ایک امریکی طیارے کا کریش (1)

ایک امریکی طیارے کا کریش (1)
ایک امریکی طیارے کا کریش (1)

  



گزشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے غزنی میں ایک امریکی فوجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ مغربی میڈیا میں بتایا گیا کہ یہ ایک چھوٹا سویلین طیارہ تھا جس میں صرف دو افراد کا عملہ تھا۔ مزید بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں جل کر خاکستر ہو گئی تھیں البتہ طیارے کا بلیک باکس مل گیا تھا۔ اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ کہا گیا ہے کہ حادثے کا جو سبب بھی ہو گا،آئندہ چند روز میں اس کی تفصیلات میڈیا پر جاری کر دی جائیں گی، وغیرہ وغیرہ۔

لیکن یہ ساری خبریں جو اس طیارے کے کریش والے دن امریکی میڈیا پر بتائی گئیں جھوٹ کا پلندہ تھیں۔ نہ یہ طیارہ سویلین طیارہ تھا،نہ اس میں صرف دو افراد کا عملہ سوار تھا اور نہ یہ جہاز کسی فنی خرابی کی بناء پر کریش ہوا تھا…… اس کی تفصیلات تو ہم بعد میں کالم کی دوسری قسط میں قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے…… فی الحال یہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا میں اس خبر کی تفصیلات کس طرح بریک کی گئیں اور وہ کتنی نامکمل اور نادرست تھیں۔

پاکستان کا سوشل میڈیا کچھ عرصے سے بڑا فعال ہے۔ اس میں بعض ویب سائٹس پر ایسی ایسی خبریں آن ائر کی جاتی ہیں جو عجیب و غریب اور حیرت انگیز ہونے کی وجہ سے سنسنی خیز بھی ہوتی ہیں۔ناظرین و سامعین کو کہا جاتا ہے کہ ان کو دیکھنے اور سننے سے پہلے ان کو شیئرکرنے کا بٹن دبائیں تاکہ آپ کو آئندہ بھی ایسی ہی سنسنی خیز خبروں کے نوٹی فیکیشن بھیجے جا سکیں۔ بعض سادہ طبع ناظرین کو شائد معلوم نہ ہو کہ جس خبر کو جس قدر زیادہ شیئر کر رہے ہیں اس کی اصابت و صداقت اور قبولِ عامہ کو اتنا ہی زیادہ تیقّن (Credibility)”عطا“کر رہے ہیں اور یہی تیقّن اس خبر کی عددی قبولیت میں اضافہ کرکے ویب سائٹ بنانے والے کی جیب میں مالی اضافے کا موجب بنے گا۔ اس کالم کے قارئین سے درخواست ہے کہ سوشل میڈیا کے ان دھوکے بازوں سے بچیں۔ اس طرح سے بریک کی گئی خبر میں کوئی جدت نہیں ہوتی۔ اسے آپ مین سٹریم میڈیا پر پہلے ہی دیکھ اور سن چکے ہوتے ہیں۔ نیوز بریک کرنے والے کی لفاظی پر نہ جائیں۔ بظاہر آپ کا شیئر کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہو گا لیکن خبر کی عددی مقبولیت کا باعث بن کر ”خبرساز“ کومالی منفعت سے ”سرشار“ ضرور کر دے گا……

امریکی طیارے کے کریش کی بات ہو رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر بزعمِ خود جس ’خبرساز‘ نے اس کو بریک کیا اس نے اس کی سنسنی خیزی میں اضافہ کرنے کی غرض سے ایسی غلط سلط اور بے تکی تفصیلات بھی اس کے ساتھ نتھی کر دیں جو خلاف حقیقت تھیں۔اس خبرساز نے اس کریش کی خبر کو زیادہ ”گرم“ اور زیادہ ”سنسنی خیز“ بنانے کے لئے اپنی طرف سے یہ ”معلومات“ بھی آپ کو پہنچائیں کہ یہ امریکی طیارہ جس جگہ کریش ہوا وہ صوبہ غزنی کا ایک اہم مقام تھا، طیارہ طالبان کی جاسوسی کر رہا تھا اور چونکہ غزنی کی سرحد، پاکستان سے منسلک ہے اس لئے امریکہ اس جاسوس طیارے کے ذریعے وزیرستان کی علاقائی سروے لینس کا ارتکاب کرکے پاکستان کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ اور پھر ایک اور جھوٹ یہ بھی بولا گیا کہ غزنی کی سرحد چونکہ ایران سے ملتی ہے اس لئے ایرانی حکومت نے اس امریکی طیارے کو گرا کر اپنے جنرل سلیمانی کی موت کا انتقام لے لیا ہے، مزید یہ کہ اس طیارے میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے دو سے زیادہ جرنیل شامل تھے اور وہ ایران کی شمالی سرحدوں کی جاسوسی کر رہے تھے کہ اس کریشن میں دونوں ہلاک ہو گئے…… اللہ اللہ خیر سلّا!…… نجانے کتنے پاکستانیوں نے اس خبر کو سچ سمجھا ہو گا، اس وڈیو کو کتنے احباب کے ساتھ شیئر کیاہو گا اور خواہ مخواہ خبر ساز کو وہ مالی منفعت اور سیاسی وقعت اس کی جھولی میں ڈال دی ہو گی جو اس کا مقصود تھی۔

