مہنگائی کا ایٹم بم اور مایوسی کا وائرس

مہنگائی کا ایٹم بم اور مایوسی کا وائرس
مہنگائی کا ایٹم بم اور مایوسی کا وائرس

  



پی ٹی آئی حکومت کے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر کا ارشاد تھا کہ مہنگائی بڑھی ضرور ہے، لیکن ابھی عوام کی چیخیں نہیں نکلیں ……یہ تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے۔ عوام کی چیخیں تو اس وقت بھی نکل رہی تھیں، لیکن ہمارے حکمرانوں تک پہنچ نہیں رہی تھیں، مگر اب تو بات چیخوں سے بہت آگے نکل گئی ہے،بلکہ عوام میں چیخنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی۔ کسی کو کیا پتا تھا کہ پی ٹی آئی اگر حکومت میں آگئی تو وہ عوام کا کچومر نکال دے گی۔ دو ایٹم بم وہ تھے جو ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرے تھے اور ایک مہنگائی کا ایٹم بم یہ ہے، جو پاکستان کے نیم مردہ عوام پر پھٹ چکا ہے۔ مَیں جب کبھی پولٹری کی دکان پر پنجرے میں بند نیم مردہ مرغیاں دیکھتا ہوں، جن میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی سکت بھی نہیں ہوتی تو مجھے ان مرغیوں پر پاکستانی عوام ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ ہمارے گھر کے پاس رہنے والے ایک حکیم صاحب کہنے لگے کہ اسد عمر نے ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ عوام کی چیخیں نہیں نکل رہیں، چیخیں تو ان کی نکلتی ہیں،جو چیخ و پکار کے قابل ہوں، نیم مردہ لوگوں میں تو اتنی طاقت ہی نہیں ہوتی کہ چیخ سکیں۔

وہ خود کشی تو کر سکتے ہیں، لیکن چیخ نہیں سکتے۔ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں سسکتے عوام کی شروع میں نکلنے والی بلند و بالا چیخیں بھی اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ایک حکومت ایسی بھی آئے گی جو 17 ماہ میں بجلی کی قیمت 17 سے زیادہ مرتبہ بڑھائے گی۔ بجلی ہی کیا، گیس کی قیمتوں کو تو وہاں پہنچا دیا گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے لوگ ڈالروں میں یہ گیس خریدنے سے پہلے کئی بار سوچیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں کئی گنا اور پٹرول اس دور حکومت میں دوگنا ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے جب بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں کئی گنا بڑھیں گی تو ہر چیز مہنگی ہو گی۔ ادویات کی قیمتیں بھی دو گنا یا اس سے زائد بڑھ چکی ہیں اور ان میں جان بچانے والی (لائف سیونگ) دوائیں بھی شامل ہیں۔

ذیابیطس کے کنٹرول کے لئے انسولین ضروری ہے، کیونکہ وہ گولیوں سے کنٹرول نہیں ہو سکتی۔ انسولین کی قیمتیں بھی دو گنا سے زیادہ ہو گئی ہیں۔پچھلے ادوار میں بہت سی دوائیں سرکاری ہسپتالوں سے مستحقین کو مفت ملا کرتی تھیں، تبدیلی والوں نے یہ سہولت بھی ختم کر دی ہے۔ اندازہ کریں ذیابیطس میں مبتلا ایک مریض اگر انسولین خریدنے کی سکت نہیں رکھتا تو اس کی جان بچانے کی گارنٹی کسی طرف سے نہیں ہے۔ کسی کی امداد سے وہ بچ گیا تو بچ گیا اور اگر کہیں سے کوئی مدد نہ ملی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

