خاتون سرکاری وکیل کے لرزہ خیز اندھے قتل کا معمہ حل،سر کا سائیں ہی قاتل نکلا

خاتون سرکاری وکیل کے لرزہ خیز اندھے قتل کا معمہ حل،سر کا سائیں ہی قاتل نکلا
خاتون سرکاری وکیل کے لرزہ خیز اندھے قتل کا معمہ حل،سر کا سائیں ہی قاتل نکلا

  


حافظ آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پولیس نے حافظ آباد میں خاتون سرکاری وکیل نائلہ کے لرزہ خیز اندھے قتل کا معمہ حل کر لیا،سر کا تاج ہی قاتل نکلا، گھریلو ناچاقی کے باعث بھائی اور مامو ں زاد سے مل کر اجرتی قاتلوں کے ذریعے قتل کروایا،سفاک خاوند کا اعتراف جرم۔

تفصیلات کے مطابق 11 جنوری 2019 کی علی الصبح خاتون سرکاری وکیل نائلہ امجد کو اس وقت فائرنگ کر کے گھر کے سامنے گلی میں قتل کیا گیا جب وہ گھر سے نکل کر جم جا رہی تھی،قتل کی اس لرزہ خیز اور اندھی واردات کے باعث شہریوں بالخصوص پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ اور وکلا برادری میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ڈی پی او حافظ آباد ساجد کیانی نے ایس ڈی پی او صدر سرکل محمد خالد کی سربراہی میں ایس ایچ او سٹی اعجاز احمد بٹ، انچارج سی آئی اے عہد حسین تارڑ، سب انسپکٹر حافظ احمد جمال اور اے ایس آئی بدر منیر پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دے کر بہیمانہ قتل کی اندھی واردات کو ٹریس کر کے ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک سونپا۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے کرائم سین یونٹ کے ذریعے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کیے گئے اور جدید خطوط پر تفتیش کو استوار کیا گیا۔ ڈی پی او حافظ آباد ساجد کیانی روزانہ کی بنیاد پر کیس میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کرتے رہے۔ دوران تفتیش مقتولہ کے خاوند زمان کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا جس نے دوران انٹیروگیشن سفاکیت کا اعتراف کیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم زمان نے انکشاف کیا کہ اس نے بھائی علی رضا اور ماموں زاد طاہر عرف بگا سے مل کر اجرتی قاتلوں رضوان اور جاوید کے ذریعے اپنی بیوی کو قتل کروایا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ طویل عرصہ سے گھریلو ناچاقی چل رہی تھی جس کے دوران نوبت طلاق تک بھی پہنچی، لیکن مقتولہ کے سماجی اور خاندانی حیثیت کے دباؤ میں آکر اس نے رجوع کر لیالیکن 6 ماہ قبل مقتولہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور تب ہی سے قتل کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ اس نے اس گھناؤنے فعل کی تکمیل کیلئے ملزمان کو 2لاکھ روپے ادا کیے۔مرکزی ملزم زمان آئی ٹی کا ماہر ہے جس نے 6 ماہ تک شواہد کو چھپانے کیلئے منصوبہ بندی کی۔ واردات کے بعد ملزمان صوبہ پنجاب سے فرار ہوکر دوسرے صوبوں کے مختلف اضلاع میں روپوش ہو چکے تھے جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریس کیاگیا۔ ڈی پی او حافظ آباد ساجد کیانی نے ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کرنے والی خصوصی ٹیم کیلئے نقد انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹس کاا علان کیا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /حافظ آباد


loading...