اس سے اگلے روز ایک اور پاکستانی چینل نے اس خبر کو سوشل میڈیا پر ڈالا اور سمیع ابراہیم نامی ایک اینکر نے بھی یہ خبر اس طرح بریک کی کہ غزنی کی سرحد، ایران سے ملتی ہے اور یہ امریکی طیارہ ایک ایرانی میزائل کی زد میں آکر کریش ہوا ہے اور ایرانیوں نے اپنے اس جنرل کی ہلاکت کا بدلہ لے لیا ہے جس کو بغداد ایئرپورٹ سے باہر آتے ہوئے ایک امریکی ڈرون نے نشانہ بنا کر جنرل کی کار کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔ میں سمیع ابراہیم صاحب کو ایک باخبر اینکر سمجھتا ہوں اس لئے خیال یہ بھی تھا کہ وہ ایک جانے پہچانے صحافی ہیں، پاکستان کے دلدادہ اور خیر خواہ ہیں اور ان کی گفتگو میں برجستگی بھی ہوتی ہے اور روانی بھی اس لئے جب وہ یہ خبر دے رہے ہیں تو ان کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔لیکن جب میں نے سنا کہ وہ یہ خبر بھی ”بریک“ کر رہے ہیں کہ غزنی کی سرحد، ایران سے ملحق ہے تو مجھے ان کی جغرافیائی معلومات کی ناتمامی اور ادھورے پن پر سخت کوفت ہوئی۔ غزنی، افغانستان کا ایک ایسا صوبہ ہے جو پاکستان کی مغربی سرحد کے اس پار واقع ہے اور سرحد سے کوئی زیادہ دور نہیں۔ غزنی صوبے کے صوبائی دارالحکومت کا نام بھی غزنی ہے اور ایک باخبر پاکستانی قاری کو تو غزنی کی شہرت اور اہمیت بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس شہر کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے لئے کئی کتابوں کی ضرورت ہو گی کیونکہ یہ شہر اور یہ صوبہ صدیوں تک افغان اہلِ لشکر کی آماجگاہ اور اہلِ دل کی آرام گاہ رہا ہے۔

علامہ اقبال 1933ء میں افغانستان تشریف لے گئے تھے اور کابل، غزنی اور قندھار کی زیارت کی تھی۔ کابل میں شہنشاہ بابر کے مزار پر حاضری دی اور غزنی میں سلطان محمود اور حکیم سنائی کے مزار پر بھی حاضر ہوئے۔ ان اسفار کا احوال ”پس چہ بائد کرد“ (مطبوعہ 1936ء) میں درج ہے۔ غزنی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

آہ غزنی آں حریمِ علم و فن

مرغزارِ شیر مردانِ کہن

دولتِ محمود را زیبا عروس

از حنا بندانِ او دانائے طوس

خفتہ در خاکش حکیمِ غزنوی

از نوائے او دلِ مرداں قومی

]ترجمہ: آہ وہ غزنی جو کبھی علم و فن کا گہوارہ اور شیر مرد مسلمانوں کا مسکن تھا۔ سلطان محمود غزنوی کا پایہ تخت بھی تھا اور دانائے طوس (فردوسی طوسی) ایک مدت تک یہیں قیام پذیر رہے۔ حکیم سنائی بھی یہیں مدفون ہیں کہ جن کے فرمودات سے دلوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے[

