بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

  



بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں اور انہیں کنٹرول میں لانے کے لئے کیا اقدامات کرنے پڑتے ہیں، ان کے لئے کون سی ایسی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے، جس کے سبب بحرانوں سے بچا جا سکتا ہے؟ ……بحرانوں کی کئی قسمیں ہیں۔ جن میں سیاسی بحران، معاشی و اقتصادی بحران، سماجی بحران اور اخلاقی بحران شامل ہیں۔ سیاسی بحران سیاسی اداروں کی کمزوریوں اور سیاسی جماعتوں کے منشور میں عدم استحکام کے سبب آتا ہے، جس کے لئے سیاسی شعور کو مضبوط کرنے کے لئے سیاسی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی بحران پاکستان ہی میں نہیں، بلکہ تمام ممالک میں آتے ہیں، جن کو کنٹرول کرنے کے لئے سیاسی طاقتیں اور سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کر کے ملکوں کے حالات کو بہتر اور رواں دواں رکھ لیتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ مختلف ادوار میں ریاستوں اور حکومتوں کو شدید سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سیاسی بحران ممالک کی سالمیت اور حفاظت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ پاکستان جب سے آزاد ہوا ہے، سیاسی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔

ان سیاسی بحرانوں میں عدلیہ کا بھی کردار رہا ہے۔ عدلیہ نے سیاسی بحرانوں اور سیاسی حکومتوں کو صحیح سمت کی طرف موڑنے کے لئے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی ملک کی عدلیہ اگر انصاف کے تقاضوں اور ترازو کو متوازن رکھے تو ملک کو ان تمام بحرانوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ سیاسی بحرانوں میں معاشرے کے افراد کا کردار بھی شامل ہوتا ہے، لیکن جس ریاست میں انصاف اور عدلیہ کا بول بولا ہو اور حاکمیت کے ساتھ ساتھ عدلیہ بلا امتیاز فیصلے کرے تو اس ملک کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور اس کی ترقی میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں عدلیہ کو وہ ماحول اور وہ طاقت نہیں دی گئی جو اس کو ملنی چاہئے تھی۔ سیاسی بحرانوں سے ریاستی نظام کمزور ہوتا ہے اور ریاست کے دیگر ادارے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ سیاسی بحرانوں پر قابو پانے کے بہت سے طریقے ہیں، جن پر عمل کر کے دنیا کے کئی ممالک نے اپنے سیاسی نظام کو مضبوط اور مستحکم کیا ہے اور وہاں پارلیمانی سسٹم کے باوجود بحران بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان ہمیشہ سیاسی بحرانوں کی زد میں رہا اور ہے۔ اس کی بہت سی سیاسی اور سماجی وجوہات بھی ہیں۔ ملک میں مخلص سیاست دانوں اور مخلص قیادت کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ لانگ ٹرم منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب ملکی وسائل کا ضیاع بھی ہوا ہے اور ملکی وسائل کو استعمال میں لانے کے لئے سسٹم بھی ہمیشہ کمزور رہا ہے…… سیاسی بحران سے اقتصادی بحران کی طرف آتے ہیں۔ اقتصادی بحران سے ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے اور افراط زر میں اضافے سے اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان سے چھونے لگتی ہیں، جس کے سبب ملک اور ریاست کے باشندوں کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ ریاست کے مقاصد اور حکومت کے مقاصد کی نفی ہوتی ہے۔ بنیادی ضروریات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جب بنیادی ضروریات کا حصول مشکل ہو جائے تو پھر ملک اور اداروں کے فرائض میں کوتاہی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ملک معاشی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔

معاشی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی بحران کسی بھی ملک کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں، اس سے ریاست اور ریاستی اداروں کی تنزلی شروع ہو جاتی ہے۔ اقتصادی بحران سے کاروباری زندگی معطل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے پاس جس قدر قدرتی اور دیگر وسائل موجود ہیں، یہاں تو اقتصادی بحران آنا ہی نہیں چاہیے۔ پاکستان جو بنیادی طور پر زرعی ملک ہے، وہاں آٹے کا بحران پیدا ہو جانا کتنی شرم ناک بات ہے۔صدر پاکستان عارف علوی کہتے ہیں کہ مجھے آٹے کے بحران کا پتہ ہی نہیں، لیکن انہوں نے اپنی لاعلمی کے جرم کا اعتراف کیا اور کہا ہے کہ مجھے آٹے کے بحران کا پتہ ہونا چاہئے تھا، جبکہ چینی کا بحران بھی ملک کے باشندوں کے سر پر آن پہنچا ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں آٹے کے بحران پر کنٹرول کے لئے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد ہوئی ہے۔ پاسکو کے پاس اب 41 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ اپوزیشن نے آٹا بحران کے خلاف احتجاج بھی کیا اور اسمبلی سے واک آؤٹ بھی۔ شہباز شریف نے آٹے کے بحران پر تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا، جس ملک کی چار بڑی فصلیں گندم، چاول، کپاس اور گنا ہوں، وہاں ایسا بحران آ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ بندی نہیں ہے۔

اقتصادی اور معاشی بحران آنے سے پہلے اس کے تدارک کے لئے اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک،خصوصی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں تدارک کا پورا سسٹم موجود ہوتا ہے، وہاں بروقت اقدامات سے ملک کو معاشی بحران سے بچایا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں تدارک کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ 1947ء کے بعد سے پاکستان کے معاشی مسائل موجود ہیں اور زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک اور اشیائے خورو نوش کا بحران ہمیشہ رہتا ہے۔ ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ہم سبزیاں پیدا کرتے ہیں۔ گندم، چاول، کپاس، گنا وافر مقدار میں پیدا کرتے ہیں تو پھر آٹے اور چینی کا بحران کیوں پیدا ہو؟ ترقی یافتہ ممالک میں معاشی بحرانوں پر قابو پانے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی نظام میں بہتر منصوبہ بندی صرف حکومتوں کو گرانے یا حکومتوں کو بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ان سب بحرانوں سے خطرناک ترین بحران اخلاقی ہوتا ہے، جس میں اخلاقی اقدار ختم ہو جاتی ہیں اور معاشرے کے افراد، خاندانوں، گروپوں کی سوچ تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کے براہ راست اثرات معاشرتی اقدار پر پڑتے ہیں، اس کے سبب معاشرتی نظام اور معاشرے کی اچھی اقدار کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

اخلاقی بحران اصل میں سیاسی بحران اور اقتصادی بحران کے سبب پیدا ہوتا ہے اور انسان کے سوچنے، کام کرنے،تعلیم حاصل کرنے اور دیگر افعال میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ معاشرے کے ذہن بیمار ہو جاتے ہیں اور جب معاشرے کے ذہن بیمار ہو جائیں تو پھر اس ملک کے باشندوں کی ذہنی سوچ اور ذہنی حالت کیا ہوگی؟ افراد کی سوچ کے دھارے کس طرف جا رہے ہوں گے؟ …… برائیاں، کرپشن و رشوت، نظاموں میں شکست و ریخت، جرائم، معاشرے میں غلط اقدار، یہ سب اخلاقی بحران کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ بحران یک دم رونما نہیں ہوتا، بلکہ اس بحران کے آنے میں سیاسی و اقتصادی اور معاشی وجوہات بھی شامل ہوتی ہیں۔ پاکستان اب جہاں سیاسی و اقتصادی بحرانوں سے دو چار ہے، وہاں سب سے خطرناک بحران، جس کو ہم نے فوری درست کرنا ہے، اخلاقی بحران ہے۔ اپنی اسلامی اقدار و روایات کو بچانا ہے تو حضور پاک ﷺ سے قبل عرب کا زمانہ دیکھ لیں، وہاں اخلاقی بحران کی انتہا تھی۔ حضور اکرمﷺ کی بعثت سے قبل عورتوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا؟ یہی حال اب غربت اور بے روزگاری کے سبب پاکستان کا ہے۔

اقتصادی مسائل نے عام آدمی کا جینا بھی حرام کر دیا ہے۔ انسان اب زندگی کی بقاء کی جنگ نہیں لڑ رہا ، بلکہ معاشی بقاء کی جنگ میں مصروف ہے۔ پاکستان کے شہریوں کی اخلاقی اقدار کا جائزہ لیں تو وہ دن رات اپنے معاشی مسائل کے حل میں مصروف ہیں۔ زندگی کی روزمرہ کی ضروریات کو کس طرح پورا کرنا ہے؟ اس کے ذہن کی سوچ اسی دھارے پر پورا دن چلتی رہتی ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے اور کسی شخص کے پاس وقت نہیں کہ وہ کسی کے جنازے میں شرکت کرے یا کسی بیمار ہمسائے کی تیمارداری کرے، لہٰذا جہاں ہم نے ملک کے سیاسی و اقتصادی نظام کو بچانا ہے، وہاں ہمیں اخلاقی بحران کو بھی بچانا ہے اور قوم کی سوچ کو بھی تبدیل کرنا ہے تاکہ مضبوط اور بامقصد اسلامی معاشرہ قائم رہے اور قوم کا زندہ قوموں میں شمار رہے۔ اخلاقیات پر ارسطو اور افلاطون نے بہت زور دیا ہے اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ جب قومیں اخلاقی طور پر تباہ ہو جاتی ہیں تو پھر ریاست کی سالمیت کو خطرات پیدا ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے تمام نظاموں میں اتنے نقائص اور عدم توازن پیدا ہو چکے ہیں کہ ملک کے تمام انتظامی ڈھانچے تباہی کی طرف جا رہے ہیں اور معاشرے کی تشکیل میں جو دڑاریں نظر آرہی ہیں، ان کا تدارک مشکل نظر آرہا ہے۔ حکومت اقتصادی اور سیاسی بحران کو بچانے اور قابو پانے پر لگی ہوئی ہے، لیکن معاشرے میں نفسا نفسی اور اخلاقی تباہی کی جو کہانی نظرآرہی ہے، اس سے شائد لاتعلق ہے…… لیکن ملکوں کی سالمیت کا انحصار معاشی اور سیاسی نظاموں کی مضبوطی سے نہیں ہوتا، بلکہ اخلاقی اقدار کی مضبوطی سے ہوتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن ریاستوں اور ممالک میں اخلاقی نظام مضبوط ہے، وہاں باقی نظام روانی سے چل رہے ہیں، کیونکہ انسانی اقدار اور انسانی سوچ نے ملکوں کے نظام کو چلانا ہوتا ہے ناکہ نظاموں نے انسان کی سوچ کو چلانا ہوتا ہے؟ اب سوچنا اور عمل یہ کرنا ہے کہ بحرانوں پر قابو پانے کے لئے پہلے سے ہی منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔ سیاست دان الیکشن کی منصوبہ بندی تو کئی سال پہلے کر لیتے ہیں، لیکن ملک کی سلامتی کی منصوبہ بندی اور اس کو بحرانوں سے بچانے کی منصوبہ بندی کرنے میں انہیں پتہ نہیں کیا قباحت ہے؟

مزید : رائے /کالم