موجودہ حکومت نے پاکستانی عوام پر مہنگائی کا ایٹم بم چلا دیا ہے، لیکن ابھی تو شروعات ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کی لگائی ہوئی شرائط کے تحت یہ سب کیا جا رہا ہے،اس کے ساتھ ہمارا معاہدہ 2022ء تک ہے۔ اب اس وقت تک کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے یہ تو آنے والے دو تین سال ہی بتائیں گے؟پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان میں شرح سود 13.25 فیصد رکھی ہوئی ہے۔ گذشتہ دور میں شرح سود 6 فیصد تھی، گویا اس میں تقریباً سوا دو گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ماہرین معیشت سمجھتے ہیں کہ شرح سود ملک میں موجود مہنگائی کی شرح سے دو فیصد اوپر رکھی جاتی ہے اور حکومت مہنگائی کے حساب سے ہی شرح سود مقرر کرتی ہے۔ پچھلے تقریباًایک سال سے شرح سود 13.25 فیصد ہے،اِس لئے حکومت کا اعتراف بھی ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 11فیصد سے اوپر ہے۔ معیشت پر نظر رکھنے والوں کے خیال میں یہ بھی مہنگائی کی اصل صورت حال کی درست عکاسی نہیں، کیونکہ ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح 16 فیصد سے تو بہر حال اوپر ہے، کچھ لوگ تو اسے 20 فیصد سے بھی زیادہ بتاتے ہیں، لیکن 16 فیصد والی بات ہی مان لی جائے تو بہر حال مہنگائی جتنی اس حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے، اتنی پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں تھی۔

اب کیا کیا جائے کہ معیشت کے انچارج مشیر ڈاکٹر حفیظ شیخ کی اپنی معلومات کے مطابق ٹماٹر جب 400روپے کلو تھے تو وہ اسے 17روپے کلو بتا رہے تھے۔ جو مشیر عوام سے اتنا لاتعلق ہو، وہ عوام کو ریلیف کیا دے سکتا ہے؟ وفاقی وزیر غلام سرور خان مٹر پانچ روپے کلو بتا رہے تھے، جبکہ اس وقت وہ 200 روپے کلو فروخت ہو رہے تھے۔سب سے بنیادی خوراک آٹا بھی اس حکومت میں دوگنا مہنگا، یعنی 35 سے 70 روپے کلو ہو چکا ہے اور اگر کہیں سے کم ریٹ یا سرکاری طور پر دستیاب تھا تو اس کے لئے دو کلومیٹر کی قطاریں دیکھنے میں آ رہی تھیں۔ جب پشاور میں لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں تو وہاں کے صوبائی وزیر تندور والوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ روٹی کی قیمت نہ بڑھائیں،بلکہ پیڑا آدھا کر لیں۔ یہ وہی وزیر موصوف ہیں، جنہوں نے ٹماٹر کی ہوش ربا مہنگائی پر ٹماٹر نہ کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ عوام کواس طرح کے مفت مشورے دینے میں کئی اور وزیر بھی پیش پیش تھے۔ جب چینی، دالوں اور سبزیوں جیسی بنیادی ضرورتیں لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہوں تو گوشت اور پھل تو عوام صرف خواب میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے قلت اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے؟لیکن وہ نام نہیں بتائیں گے، حالانکہ یہ ان کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے ذمہ داروں کے نہ صرف نام بتائیں، بلکہ انہیں گرفتار بھی کریں۔ ان قومی مجرموں کی پردہ پوشی تو خود ایک جرم ہے،اسی وجہ سے لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے۔ ایک طرف عوام ہیں، جن پر مہنگائی کا ایٹم بم پھٹ چکا ہے اور وہ اس کی تابکار شعاعوں سے جھلس رہے ہیں،دوسری طرف ایسے حکمران ہیں، جو آئے دن اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کے بل اسمبلیوں سے منظور کراتے رہتے ہیں۔ عوام بھوک سے مر رہے ہیں لیکن سینیٹ سیکرٹریٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سپیکراور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں 400 فیصد اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا بل جمع کروا دیا گیا ہے۔ اس بل میں ان کی بیویوں اور بچوں کے لئے بزنس کلاس کے ہوائی ٹکٹ (یا اس کے مساوی رقم) اور اس طرح کی بے شمار مراعات بھی شامل ہیں۔

