رئیل اسٹیٹ سیکٹر حکومتی ترجیح نہ بن سکا

رئیل اسٹیٹ سیکٹر حکومتی ترجیح نہ بن سکا

  



پراپرٹی کی سیلز پرچیز بند ہونے کے بعد دفاتر بند ہونے لگے

بلڈرز اور ڈویلپرز کا کاروبار بھی بُری طرح متاثر

NABاورFBRکا خوف کم نہیں ہوا

ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی طرف سے دفاتر کی رجسٹریشن اور سروسز ٹیکس مسلط کرنے سے بحران مزید بڑھ گیا

حکومت اگر ملکی معیشت کی مضبوطی اور پٹری پر چڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے تو رئیل اسٹیٹ سیکٹر ز کی سرپرستی کرے اور ملک بھر میں CVTاور اشٹام ڈیوٹی یکساں نافذ کرے،ٹیکس کے نظام کو فرینڈلی بنائے

سینئر رئیل اسٹیٹ ایجنٹس /بلڈرز/ڈویلپرز طارق منیر،ابو بکر بھٹی،میاں طلعت احمد،نواز غنی،ملک نصیر احمد،میجر غلام محیی الدین،چودھری عتیق جوئیہ،اظہر جی ایم اعوان،عرفان میو،منظور چودھری،ارشد نجمی،ذو الفقار حسن،اسلم پاکستان،احسان الرحمن چودھری،عمران مغل،ملک امجد،میاں عرفان،مظہر سعید باجوہ،محمد ےٰسین چشتی،چودھری انوار الحق اور سید احسان الرحمن بخاری کی روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو۔

(کیپشن)

طارق منیر

نواز غنی

میاں طلعت احمد

ابو بکر بھٹی

میجر غلام محیی الدین

سید احسان الرحمن بخاری

اظہر جی ایم اعوان

عرفان میو

ملک نصیر احمد

منظور چودھری

ارشد نجمی

ذو الفقار حسن

اسلم پاکستان

احسان الرحمن چودھری

عمران مغل

ملک امجد

میاں عرفان

چودھری عتیق جوئیہ

مظہر سعید باجوہ

محمد ےٰسین چشتی

چودھری انوار الحق

مزید : ایڈیشن 1