کراچی کی معیشت رکتی ہے تو پاکستان کی معیشت رکتی ہے،کیا چیف منسٹر کا کام ہے کہ وہ گٹر لائنوں اور کچرے کا انچارج ہو:مصطفی کمال

کراچی کی معیشت رکتی ہے تو پاکستان کی معیشت رکتی ہے،کیا چیف منسٹر کا کام ہے کہ ...
کراچی کی معیشت رکتی ہے تو پاکستان کی معیشت رکتی ہے،کیا چیف منسٹر کا کام ہے کہ وہ گٹر لائنوں اور کچرے کا انچارج ہو:مصطفی کمال

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی کی معیشت رکتی ہے تو پاکستان کی معیشت رکتی ہے،کیا چیف منسٹر کا کام ہے کہ وہ گٹر لائنوں اور کچرے کا انچارج ہو؟شہری ادارے ماسٹر پلان 2020 کے مطابق کام کرنے کے پابند ہیں، میرے دورِ نظامت میں ماسٹر پلان 2020 بنایا گیا تھا، کراچی کی میونسپلٹی کی ذمے داری 18 اداروں کے پاس ہے، تمام ادارے ہر کام کمیٹی کے تحت کام کریں گے اور میئر اس کا سربراہ ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ناظم کراچی مصطفی کمال نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کراچی کے حوالے سے فیصلے کیے، 2007 میں چیف جسٹس نے ایک حکم دیا تھا جس میں واضح لکھا ہے کہ جو ادارہ کام کرے گا وہ ماسٹر پلان کے تحت کام کرے گا، کراچی کی میونسپلٹی کی ذمے داری 18 اداروں کے پاس ہے، تمام ادارے ہر کام کمیٹی کے تحت کام کریں گے اور میئر اس کا سربراہ ہوگا۔مصطفی کمال نے کہا اٹھارویں ترمیم کا مقصد وزیرِ اعلی کو لا محدود اختیارات دینا نہیں تھا، کیا چیف منسٹر کا کام ہے کہ وہ گٹر لائنوں اور کچرے کا انچارج ہو؟ کراچی کی معیشت رکتی ہے تو پاکستان کی معیشت رکتی ہے۔18 ویں ترمیم کے معاملے پر مصطفی کمال نے کہا کہ سندھ کی جانب سے اس پر بڑا شور ہو رہا ہے، یہ ترمیم نچلی سطح تک اختیار پہنچانے کے لیے کی گئی تھی، اسے رول بیک نہیں کرنا چاہیے، لیکن چاروں صوبے چوہدری بن کر پیسوں پر بیٹھ گئے ہیں،الیکشن جیتنے کا مطلب کام یاب ہونا نہیں ہے، جیتنے کے بعد کام کرنا کام یابی ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...