ہلاکتوں کی تعداد 304ہو گئی، مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستان سمیت تمام دوست ممالک کے شکر گزار ہیں، چین، کرونا سے ہلاک ہونیوالوں کی آخری رسومات پر پابندی، بلوچستان میں چینیوں کی نقل و حمل روک دی گئی

ہلاکتوں کی تعداد 304ہو گئی، مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستان سمیت تمام دوست ...

  



بیجنگ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چین نے مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کوروناوائرس کے حوالے سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے، پاکستان، روس، کوریا، بیلاروس، فرانس، جرمنی، ملائشیا اور یونیسف اس وائرس سے نمٹنے میں ہماری مدد کررہے ہیں، ہم مشکل میں ساتھ دینے والے ان تمام دوستوں کے شکرگزار ہیں۔ترجمان چینی دفترخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا ووہان سے شہری نہ نکالنے کا فیصلہ چین پر اعتماد کا اظہار ہے،پاکستانی وزیر خارجہ سے چینی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے چینی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کا چینی وزیراعظم کے لیے پیغام پہنچایا ہے چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے شاہ محمود قریشی کی چینی ہم منصب کے ساتھ ٹیفونک بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاہ محمودقریشی نے چین کوکرونا کی روک تھام پرہر ممکن مددکی پیشکش کی ہے،پاکستان جلد چین کے لیے طیارے سے طبی سامان روانہ کریگا، مشکل کی گھڑی میں پاکستانی عوام چین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو بھروسہ ہے چین پاکستانیوں کا تحفظ یقینی بنائے گا۔چین کی فوج کو نئے مکمل ہونے والے فیلڈہسپتال کا کنٹرول دیدیا گیا ہے جہاں جان لیوا وائرس وباء کے گڑھ میں مریضوں کو علاج فراہم کیا جائے گا جس سے طبی مراکز شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق لگ بھگ1400فوجی طبی اہلکار”فائرگاڈ مونٹین“ نامی ایک ہزار بستروں کے ہسپتال میں مریضوں کا علاج کریں گے جہاں اس کے پہلے مریض تعمیری کام شروع ہونے کے دس روز بعد سوموار سے آنا شروع ہو جائیں گے۔ دوسری طرف چین کے مشرقی شہر وین ژو کے حکا م کی جانب سے مہلک کرونا وائرس کے گڑھ سے باہر کیے گئے مزید سخت اقدامات میں اتوار کو شہریوں کی نقل و حرکت محدود اور سڑکیں بند کردیں۔ 9ملین آبادی کے شہر کے حکام نے کہا ہے کہ ہر ایک گھر سے صرف ایک شخص کو ہر دو دن بعد ضروری اشیاء کی خریداری کے لئے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی جبکہ شاہراہوں کے 46 سٹیشنز کوبند کردیا گیا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں ہوبائی صوبے کے باہر سب سے زیادہ 661 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 265 کیسز وین ژو میں آئے ہیں چینی حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں نئے کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی تصدیق شدہ اموات کی تعداد 304 ہوگئی ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ ھوبی میں اس مہلک وائرس کے نتیجے میں مزید 45 افراد جان کی بازی ہار گئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صوبہ ہوبی کے ہیلتھ کمیشن کے ذریعہ شائع ہونے والے تفصیلات سے ظاہر ہوا کہ وبا پھیلنے مزید میں تیزی آئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں 1921 نئے کرونا متاثرین کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے بعد اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہزار 380 تک جا پہنچی ہے۔۔۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والوں میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق ہوبئی سے ہے جہاں کوروناوائرس کے مزید1921 کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔چینی حکام نے صوبے ہوبے میں آحری رسومات میں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) نے ہفتے کے روز ایک نیا قانون جاری کیا گیا ہے، این ایچ سی کے اعلامیے میں بیان کیا گیا کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی الوداعی یا آخری رسومات ادا نہیں کی جائیں گی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافے اور وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیشِ نظر کیا گیا ہیدوسری طرف روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کرونا وائرس کے پھیلنے پر قابو پانے میں مدد کے لیے چین کے بغیر ویزا کے سیاحوں کا سفر معطل کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی حکومت کے ایک حکمنامے میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں میں 2000ء میں طے پائے بغیرویزہ سیاحت کے پروگرام کومعطل کردیا جائے گابرطانیہ نے بھی چین میں مہلک کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اپنے سفارت خانہ اور قونصل خانوں سے عملہ کے بعض ارکان کو واپس بلا لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ 31 جنوری سے چین میں برطانوی ایمبیسی اور قونصل خانوں سے بعض عملہ اور ان کے لواحقین کو واپس بلایا جارہا ہے۔ البتہ ناگزیرکام نمٹانے کے لیے ضروری عملہ وہیں موجود رہے گا۔متحدہ عرب امارات کی وزارت صحتِ نے کرونا وائرس سے متاثرہ ایک نئے مریض کی تشخیص کی تصدیق کی ہے۔یہ شخص چین کے اس مہلک وائرس سے سب سے متاثرہ شہر ووہان سے یو اے ای لوٹا ہے۔دوسری طرف ا توار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر یاؤجنگ نے کہا ہے کہ ووہان شہرمیں کوئی پاکستانی کروناوائرس سے متاثر نہیں ہوا جبکہ پاکستان میں وائرس سے متاثرہ کوئی چینی باشندہ نہیں، حکومت پاکستان کا فوری طور پر پاکستانیوں کو چین سے نہ نکالنے کا فیصلہ ذمہ دارانہ ہے، چین میں مقیم پاکستانیوں کو مشورہ ہے کہ چودہ دن میں اسکریننگ مکمل کرا کے پاکستان آئیں،جنوبی چین میں چار پاکستانی کروناوائرس سے متاثر ہوئے، ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے، پاکستانیوں کو صحتیاب ہونے پر چند روز میں ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا، ایسے وقت میں پاکستانی عوام اور حکومت کی طرف سے اظہار یکجہتی پر شکر گزار ہیں۔ چین میں اس وقت کروناوائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد 14ہزار ہے، چین میں 20ہزار افراد کو کروناوائرس سے متاثر ہونے شبہ ہے۔ اس بیماری سے نمٹنے کے معاملے کی نگرانی چین کے صدر اور وزیراعظم کر رہے ہیں، ایسے وقت میں پاکستانی عوام اور حکومت کی طرف سے اظہار یکجہتی پر شکر گزار ہیں۔

چین ہلاکتیں

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)بلوچستان میں کورونا وائرس کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سینکڑوں چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر تا حکم ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے گوادر کی بندگارہ اور سونے کے وسیع ذخائر والے ضلع چاغی کے سیندک پروجیکٹ سمیت متعدد منصوبوں پر اس وقت کئی چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر اہلکار شوکت بلوچ کے مطابق پورے بلوچستان میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکررونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو کے حوالے سے بلوچستان سب سے حساس ہے اس وقت تین اضلاع گوادر، لسبیلہ اور چاغی میں چینی ملازمین کی کثیر تعداد موجود ہے۔ اس وائرس سے بچاو کے لہے صوبے کے تمام ہوائی اڈوں پر محکمہ صحت کے اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان حکومت نے طبی مایرین پر مشتمل ایک 14 رکنی خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جو کورونا وائرس کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کرے گی شوکت بلوچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بلوچستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں قرنطینہ وارڈز قائم کیے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے لیے ایک موثر حکمت عملی بھی وضع کر لی گئی ہے انہوں نے مزید کہا، ''بلوچستان میں چونکہ چینی ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے ان کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔ حکومت ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے، جس سے اس خطرناک وائرس سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹا جا سکے۔ عوام میں کورونا وائرس سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ایک آگہی مہم بھی شروع کی گئی ہے، تاکہ شہری خود بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر سکیں گوادر کی بندرگاہ پر تعینات ایک وفاقی محکمے کے ایک سینئر اہلکار نوید ظفر نے بتایا کہ گوادر میں چینی ملازمین کی آمد و رفت اور نقل و حرکت محدود کرنے سے پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک منصوبے کے کام کے حوالے سے تاحال کوئی منفی اثر نہیں پڑا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''یہ بہت حساس معاملہ ہے اور حکومت اس ضمن میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔ یہاں جو چینی ملازمین کام کرتے ہیں، انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں اپنی نقل و حرکت ہر حوالے سے محدود رکھیں۔ جو چینی ملازمین یہاں مختلف منصوبوں پر کام کر ر ہے تھے لیکن اس وقت چھٹیوں پر واپس چین گئے ہوئے ہیں، انہیں بھی وہیں روک دیا گیا ہے اور انہیں تا حکم ثانی واپس آنے کی اجازت نہیں ہو گی نوید ظفرکا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چند ملازمین جو حال ہی میں چین سے واپس پاکستان آئے تھے، ان کی بھی کراچی میں اسکریننگ کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا، ''طبی ماہرین کی جو ٹیم ہم نے کورونا وائرس کے حوالے سے تشکیل دی ہے، وہ مختلف زاویوں سے کام کر رہی ہے۔ اب تک جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ ہر حوالے سے جامع ہیں۔ یہاں چینی ملازمین کی موجودگی کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا زیادہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں موجود تمام چینی ملازمین کی اسکریننگ حکومت کی اولین ترجیح ہے پاکستان میں چینی ملازمین کی ایک کثیر تعداد ضلع چاغی کے نواحی علاقے سیندک میں سونے اور تانبے کے وسیع تر ذخائر سے متعلق منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ چند روز پہلے سیندک پروجیکٹ کے ملازمین میں سے دو افراد کے کورونا وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے کا دعوی سامنے آیا تھا، تاہم متعلقہ حکام نے اس دعوے کی باقاعدہ تردید کر دی تھی۔ بلوچستان میں اب تک کورونا وائرس کا کوئی ایک بھی کیس رپورٹ نہیں کیا گیا کورونا وائرس کی صرف خدشے سے ہی پاکستان چین تجارت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے تاجر چین سے ہر سال اربوں روپے مالیت کا الیکٹرانکس کا سامان، زرعی ادویات، کاسمیٹکس، گارمنٹس اور دیگر اشیادرآمد کرتے ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، پشین اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے درجنوں تاجر بھی چین کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ چین میں موجود ان تاجروں میں سے ایک غلام ولی بھی ہیں، جو الیکٹرانکس کے کاروبار سے منسلک ہیں اور چین سے الیکٹرانک مصنوعات خریدنے کے لیے وہاں گئے تھے کوئٹہ میں مقیم غلام ولی کے بڑے بھائی غیاث الدین نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بھائی کی گھر واپسی کے لیے ان کا پورا خاندان بہت فکر مند ہے۔

بلوچستان پابندیاں

مزید : صفحہ اول