ملک میں بدترین طرز حکمرانی کی تاریخ لکھی جا رہی،سول آمریت کو فروغ دینے کے اثرات صاف نظر آ رہے ہیں: ثمر ہارون بلور

ملک میں بدترین طرز حکمرانی کی تاریخ لکھی جا رہی،سول آمریت کو فروغ دینے کے ...
ملک میں بدترین طرز حکمرانی کی تاریخ لکھی جا رہی،سول آمریت کو فروغ دینے کے اثرات صاف نظر آ رہے ہیں: ثمر ہارون بلور

  


پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ملک میں بدترین طرز حکمرانی کی تاریخ لکھی جا رہی ہے،سیاسی کلچر کو ختم کرکے سول آمریت کو فروغ دینے کے اثرات صاف نظر آ رہے ہیں جو ملک و قوم کے لئے خطرناک اور ملکی سالمیت کے لیے نیگ شگون نہیں ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا کہ عوام نے نئی حکومت سے جو توقعات لگا رکھی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں ، حکومت چھ ماہ کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے ، ملک میں معاشی اصلاحات کی بجائے باہر سے خیرات مانگنے پر زور لگایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور سینماؤں کیلئے چودہ سو ارب روپے مختص کرنے والوں نے فرزندان توحید پر بیت اللہ کے دروازے بند کرکے ذہنی پستی اور بدنیتی کی عکاسی کر دی ہے۔ ثمر بلور نے کہا کہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے احکامات پر روپے کی مسلسل بے قدری سے حکومت نے عوام کی پریشانیوں اور مشکلات میں اضافہ کردیاہے،حکمرانوں کے پاس کوئی وژن نہیں اور نہ ہی ان میں کوئی صلاحیت ہے،اقتدار پر براجمان ہونے والے مسلسل ناکامی کی طرف جارہے ہیں اور عنقریب بند گلی میں کھڑے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت احتساب کے نعرے پر آئی تھی مگر احتساب کو متنازعہ بنانے اور مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کر سکی, احتساب کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تو یہ ملک و قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا .انہوں نے کہاکہ ملک میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے اور اس کے برعکس حکومت ابھی تک خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں ہے, گڈ گورننس اور قانون کی حکمرانی نہ ہوتو نتیجہ ہمیشہ صفر ہوتاہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور


loading...