27 سالہ نوجوان لڑکی کی خودکشی، آخری خط پڑھ کر کسی کا بھی دل تڑپ اُٹھے

27 سالہ نوجوان لڑکی کی خودکشی، آخری خط پڑھ کر کسی کا بھی دل تڑپ اُٹھے
27 سالہ نوجوان لڑکی کی خودکشی، آخری خط پڑھ کر کسی کا بھی دل تڑپ اُٹھے

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) نیویارک میں ایک 27سالہ لڑکی نے خودکشی کر لی اور جاتے ہوئے آخری خط میں ایسی باتیں لکھ گئی کہ پڑھ کر کسی کا بھی دل تڑپ اٹھے۔ دی مرر کے مطابق ٹیرا کنڈیل نامی یہ لڑکی نیویارک کے علاقے ویسٹ ویلیج میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں رہتی تھی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ماہرغذائیات تھی اور میٹن ہٹن میں واقع کمپنی ’ٹاپ بیلنس نیوٹریشن‘ میں کام کرتی تھی۔ گزشتہ دنوں اس نے بلاگ کی صورت میں اپنا آخری خط لکھا۔ اس کے ساتھی ورکرز اس کا بلاگ پڑھ کر متفکر ہوئے اور پولیس کو اطلاع دی۔ تاہم جب پولیس اس کے اپارٹمنٹ پر پہنچی تو انہیں ٹیرا کی لاش ملی۔ ٹیرا نے اس بلاگ میں اپنی ماں سے معافی مانگی اورکہا کہ اپنا ہمیشہ خیال رکھیے گا جبکہ اپنے آنجہانی باپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ”میں گھر آ رہی ہوں، میرے لیے بھی اس بادل پر جگہ بنا دیجیے۔“

ٹیرا بلاگ میں لکھتی ہے کہ ”زندگی میں مجھے کبھی خوشی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی مشکل اوقات میں مجھے تکلیف کا احساس ہوا۔ درحقیقت مجھے کبھی خوشی یا تکلیف محسوس ہوئی نہیں ہوئی۔ یہ خط میں نے اپنے ذہن میں کئی بار لکھا اور گزشتہ 10سال سے لکھتی آ رہی ہوں اور آج بالآخر پہلی بار اسے بلاگ کی صورت میں لکھ رہی ہوں۔ چنانچہ مجھے یہ تحریر نہ تو ایڈٹ کرنی پڑ رہی ہے اور نہ ہی کچھ سوچنا پڑ رہا ہے۔ میں قبول کر چکی ہوں کہ ’امید‘ تاخیر سے ملنے والی ناامیدی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میں آزاد ہوں، جہاں چاہوں آ جا سکتی ہوں۔ میں امریکہ کے دوسرے بڑے شہر میں رہتی ہوںجہاں مجھے سب آسائشیں حاصل ہیں لیکن یہ سب کچھ مجھے بہت حقیر معلوم ہوتا ہے۔ “خط کے آخر میں ٹیرا نے اپنی فیملی سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ”میری آخری رسومات کرائی جائیں اور نہ ہی مجھے کوئی ٹربیوٹ پیش کیا جائے۔ صرف ایک کام کیجیے گا، میری یاد میں ایک بہت مزیدار کھانا کھائیے گا۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔زندگی میں میں کبھی خوش نہیں ہوئی۔ اب میرے خوش ہونے کا وقت ہے۔ میں جو کرنے جا رہی ہوں اس میں کسی دوسرے کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...