مالیاتی خسارہ 9.4فیصد، ملک پر قرضوں کا حجم402کھرب سے تجاوز کر گیا

  مالیاتی خسارہ 9.4فیصد، ملک پر قرضوں کا حجم402کھرب سے تجاوز کر گیا

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزارت خزانہ کے مالی سال 20۔2019 سے متعلق جاری کردہ پالیسی بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سال میں سٹیٹ بینک کے منافع میں 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اورمنافع میں کمی سے متعلق جواز پیش کیا گیا کہ روپے کی قدر گرنے سے اسٹیٹ بینک کو بیرونی ادائیگیوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔وزارت خزانہ کے مطابق 19-2018 میں اسٹیٹ بینک کے منافع کا ہدف 280 ارب روپے تھا تاہم منافع صرف 12 ارب 50 کروڑ روپے رہا۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ 18-2017 میں اسٹیٹ بینک کا منافع 233 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وزارت کے بیان کے مطابق گزشتہ 5 برس تک اسٹیٹ بینک کا نان ٹیکس آمدن میں حصہ اوسط 30 فیصد رہا جبکہ مالی سال 2014 تا 2018 کے دوران حکومت کے لیے اسٹیٹ بینک کا منافع نان ٹیکس ریونیو کا اہم ذریعہ رہا۔ ایک سال میں نان ٹیکس آمدن ہدف کے مقابلے میں 408 ارب روپے کم رہی جبکہ 19-2018 میں نان ٹیکس آمدن کا ہدف 772 ارب روپے تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق 19-2018 میں نان ٹیکس آمدن کا حجم 364 ارب روپے رہا تھا۔اسی طرح سرکاری اداروں کے مارک اپ (شرح سود) کی آمدن 123 ارب روپے ہدف کے مقابلے میں صرف36 ارب روپے رہی۔اسی طرح پی ٹی اے کی نان ٹیکس آمدن 20 ارب روپے ہدف کے مقابلہ میں 18 ارب 20 کروڑ روپے رہی جبکہ سال 19-2018 میں تیل اور گیس کی رائلٹی کی نان ٹیکس آمدن 88 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔10 جنوری 2020 کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 8.230 کروڑ ڈالر کے اضافے سے 11.586 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد ہی اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ملک کے مجموعی ذخائر 3.88 کروڑ ڈالر سے 18.123 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے تھے۔علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ مالی سال 2018-19کے اختتام تک مجموعی قرض اورواجبات میں 35فیصد کااضافے کیساتھ قرضوں کا مجموعی حجم 402کھرب روپے سے تجاوز کرگیاہے۔ حکومتی اعدادوشمارکے مطابق قرضوں میں 100کھرب 34ارب 40کروڑروپے کا اضافہ ہوا اور قرضوں کا مجموعی حجم 402 کھرب 23ارب 30کروڑروپے تک پہنچ گیا۔وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2018-19کے دوران وفاقی مالیاتی خسارہ 9.4فیصدتک پہنچ گیا، جو 4فیصد کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔زیرغور عرصے میں پاکستان نے 31کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں دیئے، قرضوں کی ادائیگی بجٹ میں مختص کی گئی رقم سے زائد رہی۔وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2018کے اختتام پر مجموعی قرض اور واجبات 290کھرب 87ارب 90کروڑ روپے تھے، ستمبر 2019تک اس میں 110کھرب 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور مجموعی قرضے 410کھرب 48ارب 90کروڑ روپے تک جا پہنچے۔وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2019-20میں ایک غیر متوقع اور یکطرفہ عنصر وفاقی مالیاتی خسارے کی مد میں جی ڈی پی کا 2.25فیصد رہا۔15ماہ میں حکومت کا مقامی قرض 38فیصد سے بڑھ کر 62کھرب 34ارب روپے ہوگیا جبکہ اسی عرصے کے دوران غیر ملکی قرض میں بھی 36فیصد اضافہ ہوا اورقرضے 77کھرب 96ارب سے 105کھرب 9ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔

مجموعی قرضے

مزید : صفحہ اول