جیسا کہ اوپر لکھ آیا ہوں یہ شہر پاکستان کی مغربی سرحد سے افغانستان کا سفر کریں تو زیادہ دور نہیں۔ راقم السطور کا شوقِ دید بھی کشاں کشاں وہاں لے گیا لیکن گیارہویں صدی کا محمود غزنوی کا غزنی کہاں اور 20ویں صدی کے آخری عشرے کا لٹا پٹا اور ویران غزنی کہاں!…… سخت مایوسی ہوئی تھی…… مجھے یقین ہے کہ سمیع ابراہیم صاحب جیسے صحافی کو بھی یہ شوق غزنی لے گیا ہو گا لیکن نجانے انہوں نے یہ کیسے کہہ دیا کہ غزنی کی سرحد، ایران سے ملحق ہے۔ اور نہ صرف یہ بلکہ اسی وڈیو میں یہ ”انکشاف“ بھی کیا کہ ایران نے اپنی سرزمین سے کوئی میزائل فائر کرکے اس جاسوس امریکی طیارے کو مار گرایا اور اپنے ایک عسکری سپوت کی موت کا انتقام لے لیا۔ یہ دونوں باتیں (غزنی کا ایرانی سرحد سے ملحق ہونا اور وہاں سے کسی ایرانی میزائل کا فائر کرکے اس امریکی طیارے کو مار گرانا) غلط ہیں۔

مجھے یقین ہے جس کسی نے بھی اس طیارے کے کریش کو کسی جغرافیائی قربت کا سبب سمجھ کر اسے ایرانی انتقام کا شاخسانہ بتایا ہے اس نے گویا ایک جغرافیائی بلنڈر کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ایرانی خود یہ خبر بریک کرتے اور کہتے کہ ایران نے ایک ایسے امریکی ملٹری طیارے کو اپنی سرزمین سے میزائل مار کر تباہ کر دیا ہے جو غزنی سے ایران کی شمال سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جب 8 جنوری کو ایران نے بغداد کے الاسد امریکی مستقر ((Baseپر حملہ کیا تھا اور اس میں 64امریکی فوجی شدید مضروب ہو گئے تھے تو 22عدد ایرانی میزائلوں نے 600کلومیٹر فاصلہ طے کرکے اپنے ہدف کو جا لیا تھا۔ شمالی ایران کی سرزمین سے افغانستان کا صوبہ غزنی عراق کے الاسد مستقر سے تو کچھ زیادہ دور نہ تھا!لیکن افغانستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ اس کی فضاؤں میں میزائل فائر کرکے کسی طیارے کو مار گرانا قرینِ قیاس نہیں …… اس طرح کی حرکت اسرائیل ہی کر سکتا ہے!

اصل بات یہ ہے کہ عسکری موضوعات کی رپورٹنگ اور سیاسی رپورٹنگ میں فرق ہے۔ سیاسی رپورٹنگ میں اگر اس قسم کی فروگزاشت ہو جائے تو اس سے چنداں فرق نہیں پڑتا لیکن عسکری واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ازحد احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔لیکن آج کل تو گوگل نے ان جغرافیائی مشکلات کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ مقام الف سے مقام ب تک کا فاصلہ معلوم کرنے کے لئے آپ کو اپنے سمارٹ موبائل پر صرف ایک دو انگلیوں کی ضرب درکار ہوتی ہے اور مقامِ مطلوبہ کا چھ ہندسی حوالہ،حدود اربعہ اور محل و قوع آپ کے سامنے آپ کی ہتھیلی کی طرح پھیل جاتا ہے۔ مغربی میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک) میں تو جب بھی کسی مقام کی نشان دہی کرنا مقصود ہو تو اس کا خاکہ / نقشہ سکرین پر پھیلا دیا جاتا ہے یا اخبار کے مضمون / کالم میں طبع کرکے اس کی نشان دہی کر دی جاتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ساتھ ہی سکیل بھی دے دیا جاتا ہے تاکہ ناظر یا قاری کسی معروف جغرافیائی فیچر سے اس مقام کی دوری یا نزدیکی کا اندازہ لگا سکے۔

مغربی میڈیا میں نہ صرف یہ کہ کسی لوکیشن کو ناظر / قاری کے ذہن نشین کروانے میں زیادہ مشکل کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ اس لوکیشن کے اردگرد کے علاقوں کو بھی نشان زد کر دیا جاتا ہے۔ اردو پرنٹ میڈیا میں بھی اگر اس روائت کی پیروی کی جائے تو اس سے بہتوں کا بھلا ہو گا۔ اور آج کل تو ایسا کرنا ہرگز کوئی مشکل کام نہیں۔ اردو پرنٹ میڈیا کا کالم نگار اگر اپنے کالم میں اخبار کے ادارتی صفحہ کے انچارج کو یہ درخواست کر دے کہ فلاں مقام / جگہ کا خاکہ / نقشہ فلاں جگہ دے دیاجائے تو میرا خیال ہے متعلقہ انچارج کو ایسا کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں ہو گا اور قاری کی معلومات میں یہ اضافہ بہت گراں قدر ہو گا…… اب آتے ہیں اس طیارے کے کریش کی وجوہات، واقعات اور نتائج کی جانب…… (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم