مقبوضہ کشمیر، کلگام میں بھارتی فوجیوں کا دکانداروں پر تشدد، سرینگر میں گرنیڈ حملہ، 4افرادزخمی

مقبوضہ کشمیر، کلگام میں بھارتی فوجیوں کا دکانداروں پر تشدد، سرینگر میں ...

  



سرینگر،جموں،مانچسٹر (نیوزایجنسیاں)سرینگر میں بھارتی فورسز پر دستی بم کے ایک حملے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے دو اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے پرتاب پارک سرینگر میں تعینات سی آر پی ایف اہلکاروں پردستی بم سے حملہ کیا جس سے دو اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی فورسز نے حملے کے فوراً بعد علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جبری گمشدگی سے متاثرہ کئی والدین اپنے لخت ہائے جگر کی جدائی کے غم میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ہیں اورضلع ڈوڈہ کے علاقے دھار کاستی گڑھ سے تعلق رکھنے والے 91برس کے غلام محمد بھی ان میں شامل ہیں جن کا چند روز قبل انتقال ہوا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق غلام محمد کی 17سالہ بیٹی ممتازہ ایف اے کی طالبہ تھیں جب بھارتی فوجی اہلکار سن 2000ء میں رات کے اندھیرے میں ان کے گھر میں گھس گئے اور گھر والوں کو ایک کمرے میں بند کرکے ممتازہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔غلام محمد20سال تک اپنی بیٹی کی بازیابی کیلئے قابض انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دروازوں پر دستک دیتے رہے۔قابض انتظامیہ نے اْسے خاموش رہنے کے لیے چھ لاکھ روپے کی پیش کش کی جو اس نے ٹھکرادی۔مقامی لوگوں کے مطابق ممتازہ کی بڑی بہن19سالہ فریدہ بھی جس نے ممتازہ کو زبردستی لے جانے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اپنی چھوٹی بہن کے غم میں زندگی کی بازی ہار گئی ہے۔یہ کاستی گڑھ ڈوڈہ کے 91سالہ بزرگ غلام محمد بٹ کی بیٹی کاایک قصہ ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایسی کئی مائیں اور بہنیں ہیں جو بھارتی قابض فوجیوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ان کے والدین اور بھائی بہنیں اْن کی جدائی کے غم میں روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں، ماؤں، بہنوں اور بچوں پر یہ ظلم وستم کب تک جاری رہے گا کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں ضلع کولگام کے علاقے دمہال ہانجی پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ہراساں کیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے علاقے میں دکانداروں کوبے رحمی سے ماراپیٹاجس سے چھ دکاندار زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے دمہال میں دیواروں اور سڑکوں پر آزادی کے حق میں پوسٹر دیکھے تووہ آپے سے باہر ہوگئے اور جو بھی ان کے راستے میں آگیا اس کوپیٹنا شروع کردیا۔زخمی دکانداروں کو قریبی اسپتال لے جایا گیاجبکہ شدید زخمی افراد کو خصوصی علاج کے لئے کولگام کے ضلع اسپتال منتقل کیا گیا۔جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل نے برطانیہ کے شہرآسٹن انڈر لائن مانچسٹر سے ”ہفتہ یکجہتی کشمیر“ کی تقریبات کا آغاز کر دیا۔ ہفتہ یکجہتی کشمیر کی افتتاحی تقریب وومین کیمونٹی گروپ کی چیئر پرسن نائلہ شریف اور اُن کی ٹیم کے تعاون سے منعقد کی گئی جس کی صدارت تحریک حق خودارادیت کے چئیرمین راجہ نجابت حسین نے کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیڈو سیکرٹری برائے تعلیم اور لیبر پارٹی میں ڈپٹی قائد کی امیدوار آرٹی انجیلا رینر ایم پی(Rt Hon Angela Rayner MP)، تقریب میں شریک لیبر پارٹی کے ممبران برطانوی پارلیمنٹ اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کشمیری کیمونٹی اور باالخصوص تحریک حق خوارادیت کی ٹیم کو یقین دلایا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور اس مقصد کے لئے اپنی پارٹی اور برطانوی پارلیمنٹ کے اندر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

کشمیر

مزید : صفحہ اول