میں ترمیم ہو جائے جس کے لئے اسمبلی میں بحث ہونی چاہیئے اس پر کمیٹیاں قائم ہوں گی اگر اس سلسلے میں دو کی بجائے ایک صوبہ بنتا ہے تو ہمیں اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ہم عوام کی رائے کا احترام کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف جیل میں بڑے حوصلے میں ہیں نہ انہوں نے این آر او مانگا ہے اور نہ ہی کوئی رعائیت طلب کی ہے ان کی طبیعت ناساز ہے اس حوالے سے تین طبی بورڈ بنائے گئے اور انہیں علاج کے لئے ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی جہاں تک نواز شریف پر الزامات کا تعلق ہے تو میں یہ بات دعوے سے کہتاہوں کہ میاں نواز شریف پر گذشتہ دو سال کے دوران ایک پیسے کی کرپشن کا الزام بھی نہ تو لگا ہے اور نہ ثابت ہوا ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں بے روزگاری ، لاقانونیت کا دور دورہ ہے ہم نے اپنے دور میں ملک میں ترقی کی رفتار کو 2.8سے 5.8تک پہنچا دیا تھا لیکن گذشتہ پانچ ماہ کے دور ان اس جانب توجہ نہیں دی گئی اور ترقی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا ہے یہ پہلی حکومت ہے کہ جس کے وزیراعظم، وزراء اور ارکان اسمبلی پارلیمنٹ کے فورم پر کھل کر جھوٹ بولتے ہیں اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پانچ سال کی آئینی مدت پوری کرے اور عوام کو ریلیف دے احتساب کا حامی ہوں پیشکش کرتا ہوں کہ مجھ سے احتساب شروع کیا جائے مجھ پر تو ابھی تک کوئی الزام سامنے نہیں آیا ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پی آئی اے کو بچانا ہے تو اس کو پرائیویٹ کیا جائے ۔حکمران عوام کو ریلیف دینے میں یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں ،مہنگائی کی شرح میں خوفناک حد تک اضا فہ ہوچکا ہے، افراط زر پچھترفیصد کی حد تک پہنچ چکا ہے، بجلی ،گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا سہرا مسلم لیگ کے سر بندھتا ہے،سبسڈی کے خاتمے سے حکمران مسلمانوں سے حج کی سعادت بھی چھین چکے ہیں، ان خیالا ت کا اظہار سا بق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا انہوں نے کہا کہ یوٹرن حکو مت کو اب عوام زیادہ دیر برادشت نہیں کریں گے،پانچ ماہ میں ہی ناکام ہو نے والی حکو مت کو ملکی معیشت تبا ہ کر نے والے حکمرانوں کو عوام جلد اقتدار کے ایوانوں سے اٹھا کر پھینک دیں گے، انہوں نے کہا کہ مصنوعی فیصلوں نے ہمیشہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے 28 جو لائی کو ایک مصنوعی فیصلے کے ساتھ وجود میں آنے والی حکو مت پانچ سالہ پورے کر نے کی بجائے اولین پانچ ماہ میں ہی ناکام ہو چکی ہے،انہوں نے کہا کہ مو جودہ صورتحال قوم کے لئے ایک لمحہ فکریہ بن چکا ہے،کھا د ،بیج مہنگے ،پانی کی بدترین بندش،کسانوں کے مسائل حل کر نے کی بجائے ایسے گھمبیر مسائل سے دوچار کیا جارہا ہے کہ وہ حکو متی پالیسیوں سے مکمل طور مایوس ہو چکا ہپے،حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جب کہ معیشت مضبوط نہ ہو گی ملک مضبوط نہیں ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کویہ سوچ لینا چاہیئے کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر لے کر چلنا ہے ،مسائل حل کر نا ہیں تو ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے کسان کا استحصال کر نے کی بجائے اسکے بنیادی مسائل حل کئے جائیں ،انہوں نے کہا ک مسلم لیگ نے جنوبی پنجاب کو صو بہ بنانے کے لئے قومی اسمبلی میں بل پیش کر کے اپنا فرض پورا کر نے کا آغاز کر دیا ہے ،مسلم لیگ کوئی کریڈٹ لینا نہیں چاہتی اب یہ حکو مت کا فرض ہے کہ بل کو پارلیمنٹ میں لاکر اس پر بحث کروائے ، انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کیی پارٹی ہی عوام کی پارٹی ہے میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ ماضی میں بھی میاں نواز شریف اور میاں شہبا ز شریف کی قیادت میں ملک نے بے مثال ترقی کی منازل طے کیں آج میں ہم یہ با ت ذمہ داری سے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ہی آکرملکی مائل حل کر گے، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسان کمیٹی کے مرکزی چیئر مین سید اسد عبا س شا ہ نے خطاب میں حکو مت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران کسانوں کامعاشی استحصال کر نے میں مصروف ہیں ،انہوں نے کہا کہ کسا ن پالیسیاں بنانے میں کسانوں کی مشاورت شامل کی جائے ،کانفرنس سے رکن ضلع کو نسل محتر مہ زبیدہ راؤ ،حا جی عبدالطیف صابر آرائیں،محمد اسلم شاہد سمیت دیگر لیگی راہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

شاہد خاقان

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...