’سارے کپڑے ہی اتار دو‘ عائشہ عمر نے اپنی تصاویر پر غیر اخلاقی کمنٹ دینے والوں کو زوردار جواب دے دیا

’سارے کپڑے ہی اتار دو‘ عائشہ عمر نے اپنی تصاویر پر غیر اخلاقی کمنٹ دینے ...
’سارے کپڑے ہی اتار دو‘ عائشہ عمر نے اپنی تصاویر پر غیر اخلاقی کمنٹ دینے والوں کو زوردار جواب دے دیا

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )شوبز کی شخصیات کو جب اپنی مصروف زندگی میں کچھ وقت ملتا ہے تووہ تفریح کے لیے اندرون و بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور خوبصورت مقامات پر چھٹیاں مناتے ہیں۔ اسی طرح اداکارعائشہ عمر بھی ان دنوں میکسیکو میں چھٹیاں منا رہی ہیں تاہم وہاں انہوں نے ساحل سمندر پر ایک پارٹی میں کچھ ایسالباس پہن کر شرکت کی کہ تصاویر انٹرنیٹ پر آئیں تو ہنگامہ برپا ہو گیا اور لوگوں نے کڑی تنقید کر دی۔ اب عائشہ عمر نے بھی اپنے ان ناقدین کو زوردار جواب دے دیا ہے۔

مینگوباز کے مطابق یہ تصاویر اداکارہ نے خود اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی ہیں جن میں اس نے پیراکی کامختصر ترین لباس ’بکنی‘ پہن رکھا ہوتا ہے۔ ان تصاویر کے پوسٹ ہوتے ہی صارفین نے کمنٹس میں عائشہ عمر پر کڑی تنقید شروع کر دی۔ ایک شخص نے لکھا کہ ”اس سے تو بہتر ہے کہ آپ پورے کپڑے اتار کر ویڈیو بنائیں اور پوسٹ کر دیں۔“

ایک لڑکی نے لکھا کہ ”آپ ایسا لباس پہن کر بھارتی اداکاراﺅں کے جیسا بننا چاہتی ہیں۔ تمہیں اسلامی ثقافت کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ایسے لباس کی وجہ سے ہی مرد خواتین کی طرف دیکھتے ہیں۔“ کچھ لوگ اداکارہ کے دفاع میں بھی آگے آئے ، ان میں سے ایک نے کہا کہ ”کپڑوں کی وجہ سے اگر مرد عورتوں کو گندی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو پھر زینب کیس کے متعلق تم کیا کہو گے؟“ ایک اور شخص نے عائشہ عمر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ”آپ فکر نہ کریں۔ یہ کچھ انتہاءپسند ہیں اور ان کا کام ہی یہی ہے۔ دراصل پس پردہ یہ لوگ بھی آپ کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ہیں۔“

عائشہ عمر نے اپنے حق میں بولنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”نفرت پھیلانے والے ان لوگوں کے درمیان آپ جیسے لوگ ہی ہیں جن کی وجہ سے ہمیں ہمت ملتی ہے اور ہم عمومی رویوں میں تبدیلی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔کوئی شخص اگر آپ سے مختلف لباس پہنتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ بے وقوف اور لوگوں کی لعنت کے مستحق ہیں۔ یہ لباس میں نے ایک کاسٹیوم پارٹی (Costume Party)کے لیے پہنا تھا، جہاں ہر ایک نے ایسا ہی لباس پہن رکھا تھا۔ اس لباس کی وجہ سے میری وقعت کسی بھی دوسرے سے کم یا زیادہ نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھے اس پر لوگوں کو وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم بعض اوقات مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے ان نفرت کرنے والوں سے بات کرنی چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ ان کا رویہ بہت افسوسناک ہے۔ ہمارے ملک میں عدم برداشت اور نفرت کا لیول جس حد تک پہنچ چکا ہے یہ افسوسناک ہے۔ پھر بھی جو لوگ اچھے کمنٹس کررہے ہیں، ایسے لوگ ہی ہیں جن کی وجہ سے امید کی کرن پھوٹتی ہے۔ میں تو اتنا ہی کہوں گی کہ محبت بانٹو اور مثبت سوچ اپناﺅ۔ میں یقین سے کہہ رہی ہوں کہ آپ کو جواب میں ویسی ہی محبت ملے گی۔ کائنات اسی طریقے سے چل رہی ہے، آپ جو دوسروں کو دیتے ہو، وہی آپ کو واپس ملتا ہے۔ اگر آپ کسی کو پسند نہیں کرتے تو واپس مڑو، اس سے دور چلے جاﺅ اور پرامن رہو۔“

مزید : تفریح


loading...