یہ شائد بے حسی کی انتہا ہے۔ہمارا واسطہ ایسے حکمرانوں اور اراکین پارلیمنٹ سے پڑا ہے، جنہیں عوام کی ایک فیصد بھی فکر نہیں ہے۔سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اندرون ملک پروازوں میں بزنس کلاس نہیں ہوتی، اس لئے یہ لوگ سفر تو پہلے کی طرح ہی کریں گے، لیکن بزنس کلاس کے کرایہ کے مساوی رقم بٹورا کریں گے۔ایسے قانون سازوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، چاہے ان کا تعلق حکومت میں شامل پارٹیوں سے ہو یا اپوزیشن سے…… اپنی ذاتی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے حمام میں سب ننگے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی کے مسئلے پر انہیں مس گائیڈ کیا گیا ہے۔اگر کوئی وزیراعظم مہنگائی جیسے عوامی مسئلے پر اقتدار میں آنے کے ڈیڑھ سال بعد بھی مس گائیڈ ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوام میں سے ہے ہی نہیں اور نہ اسے عوام کی کوئی فکر ہے……اورنگزیب عالمگیر پورے برصغیر پر محیط انتہائی عالی شان سلطنت کا بے حد طاقتور شہنشاہ تھا، لیکن اسے سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تمام عوامی مسائل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تفصیل سے علم ہوتا تھا۔

موجودہ حکومت نے پہلے ساڑھے سات لاکھ ٹن اعلیٰ کوالٹی کی گندم سستے داموں ایکسپورٹ کی اور اب دوگنا قیمت پر کم کوالٹی کی تین لاکھ ٹن امپورٹ کر رہی ہے۔ یہی چینی کے ساتھ بھی ہونے جا رہا ہے۔ لاکھوں ٹن چینی ایکسپورٹ ہو چکی، اب لاکھوں ٹن چینی امپورٹ کی جائے گی اور اس کے ذمہ داران حکومت کا حصہ ہیں، اسی لئے تو عمران خان کہتے ہیں کہ وہ ان کا نام نہیں لے سکتے۔ اسی طرح کپاس اور فرٹیلائزر میں بھی بڑی بڑی کارروائیاں کی جائیں گی اورغریبوں کا خون چوس کر سینکڑوں ارب روپے مخصوص لوگوں کی تجوریوں میں جائیں گے۔ جیسے گندم اور چینی کی مصنوعی قلت کرکے امپورٹ کرنے کا جواز گھڑا گیا ہے تاکہ اربوں روپے بنائے جائیں، اسی طرح فروری کے اختتام تک یوریا کھاد کا مصنوعی بحران پیدا کیا جائے گا۔ ایک طرف چند لوگوں کی یہ عوام کش کارروائیاں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف قرضے لینے کی انتہا کرکے پاکستان کو تباہی کے گڑھے میں دھکیلا جا رہا ہے۔

قیام پاکستان سے2008ء تک 61 سال میں کل 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ اگلے دس سال میں 2018ء تک مزید 24 ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا، جس پر عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر واویلا کیا کرتے تھے۔ اب ان کی اپنی حکومت آئی ہے تو صرف پہلے سال میں ہی 11 ہزار ارب روپے سے زائد قرضہ لے کر کل قرضہ 41ہزار ارب تک پہنچا دیا ہے۔ ایک سال میں 11 ہزار ارب قرضہ دو سال پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی حکومت اتنا اندھا دھند قرضہ لے گی، لیکن عمران خان نے یہ کر کے دکھایا ہے کہ ان کے اتنے بڑے کشکول کے سامنے پچھلے تمام کشکول چھوٹے لگنے لگے ہیں۔ کیسی بات ہے کہ خود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار سے سالانہ چھ گنا زیادہ قرضہ لے رہے ہیں اور تحقیقاتی کمیشن بھی ان کے خلاف بنایا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں قرضہ بڑھنے کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو ملکی قانون FRDLA کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے…… آج کل چین سے پھیلنے والے جان لیوا کرونا وائرس کا بہت غلغلہ ہے، لیکن پاکستانی عوام میں انتہائی تیزی سے اس سے بھی زیادہ جان لیوا ”مایوسی“ کا وائرس پھیل رہا ہے، کیونکہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے عوام کی امیدیں تیزی سے دم توڑ رہی ہیں۔ پاکستانی عوام پر مہنگائی کا ایٹم بم پھٹ چکا ہے، جس کی وجہ ملک کے اندر مختلف مافیاز ہیں۔

مزید : رائے /کالم