مہنگائی صرف اعلانات سے کم نہیں ہو گی

مہنگائی صرف اعلانات سے کم نہیں ہو گی

  



وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورت حال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی لہر سے عوام میں جو تشویش پائی جاتی ہے، انہیں اس کا احساس ہے لہٰذا مہنگائی کم کریں۔انہوں نے کہا کہ ان کا اگلا ہدف مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2020ء میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا،یہ شرح 14.6 فیصد رہی، دسمبر 2019ء میں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی، جبکہ جنوری 2019ء میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ میں ہی اشیائے خوردو نوش میں نمایاں اضافہ ہوا،دال مونگ 19.74 فیصد، جبکہ دال ماش 10.3 فیصد مہنگی ہوئی۔دال چنا 18 فیصد، مرغی 17.3 فیصد اور گندم کی قیمت میں 12.63فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تازہ سبزیوں کی قیمت میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ چینی 5 فیصد اور آٹا ساڑھے 7 فیصد مہنگا ہوا۔ شہری علاقوں میں ایک سال میں ٹماٹر 158 فیصد، پیاز 125 فیصد، تازہ سبزیاں 93فیصد، آلو 87 فیصد، چینی 86 فیصد اور آٹا 24 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ دیہی علاقوں میں ایک سال میں ٹماٹر 211 فیصد، پیاز 137 فیصد، آلو 111 فیصد، تازہ سبزیاں 104 فیصد اور آٹا 25 فیصد مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ ہی کے مطابق ایک سال میں آٹا 25 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ چینی کی قیمت میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیااور ابھی بھی یہ اضافہ مسلسل جاری ہے۔اس کے علاوہ گھی، بکرے کا گوشت، کوکنگ آئل اورخشک دودھ بھی مہنگا ہوا ہے۔ قصہ مختصرکہ روز مرہ استعمال کی تما م اشیاء کی قیمت کا گراف اوپر ہی کی طرف جا رہاہے۔یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے اورروپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔پاکستان میں طلب کے مقابلے میں رسد کی بھی کمی ہے،حکومت اس میں توازن قائم کرنے کے لئے آئندہ منی بجٹ میں چند اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹیز اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز کم کرنے اور درآمدات کھولنے پر غور کر رہی ہے۔ ٹیکس بڑھانے اور نئے ٹیکس لگانے کے باوجود ایف بی آر رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ دوسری طرف سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی میں سود کی شرح 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا،مہنگائی میں کمی کی امید میں سٹیٹ بینک ایک عرصے سے شرح سود اس بلند سطح پر قائم رکھے ہوئے ہے، لیکن امید بر ہی نہیں آ رہی۔معاشی ترقی کی رفتار بھی5.8 فیصد سے کم ہوکر2 فیصد کے قریب آپہنچی ہے، یعنی آگے جانے کی بجائے اسے ریورس گیئر لگ چکا ہے۔

غرض بہت سے مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں، لیکن موجودہ حکومت ان کا منہ بند کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ حکومت کی اپنی پالیسیاں اور بد نظمی و بد انتظامی ہے۔تازہ ترین مثال آٹے، گندم کا بحران اور آٹے کی قیمت میں اضافہ ہے۔ ملک میں گندم طلب سے زیادہ موجود تھی،حکومت نے اگست 2018ء سے اگست 2019ء کے دوران 7.5 لاکھ ٹن گندم برآمد کر دی، اس کے علاوہ جو سمگل ہوئی وہ الگ، نتیجہ ملک میں گندم کا بحران پیدا ہو ا اور حکومتی حلقوں میں بلیم گیم کا آغاز ہو گیا۔وفاقی حکومت نے ملبہ سندھ حکومت پرڈالا،سندھ حکومت ٹرانسپورٹروں پر برس پڑی۔بعض حکومتی حلقے تو سرے سے کسی بحران کو ہی ماننے سے انکاری تھے۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا، ایسے میں گندم کی کمی پوری کرنے کے لئے حکومت کو تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔اس ساری صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لئے شوگر مافیا بھی میدان میں آ گیا، چینی گوداموں میں ذخیرہ کر کے اس کے نرخ چند ہی روز میں 5 سے 6 روپے فی کلو تک بڑھا دیئے گئے، حکومت نے بحران کے پیش نظر اب 3 لاکھ ٹن چینی بھی فوری درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یہی حال چند ماہ قبل ٹماٹر کا تھا، ٹماٹر کی قیمت میں کمال اضافہ دیکھنے میں آیا، بعض علاقوں میں قیمت400 روپے فی کلو تک جا پہنچی، ٹماٹر کی پیداوار میں موسمی حالات کی وجہ سے 40 فیصد کمی ہوئی تھی، بھارت سے ٹماٹر کی درآمد پر بھی پابندی تھی، لہٰذا ٹماٹر کی رسد میں کمی واقع ہو گئی،ایسے میں ٹماٹر کی طلب میں اضافہ ہوا اور قیمت بڑھ گئی۔ تمام تر واویلا کے بعد ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی۔اور تو اور دوائیوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں،لوگوں کے لئے ادویات کا حصول مشکل ہو گیا، یعنی بیماری بھی مہنگی پڑنے لگی۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی کہانی بھی سب کے سامنے ہے، ڈالر کی قیمت بڑھی تو پٹرول کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر نے لگی،ہر چیز کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا، پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث افراطِ زر نیچے آنا ممکن نہیں ہے۔آئی ایم ایف پروگرام کے تحت خسارہ کم کرنے کے لیے بجلی، پانی، گیس سمیت تمام یوٹیلیٹیز کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔نئے کاروبار ی مواقع میسر نہیں ہیں،بلکہ جو پرانے کاروبار چل رہے تھے وہ بھی بند ہونے کے درپے ہیں،جس کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کی قوت خرید مزید متاثر ہو رہی ہے۔ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہا ہے،روز بروز بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے اس کی جیب پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ڈسٹرکٹ انتظامیہ پرائس کنٹرول میں کچھ خاص کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی، ہر کوئی اپنی مرضی کے دام پر اشیاء فروخت کر رہا ہے۔ ایسے میں سینٹ ممبران، سرکاری ملازمین کی خواہش ہے کہ ان کی تنخواہ اور مراعات میں سو فیصد سے بھی زیادہ اضافہ کیا جائے، کیونکہ مہنگائی ان پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیراعظم کو عوام کی مشکل کا اندازہ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف باتوں سے مسائل حل نہیں ہوتے،معاملات درست نہیں ہوتے۔جناب وزیراعظم وقتاً فوقتاً عوام کو تسلی دیتے رہتے ہیں اور ہر دفعہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ مہنگائی کے ذمہ داران کوہر حال میں پکڑیں گے، لیکن حالات الگ ہی کہانی سناتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا سارا زور اسی پر رہا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے ان حالات کا سامنا ہے، لیکن اب پچھلی حکومتوں کی کرپشن اور بدانتظامی کی آڑ میں خود کو چھپانا قدرے مشکل ہے۔کوئی بھی معاملہ ہوتا ہے اور حکومتی اہلکاروں کی شعبدہ بازی شروع ہو جاتی ہے،اس وقت دلاسوں اور تسلی کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔ مہنگائی کا جن بوتل میں قید کرنے کے لئے صوبائی و وفاقی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا، بعد از وقت واویلا اوراپنی ہی بد نظمی اور بد انتظامی سے ہڑبونگ مچانا عقلمندی نہیں ہوتی۔ ذخیرہ اندوزوں اور مافیازکے گرد گھیرا تنگ ہونا چاہئے، ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں، جس سے روز مرہ خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء کی طلب و رسد کے اعداد و شمار کی بروقت دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو، نئے کاروبار شروع کرنے کے لئے آسان شرائط پر سرمایہ فراہم کیا جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔بہت سے معاملات میں صرف احساس ہونا ہی کافی نہیں ہوتا،بلکہ اس کا مداوا بھی مقصود ہوتا ہے،ناسور بننے سے پہلے ہی زخم کا علاج کرلینا بہتر ہوتاہے۔

مزید : رائے /اداریہ