بھارت انتہاء پسندوں کے ہاتھ میں

بھارت انتہاء پسندوں کے ہاتھ میں
 بھارت انتہاء پسندوں کے ہاتھ میں

  



آر ایس ایس …… راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھارت کی انتہاء پسند ہندو تنظیم ہے جو خود کو قوم پرست قرار دیتی ہے۔ 1925 ء میں ناگپور میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے باعث بھارت کا چہرہ مسخ کردیا ہے۔ برطانوی راج میں ایک بار،جبکہ آزادی کے بعد بھی تین بار اس تنظیم پر پابندی لگائی گئی۔ وجہ یہی دہشت گردانہ اقدامات اور انتہاء پسند سوچ تھی کہ بھارت کو صرف ایک ہندو ریاست بنانا ہے،جس میں اقلیتوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔1948 ء میں مہاتما گاندھی کا قتل بھی اسی تنظیم کے سرکردہ رکن ناتھورام ونائک گوڈ سے ہاتھوں ہوا۔ 6دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کاانہدام بھی اسی کے کارکنوں کا شاخسانہ ہے۔ 1927ء سے اب تک ہنوزیہ تنظیم فسادات میں خون کے دریا بہا چکی ہے۔ اس کی معاون و مددگار اور ہم خیال تنظیموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے، جس نے اس کی منفی سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بھارت میں کئی مساجد میں بم دھماکے اور سمجھوتہ ایکسپریس کا سانحہ بھی انہی کی دہشت گردانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت مسلمانوں کی شہریت کے حوالے سے ترمیمی بل تک سبھی اقدامات آر ایس ایس کی معاون و ہم خیال تنظیم بی جے پی کی سوچ کی پیدوار ہیں۔ تقسیم سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کی منفی کارروائیاں ہنوز ختم نہیں ہو سکیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے بر صغیر پر کئی سو سال حکومت کی ہے،انتہاء پسند ہندو خائف ہے کہ بھارت پر پھر سے مسلمانوں کی حکومت نہ آجائے، یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھارت نے کبھی تو گولہ باروود کی آگ برسائی اور کبھی آبی دہشت گردی سے کام لیا، کیونکہ ایک الگ مسلم ریاست اسے قبول نہیں تھی۔اسے ڈر ہے کہ پاکستان ہندوستان کو فتح کر لے گا،حالانکہ پاکستان میں آنے والی ہر حکومت نے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور امن کی بات،

لیکن بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی مثبت سوچ اور مصلحت کو بزدلی سے تعبیر کیا۔ عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی بھارت کو دوستی، امن اور مذاکرات کی دعوت دی،جس کے نتیجے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں بڑھا دیں۔ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جاری آپریشنز میں مزید تیزی پیدا کر دی۔ لائن آف کنٹرول پر ہر روز بلااشتعال گولہ باری کا سلسلہ بھی پہلے سے زیادہ ہوا۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس دونوں بھارت کو ایک متشدد ہندو ریاست بنانے کی تیاری کرتی آ رہی ہیں۔

پچھلے پانچ سال میں مودی اور اس کے اتحادیوں نے مسلمانوں کے خلاف بہت سخت رد عمل دیا۔ایک طرف گاؤ ماتا کے نام پر کئی بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا تو دوسری طرف کشمیری مسلمانوں پر بدترین تشدد کے لئے گورنر کے ذریعے فوج کو بے پناہ اختیارات دئیے گئے۔ بھارت میں مذہبی منافرت کا جنون اور سرحدی علاقوں کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی،اور یہ سب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا۔دنیا اس وقت مذہبی بنیاد پر ہونے والی شدت پسندی کے خلاف ہے،مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کا منشور ہی یہ ہے کہ بھارت کو ایک مکمل ہندو ریاست بنایا جائے۔ بھارت، جس کا آئین اسے ایک سیکولر ملک بیان کرتا ہے۔ایک ایسا ملک جہاں رہنے والے سب مذاہب کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق ادا کرنے کی پوری آزادی میسر ہو، مگروہاں آج نہ تو کسی کی مذہبی آزادی محفوظ ہے، نہ جان و مال محفوظ ہے۔آج بھارتی حکومتی رویے سے لگتا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ملک ہے، باقی مذاہب کے لئے بھارت میں کوئی جگہ نہیں۔

