جب تک سیاست خاندانوں کے گرد گھومتی رہے گی ، ادارے مضبوط نہیں ہوں گے :سینیٹر سراج الحق

جب تک سیاست خاندانوں کے گرد گھومتی رہے گی ، ادارے مضبوط نہیں ہوں گے :سینیٹر ...
جب تک سیاست خاندانوں کے گرد گھومتی رہے گی ، ادارے مضبوط نہیں ہوں گے :سینیٹر سراج الحق

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل دیئے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے،جب تک سیاست افراد اور خاندانوں کے گرد گھومتی رہے گی ادارے مضبوط نہیں ہوں گے،فیصلے میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کے لیے اداروں کا استحکام ضروری ہے،کراچی نے ہمیشہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی اور اپنے مظلوم بھائیوں کا بڑا ساتھ دیاہے،حکومت ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کراچی کو دوبارہ اندھیروں میں دھکیلنے کی بجائے روشنیوں کا شہر بنانے کی طرف توجہ دے ۔

ادارہ نور حق میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہاڑھائی کروڑ آبادی کا یہ شہر کچھ عرصہ سے عدم استحکام کا شکار ہے اور شہری خود کو لاوارث سمجھ رہے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومت شہری حکومت کے ساتھ مل کر اس کو دوبارہ ماڈل سٹی بنائیں،کراچی منی پاکستان ہے جس میں چاروں صوبوں کے لوگ رہائش پذیر ہیں اور کراچی ماں کی طرح انہیں پال رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے گلی کوچوں اور عا م آدمی تک جمہوریت کے ثمرات پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور بلدیاتی اداروں کو وہ تمام اختیارات دیے جائیں جو آئین کی رو سے ان کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہر حکومت بلدیاتی داروں کو مضبوط کرنے اور شہری حکومتوں کو اختیارات دینے کے دعوے و اعلانات تو بہت کرتی ہے لیکن عملاً تمام اختیارات کو وہ اپنی مٹھی میں بند رکھتی ہے جس سے عا م شہری اپنے آئینی حقوق سے محروم رہتاہے ۔انہوں نے کہاکہ آئین کی بالاستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر فیصلے ہوں اور کوئی حکومتی شخصیت اور ریاستی اہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ آج اداروں میں جو تباہی نظر آتی ہے اور ہر ادارے میں کرپشن ، لوٹ کھسوٹ ، میرٹ کے خلاف بھرتیوں کی جو داستانیں ملتی ہیں ، یہ سب میرٹ کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہے۔ مستقبل میں ان کی روک تھا م کے لیے میرٹ کے قتل کو روکنا ہوگا۔حکومت کو اب ماضی کا رونا رونے کی بجائے روشن اور خوشحال مستقبل کی طرف توجہ دینا ہوگی ، اداروں کے استحکام کے بغیر ترقی و خوشحالی کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتے ۔

مزید : قومی


loading...