آئی جی سندھ تنازع اورسانحہ پی آئی سی انکوائری،پولیس مورال ڈاؤن ہوا

آئی جی سندھ تنازع اورسانحہ پی آئی سی انکوائری،پولیس مورال ڈاؤن ہوا
آئی جی سندھ تنازع اورسانحہ پی آئی سی انکوائری،پولیس مورال ڈاؤن ہوا

  



پاکستان کے ہر صوبے میں آئی جی پر سکون انداز میں کام کر رہے ہیں لیکن سندھ میں کوئی بھی آئی جی آجائے مشکل میں رہتا ہے۔ اس کے آنے سے پہلے تنازع،آنے کے بعد تنازع، تبدیلی کے لیے وفاق سے کشیدگی، پولیس کا نظام تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ اگر تنازع کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے موقف کو الگ الگ دیکھا جائے تو دونوں ہی درست نظر آرہے ہیں۔ وفاق کا کہنا ہے کہ آئی جی کا تقرر وفاق کا حق ہے تو وہ اپنا حق استعمال کر رہا ہے۔ صوبہ کہتا ہے کہ ہم نے پانچ نام بھیجے وفاق نے چھٹا آدمی آئی جی بنانے کا اعلان کر دیا۔ اس سے قبل صوبے نے تین نام بھیجے تو وفاق نے مزید دو نام مانگ لیے۔ دونوں کی بات مان لی جائے تو آئی جی کا تقرر وفاق کا اختیار ہے اور نام دینا صوبے کا، لیکن اس معاملے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ان دونوں حکومتوں کے اختیار سے زیادہ ذمہ داری سے تعلق بنتاہے۔ آئی جی کا منصب متنازع ہو جائے تو کام کیا ہوگا۔ وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ ایسا آدمی چاہیے جو حکومت کے احکامات کے مطابق کام کرے، جی حضوری کرنے والا نہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ صوبے کو آئی جی نہیں ”آیا جی“ ہی چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آئی جی کی سطح کا افسر آئین اور قانون کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔ اس قسم کی بحثوں اور میڈیا پر ایک دوسرے پر الزامات سے دونوں حکومتوں کا کچھ بھلا نہیں ہوگا۔

سارا نقصان آئی جی کے منصب کو بے توقیر کرنے اور صوبے کے امن وامان کا ہوگا۔ بلاول زرداری کا یہ کہنا درست ہے کہ اسلام آباد کے آئی جی اعظم سواتی کی شکایت پرغریب خاندان کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر تبدیل کر دیا تھا۔ اس تنازع میں زیادہ قصور وفاق ہی کا نظر آتا ہے۔ البتہ یہ سارا معاملہ سیاست کا ہے اس سے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاق چند روز میں آئی جی تو بدل دے گا لیکن آئی جی کلیم امام سے وزیراعظم نے سندھ میں کرپشن اور یہاں دباؤ ڈالنے والوں کے نام پر مشتمل رپورٹ لے لی ہے۔ عمران خان وزیراعظم رہیں یا کوئی اور ہو یہ رپورٹ مستقبل میں ضرور کسی کے کام آئے گی۔بڑی افسوس ناک بات ہے کہ کلیم امام کا الوداعی تقریب میں خطاب انہیں ہٹانا آسان نہیں جانے کی صورت میں ”ہاتھی سوا لاکھ کا “ڈسپلن فورس کے سربراہ کی یہ بات بغاوت کے زمرے میں آتی ہے، متنازع آئی جی کے ساتھ وزیراعظم کی بیٹھک اور تشہیر مثبت نہیں۔حقیقت میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں ایک جیسا پولیس نظام نہیں ہے اور سیاسی مصلحتوں کے مطابق مختلف نوعیت کے پولیس نظام تشکیل دیے گئے ہیں 2002کے پولیس ایکٹ میں پولیس کو سیاسی مصلحتوں سے آزاد کرانے کے لیے آئی جی پولیس کی تعیناتی کی مدت مقرر کی گئی تھی تاکہ اس سے پہلے اس کا تبادلہ نہ کیا جا سکے پولس کے اندرونی تبادلوں کا اختیار آئی جی کو دیا گیا،

پولیس کے احتساب کے لیے ایک مثالی نظام بھی قائم کیا گیا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا تاکہ ان کے ذاتی مفادات بلا رکاوٹ آگے بڑھتے رہیں۔بیان کرتے چلیں لاہور میں تقریباً دو ماہ قبل پیش آنے والے سانحہ پی آئی سی واقعہ کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کے لیے دو ایسے ایس پی صاحبان کو ذمہ دار قرار دیدیاگیا ہے جن کا تعلق پنجاب سے نہیں بلوچستان سے ہے توجہ طلب بات یہ ہے کہ جو وکلاء سانحہ سے کئی روز قبل سرگرم مظاہرے کرتے،آئی جی آفس کا گھیراؤ کرتے اپنے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے نظر آرہے تھے وہ سٹی ڈویژن سیشن کورٹ سے چل کرسول لائن ڈویژن کراس کرکے ماڈل ٹاؤن ڈویژن کی حدود میں پہنچتے اور حملہ آور ہوئے،کیا انھیں روکنا صرف ایس پی سول لائن کی ذمہ داری تھی،سٹی اور ماڈل ٹاؤن کے ایس پی بری الزمہ ہیں؟ وکلاء کو کچلنے کا حکم سی سی پی او لاہور کی بجائے کیا ایس ایس پی آپریشنزنے دینا تھا ایس پی دوست محمد اور محمد نویدکو سانحہ پی آئی سی کا ذمہ دار قرار دینا کسی صورت بھی درست نہیں ہے یہ فیصلہ انتہائی جانب دار اور متعصب دکھائی دیتاہے صرف سی سی پی او لاہور کو بچانے کے لیے انھیں قربانی کا بکرا بنا نا وزیر اعظم عمران خان اور چیف سیکرٹری کے ویژن کی عکاسی نہیں کر تا،اس سے محکمے میں بددلی جنم لیتی ہے اور فورس کا مورال بھی ڈاؤن ہو تا ہے۔

مزید : رائے /کالم