آج اکیسویں صدی میں جب ہر طرف انسانیت کے رشتے مضبوط کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔پوری دنیا کے لوگ آسانی کے ساتھ حصول رزق کے لئے دوسرے ممالک میں جا رہے ہیں، جہاں وہ اپنے بہتر رزق کے لئے کوشاں ہیں، مگر بھارت خطے کے امن کا دشمن بن چکا ہے۔بھارت میں جنگی جنون کی ایک بڑی اور اہم وجہ ہتھیارسپلائی کرنے والے وہ بڑے ملک بھی ہیں، جنہیں دنیا میں امن قبول ہی نہیں ۔جنگی ہتھیاروں کی صنعت اس وقت دنیا میں اتنی منافع بخش ہے کہ کوئی اور صنعت اس کا دور دور تک مقابلہ نہیں کرسکتی۔اسلحے کے بیوپاری اور ان کے متحرک نمائندے متحارب ممالک کے درمیان نفرتوں کے بیج بونے کا کوئی موقع نہیں گنواتے، بلکہ چھوٹے چھوٹے علاقائی تنازعات پیدا کر کے جنگی ہتھیاروں کو ان ملکوں کے لئے ضروری بنا دیتے ہیں۔جب بھارت میں ایک جنونی حکومت برسراقتدار آئی تو ان کے لئے اپنا جنگی سازو سامان بیچنا اور بھی آسان ہو گیا۔انہی کی شہ پر بھارت کبھی پاکستان کی سرحدوں پر گولہ باری کرتا ہے تو کبھی اپنے ہمسایہ نیپال اور سری لنکا کو تنگ کرتا ہے۔ بنگلہ دیش ویسے تو بھارت کا بہت قریبی ساتھی ہے، مگر بھارتی جبر و ستم کا وہ بھی شکار ہے۔بس وہاں کی حکومت بھارت کی محبت میں کوئی آواز بلند نہیں کرتی۔بھارتی فوج اور بنگلہ دیشی فوج کے درمیان بھی سرحدی خلاف ورزیاں معمول کی بات ہے۔

آج بھارت جنگ کی دھمکیا ں دے رہا ہے۔شائد بھارت کو پاکستانی فوج کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ آج ہماری فوج جدید ہتھیاروں سے لیس ہے، ہمارے پاس بہترین میزائل سسٹم بھی ہے،ایٹمی ہتھیار بھی ہماری ملکیت ہیں، لیکن پاکستانی فوج کی اصل طاقت ایمان کی طاقت ہے، جو انہیں کسی بھی ظالم دشمن کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے۔آخری فتح ان شاء اللہ اسلام ہی کی ہو گی۔ بھارت میں لوگ اب یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے کس جماعت کو ووٹ دے کر کامیاب کر دیا ہے، جو سیکولر بھارت کے لوگوں کی ترجمانی کرنے کی بجائے صرف ہندوؤں کی ترجمان بن کر رہ گئی ہے؟ بھارت میں پہلے ہی آزادی کی بہت سی تحریکیں چل رہی ہیں۔مسلمانوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مسلمان زیادہ عرصہ کبھی بھی ظلم برداشت نہیں کرتے،کوئی نہ کوئی قائد ان کی رہنمائی کے لئے متحرک ہو ہی جاتا ہے،جو ان کے جذبہء ایمانی کو اور بھی مضبوط کر دیتا ہے۔ بھارتی مسلمان بھارتی جبر سے تنگ آکر پاکستان تو شائد نہ آئیں، مگر یہ یقینی بات ہے کہ اگر بھارت میں انہیں آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی اور معاشرتی زندگی گزارنے کے مواقع بلا خوف و خطر نہ ملے تو وہ اپنے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کر کے ایک اور مسلم ریاست قائم کر سکتے ہیں۔

اگر ایسا وقت آیا تو صرف مسلمان ہی نہیں،باقی محروم قومیں بھی بھارت سے علیحدگی کو ترجیح دیں گی۔بنگال، پنجاب، منی پور آسام، جھاڑکھنڈ اور دوسری بہت سی ریاستیں بھارت سرکار سے پہلے ہی بہت ناخوش ہیں۔پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے فضائی در اندازی کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی تھی، جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو واپس کرکے اخلاقی جنگ جیت لی تھی،لیکن بھارت کو اخلاقیات کا کوئی سبق یاد ہی نہیں ہے۔ بھارت ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، جس پر ایک انتہاء پسند ہندو جماعت کے پیروکار وں کی حکومت ہے۔ دنیا کے لئے یہ بات قابل تشویش ہونی چاہئے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کے حکمران اپنی متشدد سوچ اور تنگ ذہنی کے باعث خدانخواستہ کوئی بے وقوفی کر سکتے ہیں، جس سے دنیا کا امن تہہ و بالا ہو کر رہ جائے گا۔ دنیا کے رہنماؤں کو چاہئے کہ بھارت کے ایٹمی اثاثوں کو بی جے پی کی دہشت گرداور انتہاء پسند حکومت سے بچانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔

مزید : رائے /کالم